5 جولائی کا سچ

5 جولائی آیا اورگزرگیا، یوم سیاہ منانے والوں میں وہ دم خم باقی نہ رہا کہ ضیاءالحق کی کردارکشی اورپیپلزپارٹی کی جدوجہد کے لیے توانائیاں خرچ سکیں. بھٹو کی قبر کے مجاور ہی بدل گئے. جن بیٹوں کو اس نے وصیت کی تھی کہ وہ میرے بیٹے ہی نہیں ہوں گے جوان کا لہو نہ بہائیں‌ جو میرا لہو بہائیں‌ گے. نسلاً بیٹے تواقتداراورخاندانی چھینا جھپٹی کی ایسی نذر ہوئے کہ کسی کے قاتلوں کا سراغ تک نہ مل سکا. شجرہ نسب کا آخری وارث ذلفقارجونیئرہاتھوں پرنیل پالس لگائے، زنانہ لباس زیب تن کئے اپنی زندگی کو پرسکون اورپرامن رکھنے کی جدوجہد میں مصروف ہے. اس کے نزدیک بھٹوخاندان نے مردکے آہنی اورفولادی تصورپرزندہ رہ کر بہت دکھ اٹھائے اوراموات دیکھی ہیں، مچھے زندگی سے پیارہے اورمیں‌ ایک نرم خو مرد کی طرح‌ زندگی گزارنا چاہتا ہوں. اس کی ویڈیوجس میں‌ وہ زنانہ لباس پہنے ڈانس کررہا ہے اورہاتھوں‌ پرنیل پالش لگائے پھول بوٹے کاڑھ رہا ہے لوگوں کے لیے حیرت کا باعث‌ تھی. ایک ایسی قوم کے لیے تو یہ چیزیں اوربھی حیران کن ہوتی ہیں جو ذہنوں‌ میں‌ یہ تصورات لیے ہوتی ہے کہ پہلوان کے گھرمیں‌ پہلوان اورلیڈر کے گھرمیں‌ لیڈر ہی پیدا ہوتا ہے، حالانکہ انسانی تاریخ‌ نسلی برتری یا کمتری پرتربیت اورماحول کو بالاترگردانتی ہے. بقول اقبال
وہ فریب خوردہ شاہیں، جو پلا ہے کرگسوں‌ میں
اسے کیا خبر کہ کیا ہے، رہِ‌ و رسمِ شاہبازی
بھٹو کی قبرکے وارث کبھی مفلوک الحال عوام ہوا کرتے تھے. چالیس سال دربدرکی ٹھوکروں نے انہیں کہیں‌ کا نہ رہنے دیا. ان کا تو اس وارث میں اب اتنا بھی حصہ باقی نہیں ہے جتنا بھٹو کی تقریروں میں‌ سرمایہ داروں، جاگیرداروں اورسامراج کے خلاف غصہ اورشعلہ بیانی میں انہیں میسر آتا تھا. بینظیر سے لے کربلاول تک ان کے کان ترس گئے کہ کب گڑھی خدا بخش کے وارث ان طبقات کے خلاف شعلہ افشانی کرتے ہیں.

