اس فونٹ کی اصل کہانی جس نے مریم کو مجرم بنا دیا

تحریر و تحقیق: عدنان خان کاکڑ
جے آئی ٹی نے نوٹ کیا کہ عدالت کو مس مریم صفدر نے کمپنیوں نیسکول اینڈ نیلسن لمیٹڈ اور کومبر انکارپوریٹڈ کی جو ٹرسٹ ڈیکلریشن فراہم کیں ان فوٹوکاپیوں پر بظاہر یہ دکھائی دے رہا تھا کہ تاریخوں میں رد و بدل کیا گیا ہے (لفظ کٹنگ استعمال کیا گیا ہے)۔ جے آئی ٹی نے لندن کی ”دا ریڈلے فارینسک ڈاکیومنٹ لیبارٹری“ سے رابطہ کیا جو کہ تحریر اور دستاویزات کی چھان بین کے ماہر ہیں۔ مریم صفدر کی فراہم کی گئی اوریجنل دستاویزات بھی ریڈلے کو بھیجی گئیں۔ رابرٹ ریڈلے کی دستخط شدہ رپورٹ موصول ہوئی جس کا خلاصہ کچھ یوں بیان کیا گیا ہے:

ا۔ دونوں مصدقہ ڈیکلیریشن اوپری دائیں کونے میں سٹیپل اور آئیلیٹ بائنڈر کے ساتھ مجلد ہیں جو کہ اندر موجود ڈیکلیریشن کے صفحات کو ایک تکونے سبز کارنر پیس کے اندر رکھے ہوئے تھے۔ میری بہت زیادہ وثوق سے یہ رائے ہے کہ یہ دونوں دستاویزات آئیلیٹ (جلد سازی کے سوراخوں) اور کچھ سٹیپلز کو ہٹا کر ان بائینڈ کی گئی ہیں اور پھر ایک اکیلی سٹیپل اور آئی لیٹ کے ساتھ دوبارہ مجلد کی گئی ہیں۔

ب۔ میں نے اس فونٹ کی شناخت کیلیبری کے طور پر کی ہے جو دونوں مصدقہ ڈیکلیریشن میں استعمال کی گئی ہے۔ لیکن کیلیبری تجارتی طور پر 31 جنوری 2007 سے پہلے دستیاب نہیں تھی اور اس طرح دونوں مصدقہ ڈیکلیریشین پر درست تاریخ نہیں ڈالی گئی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ بعد کی کسی تاریخ میں تیار کی گئی ہیں۔

ج۔ یہ معلوم کرنا ممکن نہیں ہے کہ یہ کاپیاں کب بنائی گئی تھیں۔ ممکن ہے کہ روشنائی کی تاریخ کا تعین کرنے سے علم ہو سکے۔

یعنی فارینسک تجزیے نے فونٹ کی بنیاد پر دستاویزات پر شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ بعد کی تاریخ میں تیار کی گئی ہیں۔

اس پر جے آئی ٹی نے یہ نتیجہ نکالا ہے:

ا۔ برطانیہ میں موجود فارینسک ایکسپرٹ کی رپورٹ نے بغیر کسی شک و شبے کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ استغاثہ کی جانب سے سپریم کورٹ اور مس مریم صفدر کی جانب سے جے آئی ٹی میں پیش کی جانے والی دستاویزات میں دھوکہ دہی کی گئی تھی تاکہ عدالت کو یہ یقین دلایا جا سکے کہ وہ 2006 میں دستخط کی گئی تھیں، حالانکہ وہ اس برس اس فونٹ میں ٹائپ نہیں کی جا سکتی تھیں کیونکہ وہ فونٹ اس وقت تک متعارف نہیں کرائی گئی تھی۔

ب۔ تحریر اور دستاویزات کے فارینسک ماہر کی یہ رپورٹ مسٹر ایرل جارج کے مصدقہ خطوط کی مزید توثیق و تصدیق کرتی ہے جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ مس مریم صفدر نیلسن اور نیسکول آف شور کمپنیوں (جو ایونفیلڈ جائیدا کی واحد مالک ہے) کی بینیفیشل اونر ہیں اور کوئی ٹرسٹ یا ٹرسٹی وجود نہیں رکھتا۔

