سونے کو کندھن بنائیے باعث افتخار انجینئر افتخار چودھری

پی ٹی کے نوجوان کے لئے ہمارے پاس کیا ہے؟پتہ نہیں جب پریشان ہوتا ہوں تو کیوں اعجاز چودھری کو سوچتا ہوں۔مجھے لگتا ہے رائٹ مین فار دی رائٹ جاب یہی ہے کہ قومی سطح پر اعجاز بھائی کو یہ ذمہ داری دی جائے کہ جو تحریک انصاف کے جوانوں کو تربیت دیں۔جوان کیا سب کے لئے تربیت کا انتظام کیا جائے۔جو میرے ذہن میں خدوخال ہیں وہ کچھ یوں ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف کی رکنیت کو تین مرحلوں میں تقسیم کیا جائے ایک مرحلے پر وہ لوگ ہوں جو پی ٹی آئی کے پروگرام کی حمائت کرنے والے ہوں دوسرے مرحلے پر وہ لوگ ہوں جنہوں نے ایک مخصوص کورس پاس کیا ہو اور تیسرے مرحلے میں وہ لوگ ہوں جنہوں نے ایک مخصوص مدت پارٹی کے لئے وقف کر رکھی ہو۔خزانہ مل جانا کوئی بڑی بات نہیں لیکن بڑی بات تو اسے سنبھالنے کی ہے۔تحریک انصاف کو اللہ نے جوانوں کی ایک ایسی کھیپ دی ہے جو اللہ تعالی کی خاص مہربانی ہے۔لیکن سوچتا ہوں کیا یہ نوجوان صرف جلسوں کی رونق ہوں گے؟ان کی صلاحیتوں کو کون چمکائے گا؟قائد اعظم محمد علی جناح نے ان طلباء ے عظیم کام لیا جناب حمید نظامی کی قیادت میں یہ لوگ دو قومی نظریئے کی تعلیم دینے دیہات میں پھیل گئے۔وہ لوگ جو پاکستان کو نہیں سمجھ سکتے تھے انہیں سمجھایا اور بتایا کہ پاکستان ہے کیا؟وہاں کیسے رہیں گے؟اس ملک میں آپ کو کیا سہولیات ملیں گی کیسے جئیں گے ہم لوگ؟میں آپ کو جذباتیت میں نہیں لے جانا چاہتا لیکن ہمیں سوچنا ہو گا کہ کہ آج کا نوجوان کہاں کھڑا ہے؟اگر کوئی کام اچھا ہو رہا ہو تو اس کی کاپی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔جمیعت کے تربیت یافتہ پاکستان تحریک انصاف میں اپنی ذمہ داریاں بخوبی انجام دے رہے ہیں۔آئی ایس ایف کو بھی انہی خطوط پر تربیت دی جائے۔مرکزی مجلس عاملہ کے اجتماع میں جناب چیئر مین کو یہی تجویز دی تھی کہ دو عشروں کے بعد بھی ہم وہیں کھڑے ہیں جہاں سے سفر شروع کیا تھا۔پی ٹی آئی میں بھانت بھانت کی بولی بولی جاتی ہیں کوئی لیفٹ کا ہے تو لگتا ہے کہ لیننن اور مارکس اس کے گھر کے برتن دھوتے ہیں رائیٹ والے بھی انتہائوں پر کھڑے نظر آتے ہیں۔ممتاز قادری کی شہادت پر یہ تضاد بڑاکھل کر سامنے آیا۔اور یہ بات پارٹی کی قیادت کے سامنے بھی رکھی گئی تھی۔ہم جب علامہ اقبال کی بات کرتے ہیں تو ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ اقبال نے خود اس قسم کے حالات میں کیالائحہ ء عمل اختیار کیاْدھرنے کے دنوں میں پاکستان تحریک انصاف کے طرز عمل کو منفی انداز میں پیش کیا گیا۔اعتدال سے انحراف کی وجہ سے مذہبی حلقوں میں ہمیں مشکل پیش آئی اور آ رہی ہے۔تحریک انصاف کو ابھی یہ ثابت کرنا ہے کہ یہ غریبوں کی پارٹی ہے۔میں نے ملاحظہ کیا ہے کہ ہم اس معاملے میں لوگوں کے سامنے ایلیٹ کلاس کے نمائیندے بن کر سامنے آئے ہیں خصوصا ہماری بہنوں اور بیٹیوں نے اس تآثر کو زیادہ پیش کیا ہے۔کوئی بھی تنظیم جماعت تربیت کے بغیر کچھ نہیں۔میں نے دیکھا ہے کہ ہم نے یو این او کی جانب سے خواتین کی تربیتی پروگرام رکھے ہیں۔اب ذرا سوچئے کہ یو این او کا پروگرام ان کی این جی اوز کیا علامہ اقبال کا پاکستان دیں گی کیا وہ حضرت قائد اعظم اورچودھری رحمت علی کے خواب کی تعبیر دیں گے۔اگر جواب نہیں میں ہے تو پھر کس نے یہ کام کرنے ہیں؟یاد رکھئے ہجوم انقلاب نہیں لایا کرتے یہ مخصوص ٹولہ ہوتا ہے جو تبدیلی لاتا ہے۔پاکستان تحریک انصاف کا بنیادی مقصد ہر سطح کا انصاف لانا ہے۔میں نوید افتخار(بیٹے) سے ملنے والے نوجوانوں سے مل کر اور فکر مند ہوا کہ ہم اس نوجوان نسل کو ایک نئے پاکستان کا خواب تو دکھا رہے ہیں لیکن ہم نے ان کی تربیت کے لئے ان کی نوکریوں کے لئے کچھ نہیں کیا۔ہماری صفوں میں احسن رشید (مرحوم) جیسے لوگ اب بھی ہیں ذوالقرنین علی خان بھی ہیں جنہوں نے جدہ میں انصاف ویلفیئر سوسائٹی کی بنیاد رکھی اسکول قائم کیء تھر کی خشک سالی پر وہاں کنویں کھدوائے۔کیا ایک احسن رشید کے مرنے سے سب کچھ ختم ہو گیا ؟کیا عمران خان ہی کا کام ہے کہ وہ کینسر ہسپتال اور نمل کالج بنائے۔میں نے ایک پروگرام الکاسب کے نام سے تین سال پہلے دیا تھا کاش کوئی اس میل کوکھول کر ہی پڑھ لیتا۔اور فنی تدریبی اداروں کا جال پھیلا دیتا تو ہم کے پی کے سے اپنے پانچ لاکھ لوگ مڈل ایسٹ میں کھپا سکتے تھے۔اب بھی ہنر مندوں کی بڑی ضرورت ہے ٹیوٹا طرز کے یہ ادارے اگر بنائیں جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمارے لوگ ایک ہزار ریال کی بجائے تین ہزار ریال ماہانہ نہ کما سکیں۔مجھ سے اگر کوئی پوچھے کہ پاکستان تحریک انصاف میں سب سے زیادہ کمی کس چیز کی ہے وہ میں کہوں گا تربیت ،تربیت اور تربیت کی۔ہمارا سب سے زیادہ وقت اپنے ہی بھائیوں کی ٹانگیں کھینچنے میں لگ جاتا ہے۔ہمارے سرکل کی سب سے بڑی کمزوری یہی ہے کہ وہ کیسے آگے نکل گیا؟
اور ایک اور جھوٹ بھی سب سے زیادہ بولا جاتا ہے۔کہ عمران خان میرا لیڈر ہے۔لیکن سچ تو یہ ہے کہ اس کی کوئی ایک بھی نہیںمانتا کبھی کبھی سنا کرتے تھے کہ جیالے آپس میں لڑ پڑتے تھے لیکن افسوس کہ اب ہمارے جوان لڑائی کرتے ہیں ۔دھرنے کے دنوں میں کنٹینر کے اوپر ایک اور دنیا ہوا کرتی تھی اور ایک میدان جنگ نیچے لگا رہتا تھا۔میں ۱۹۷۴ میں قیوم اسٹیڈیم میںمنعقدہ جمیعت کے سالانہ اجتماع کو یاد کرتا ہوں اور نوجوانوں کے نظم و ضبط کو آج بھی یاد کرتا ہوں جب ظفر جمال بلوچ ناظم اعلی بنے تو کیا سماں تھا۔سچ پوچھئے یہ سب کچھ بلکہ اس سے زیادہ ہمارے پاس عمران خان کی صورت میں موجود ہے ہمیں پاکستان تحریک انصاف میں تربتی ونگ بنانے کی اشد ضرورت ہے۔خدا را لیپٹاپ گروپ سے ہٹ کر دیسی لوگ جو اسلام نظریہ ٗء پاکستان کو سمجھنے والے ہوں انہیں یہ ذمہ داری دیجئے میرے نزدیک اعجاز چودھری کو یہ کام دیجئے کوئی اور بھائی یہ کام کر لے اگر مناسب سمجھیں تو خاکسار ان کی معاونت کرنے لئے تیار ہو گا۔سب سے پہلے ہم ٹرینر تیار کریں۔حضور سونا تو ہے اسے کندھن بنا دیجئے