5 جولائی آیا اورگزرگیا. اس دن کے کامیاب شخص ضیاءالحق کا پرچم اٹھانے والے، اس کے نظریے کو پاکستان کی بقاء کی ضمانت سمجھنے والے یوں خاموش تھے جیسے ان کا ماضی ان کے لیے شرمندگی کا باعث ہو. حد تویہ ہے کہ وہ جو گورنمنٹ کالج لاہور میں‌ کرکٹ اورطلعت محمود کے گانوں کے علاوہ کوئی شوق نہیں رکھتے تھے، سیاست سے نابلد اورکوسوں دور ان کو سیاست کی مسند پرسرفراز کرنے والے ضیاءالحق کی تعریف تودورکی بات 5 جولائی کو مریم نوازکی پیشی کے بعد نعرہ بلند ہوا کہ ایک اور 5 جولائی بھی اس قوم نے دیکھی جب جمہوریت کا گلہ گھونٹا گیا. ضیاءالحق نہ کسی سیاسی پارٹی کا بانی تھا اورنہ ہی اس نے اولاد کو سیاست ورثے میں دی. اس کے وارث بہت سے تھے. نواز شریف سے لے کرصحافت، ادب، ثقافت میں ہربڑی شخصیت. کون ہے جس نے اس کے دسترخوان پرخوشہ چینی نہ کی ہو. کس کس کے گلے میں اس کے دیئے گئے اعزازات نہیں‌ لٹک رہے اورکون کون ہے جواس کی دی گئی مراعات کی وجہ سے سیاسی اورصحافتی سلطنتوں کے وارث نہیں بن گئے. سب کی زبانیں‌ خاموش تھیں. ایسی لاوارثی بھی کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے کہ آخری نسلی طورپروارث اعجازالحق کو آئینہ دکھانا پڑا کہ اگر 5 جولائی نہ آتا تو آپ کہاں ہوتے. ایک عام بزنس مین کے لاڈلے کھلنڈرے سپوت جس کی پاکستان کرکٹ بورڈ میں ملازمت کی درخواست آج بھی ریکارڈ کا حصہ ہے.
تاریخ کی سچائیوں‌ پراپنے ایمان اورعقیدے کی بنیاد رکھنے والوں کے لیے اس سے زیادہ کیا حیرتناک سچ ہوگا کہ تاریخ میں ہمیشہ سچ کا خون ہوتا ہے. ضیاءالحق اوربھٹو دونوں ہماری زندگی کے دوکردار ہیں اورہم نے دونوں کا زمانہ اپنی آنکھوں سے دیکھا اوربرتا ہے، لیکن آج ان دونوں‌ کے بارے میں مکمل سچ نہیں‌ بولا جاتا.‌ آج سے سوسال بعد آنے والا مورخ ضیاءالحق کو ولی بھی ثابت کرسکتا ہے اورشیطان بھی، جبکہ وہی مورخ بھٹو کو عظیم لیڈر بھی دکھا سکتاہے اورغدارِ‌وطن بھی. دونوں‌ جانب بہت مواد موجود ہے اوردونوں جانب تعصبات نے تاریخ‌ کے صفحات کورنگین کررکھا ہے لیکن ان دونوں کے درمیان تاریخ کا ایک واقعاتی سچ بھی ہے. پانچ جولائی کا سچ، یہ سچ بہت ضروری ہے. اس سچ کو اب وہ لوگ بھی بیان نہیں کرتےجن کے قلم اس کی حمایت میں لکھتے اورجن کے ہاتھ اس دن کا پرچم اٹھائے پھرتے ہیں. پانچ جولائی کیوں‌ برپا ہوا. اس سچ کو جو میں نے اس لمحے محسوس کیا، اسے بتانے سے پہلے یہ بات واضح‌ کردوں کہ اس ملک کے اقتدار پر فائز رہنے والے ہرشخص کے مثبت اورمنفی پہلوہوتے ہیں‌ جس کی وجہ سے ان سے نفرت اورمحبت کی جاتی ہے. ضیائ الحق اورنواز شریف سے میری نفرت کی وفہ مشترک ہے. ضیاءالحق نے وفاقی شرعی عدالت قائم کی لیکن اسے دس سال تک مالی معاملات پرمقدمات سننے سے روک دیا تاکہ سود کے خلاف فیصلہ نہ آجائے اورنوازشریف ملک کا واحد حکمران ہے جو وفاقی شرعی عدالت کے سود کو حرام قراردینے کے بعد بحیثیت وزیرِ اعظم سپریم کورٹ میں اپیل کرنے چلا گیا. میرا اس سے نفرت کا یہ تعلق بھی ضیاءالحق کے پانچ جولائی کے اقدام اوراس کی دیگرخوبیوں کا سچ بتانے مجھے نہیں‌ روک سکتا کہ یہی میرے ایمان کا مجھ سے تقاضہ ہے. وہ سچ جو تاریخ کے خزینوں میں دفن ہے اوریومِ سیاہ کی آوازوں میں گم ہوجاتا ہے. پانچ جولائی ایک ایسا دن تھا جس میں یہ پوری قوم ایک بند گلی میں آ چکی تھی. پی این اے کے تین مذاکرات کاروں پروفیسر غفور، مفتی محمود اورنوابزادہ نصراللہ کی طویل نشستوں‌ پرانگلیاں اٹھ رہی تھیں. لاہور میں بھٹو کا جزوی مارشل لاء فیل ہوچکا تھا. پیپلز پارٹی کا ورکراپنی پناہ گاہوں میں گم تھا. اعتزاز احسن جیسا شخص اور ایسے کئی اعلانیہ پیپلز پارٹی چھوڑ چکے تھے. قومی اسمبلی کے انتخابات کا ایسا بائیکاٹ ہوا تھا کہ قبرستانوں جیسا سناٹا پولنگ سٹیشنوں پر نظر آیاتھا. نو اپریل کے لاہور کی مال روڈ جس کشت وخون کا منظردکھا رہی تھی وہ اس سے تین روز بعد رتن سینما میں عوامی نفرت کے طورپرسامنے آیا جب چھت سے فائرنگ کرنے والے پیپلزپارٹی کے کارکنوں کو لوگوں نے گولیوں کی پوچھاڑمین جا کرپکڑا اورنیچے پھینک دیا. بلوچستان اورسرحد کی سیاسی قیادت حیدرآباد میں بغاوت کا مقدمہ بھگت رہی تھی. مصطفیٰ کھر اپنے لاپتہ افراد افتخارتاری وغیرہ کا ماتم کررہا تھا. حنیف رامے اختلاف کی وجہ سے جیل بھگت چکا تھا. صمد خان اچکزئی سے لے کرڈاکٹرنذیر اورخواجہ رفیق تک سب کے لواحقین انصاف سے مایوس ہوچکے تھے. بلوچستان کا فوجی ایکشن اس سرزمین پہ نفرت کے بیج بوچکا تھا. لاہورکی انارکلی میں جب بھٹو نے فوج بھیجی تولوگوں نے غلاظت زدہ خاکی شلواریں سامنے لٹکا دیں. فوج نے گولی چلانے سے انکارکردیاتھا. بھٹو کا جاگیردارنہ ذہن اورعدم برداشت اپنی انتہا پرتھے. ایسے میں کچھ بھی ہوسکتا تھا. پورا ملک افواہوں کی زد میں تھا. کوئی کہتا بھٹو اپنے حالیہ دورے میں تمام بیرونی ملکوں سے یہ بات کرآیا ہے کہ وہ اپوزیشن کی ساری قیادت اوربڑے بڑے ورکر ختم کردے گا لیکن اب لوگ خاموش رہیں. دوسری افواہ وہ تھی کہ امریکہ بھٹو سے انتقام لینے جا رہا ہے. ان سب کے باوجود پوری قوم یہ یقین کرنے کوتیارنہ تھی کہ یہ سیاست دان مل بیٹھ کرمسئلے کا حل نکال سکتے ہیں. یہ ایک بند گلی تھی ضیاء‌الحق نے جب 5 جولائی1977ء کو اقتدارسنبھالا توہرکوئی سچ بولنے والا اس بات کی تصدیق کرے گا کہ ملک میں ایسے تھا جیسے سب نے سکھ کا سانس لیا ہے ان کی اذیت ختم ہوئی تھی. یہ اذیت نہ ذلفقار بھٹو کے انتخابات کے اعلان سے ختم ہوسکتی تھی اور نہ ہی تحریک کو مزید آگے بڑھانے سے اس کا خاتمہ ہوسکتا تھا.