فائنل نتیجہ نکالا گیا ہے کہ یہ دستاویزات جھوٹی اور جعلسازی پر مبنی ہیں۔ یعنی ایک فونٹ نے مریم کو مجرم بنا ڈالا۔ مگر آئیے دیکھتے ہیں کہ کیا واقعی جے آئی ٹی کے برطانوی ماہر درست کہہ رہے ہیں کہ کیلیبری نامی یہ فونٹ جنوری 2007 سے پہلے دستیاب نہیں تھی؟

اس فونٹ کے ڈیزائینر لوکاس ڈی گروٹ اپنی ویب سائٹ پر مندرجہ ذیل معلومات دیتے ہیں: سنہ 2002 میں مائیکروسافٹ نے فونٹ ڈیزائینر اور ماہرین کی ایک ٹیم بنائی جس کا مقصد کلئیر ٹائپ فونٹ کلیکشن بنانا تھا۔ یہ کلیکشن 2004 میں عوام کے سامنے پیش کی گئی اور ونڈوز وسٹا کی کلیدی فونٹس بن گئیں۔ لوکاس نے سب سے پہلے کنسولاس نامی فونٹ تیار کی۔ اس پر کام شروع ہوا ہی تھا کہ لوکاس کو کیلیبری ڈیزائین کرنے کا بھی کہا گیا۔

مائیکروسافٹ کی اس کلیکشن میں کیلیبری، کنسولاس، کیمبریا، کینڈارا، کونسٹانشیا اور کوربیل نامی فونٹس شامل تھیں۔ جو کہ مائیکروسافٹ کے جون بیری کے 2004 میں بنائے گئے بروشر ”دا مائیکروسافٹ کلئیر ٹائپ فونٹ کلیکشن“ کے ذریعے عوام کے سامنے پیش کی گئیں۔ جولائی 2005 میں انہیں عوام کے لئے ڈاؤنلوڈ کی صورت میں فراہم کر دیا گیا تاکہ وہ اسے کسی بھی ونڈوز پروگرام بشمول ورڈ پروسیسر میں استعمال کر سکیں۔ یہ ونڈوز ایکس پی اور آفس 2003 میں بھی استعمال کی جا سکتی تھیں۔

یہ فونٹ کلیکشن ونڈوز وسٹا اور مائیکروسافٹ آفس 2007 کی کلیدی فونٹ کی حیثیت اختیار کر گئیں اور جنوری 2007 میں ونڈوز وسٹا کی باقاعدہ عوامی ریلیز کے بعد یہ ہر ونڈوز وسٹا کے صارف کے پاس آ گئیں۔

ونڈوز وسٹا کی کہانی بھی دلچسپ ہے۔ مائیکروسافٹ کی تاریخ میں اس ونڈوز ورژن کو بنانے کا پروجیکٹ مشکل ترین رہا۔ اس پر مئی 2001 میں کام شروع کیا گیا۔ بار بار ناکامیوں سے دوچار ہونے کے پانچ برس بعد اسے نومبر 2006 میں کمپیوٹر ساز اداروں کو فراہم کیا گیا اور جنوری 2007 میں اسے عوام کو فروخت کیا جانے لگا۔

لیکن یاد رہے کہ عوام اسے جنوری 2007 سے بہت پہلے ہی استعمال کرنے لگے تھے۔ ونڈوز وغیرہ جیسے بڑے اور اہم سافٹوئیر کو یکلخت ہی بنا کر عوام کے سامنے پیش نہیں کر دیا جاتا ہے۔ پہلے اس کے ”بی ٹا“ ورژن فراہم کیے جاتے ہیں۔ شروع شروع میں کچھ چنیدہ لوگوں کو، پھر زیادہ بڑے پیمانے پر اور پروگرامرز کو، اس کے بعد عوام کو بھی بی ٹا ورژن فراہم کر دیا جاتا ہے کہ ڈاؤنلوڈ کر کے استعمال کریں۔ اس عمل کے دوران سافٹوئیر میں موجود خرابیوں کو دور کر کے یا نئے فیچر ڈال کر بی ٹا کا نیا ورژن فراہم کیا جاتا رہتا ہے۔

ونڈوز وسٹا کا پہلا بڑا بی ٹا ورژن نومبر 2004 میں عوام کے سامنے آیا۔ ٹیکنالوجی کو جلدی اختیار کرنے والے لاکھوں عام افراد اور کمپنیاں اسے استعمال کرنے لگے۔ 2005 میں مائیکروسافٹ نے ونڈوز وسٹا کو اپنے مائیکروسافٹ ڈیولپر نیٹ ورک پر باقاعدہ کمیونٹی ریلیز کی شکل میں فراہم کرنا شروع کر دیا۔ 22 فروری 2006 کو مائیکروسافٹ نے فائنل ”فیچر کمپلیٹ“ ورژن فراہم کر دیا۔ اس کے بعد اس میں سے نقائص کو دور کرنے پر ہی توجہ دی گئی۔ مئی 2006 میں اسے عوام کو فراہم کر دیا گیا کہ ڈویلیپر نیٹ ورک اور بی ٹا ٹیسٹر کے علاوہ بھی کوئی عام شخص اسے استعمال کرنا چاہے تو کر سکے۔

آپ جان گئے ہوں گے کہ 2005 کے بعد سے ہی لاکھوں لوگ ونڈوز وسٹا اور کیلیبری فونٹ استعمال کر رہے تھے اور فارینسک ماہر اور جے آئی ٹی کا یہ کہنا سفید جھوٹ ہے کہ ”استغاثہ کی جانب سے سپریم کورٹ اور مس مریم صفدر کی جانب سے جے آئی ٹی میں پیش کی جانے والی دستاویزات میں دھوکہ دہی کی گئی تھی تاکہ عدالت کو یہ یقین دلایا جا سکے کہ وہ 2006 میں دستخط کی گئی تھیں، حالانکہ وہ اس برس اس فونٹ میں ٹائپ نہیں کی جا سکتی تھیں کیونکہ وہ فونٹ اس وقت تک متعارف نہیں کرائی گئی تھی“۔

اسی طرح کیلیبری فونٹ استعمال کرنے والے پہلے مائیکروسافٹ آفس 2007 کا پہلا ”بی ٹا“ سنہ 2005 میں ریلیز کر دیا گیا تھا۔ مئی 2006 میں اسے مائیکروسافٹ کی ویب سائٹ پر مفت ڈاؤنلوڈ کی صورت میں عوام کو فراہم کر دیا گیا۔ جنوری 2007 کو ہی اس کا فائنل ورژن بھی عوام کو فروخت کے لئے پیش کیا گیا۔

یعنی سنہ 2006 کیا، سنہ 2005 میں بھی کیلیبری فونٹ کو دستاویزات میں استعمال کرنا عین ممکن ہے۔ جس فونٹ کی بنیاد پر مریم کو مجرم بنایا جا رہا تھا، اس فونٹ کی تاریخ بتا رہی ہے کہ اس فونٹ کی بنیاد پر مریم کو جعلسازی اور دھوکہ دہی کا مرتکب کہنے پر جے آئی ٹی کی تحقیق یا نیت پر شدید شبہات پیدا ہوتے ہیں۔

عدنان خان کاکڑ کا تعلق انفارمیشن ٹیکنالوجی انڈسٹری سے گزشتہ 25 برس سے ہے اور وہ اس دور کے عینی شاہد ہیں جب ونڈوز وسٹا، آفس 2007 اور کیلیبری فونٹ ریلیز ہو رہے تھے۔
نوٹ ( پاکستان ٹی وی ڈاٹ ٹی وی کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا یہ نا ہونا ضروری نہیں)