’سعودی عرب سے جانے والے غیرملکیوں نے اب واپس آنا ہے تو پہلے۔۔۔‘ سعودی حکومت نے غیر ملکیوں کے خلاف ایک اور بڑا قدم اٹھالیا، انتہائی تشویشناک اعلان کردیا

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب سے ایگزٹ و ری انٹری ویزہ پر باہر جا کر ایکسپائری کی تاریخ سے قبل واپسی میں ناکام رہنے والے غیر ملکیوں اور ان کے زیر کفالت افراد کا اقامہ ویزہ کی ایکسپائری کے ایک ماہ بعد جوازات کے حوالے کیا جانا ضروری ہے۔ یہ اعلان جنرل ڈائریکٹوریٹ آف پاسپورٹ نے سعودی اور غیر ملکیوں کو جاری کی گئی ہدایات میں کیا۔ سعودی گزٹ کی رپورٹ کے مطابق محکمہ جوازات کی جانب سے سعودیوں اور غیر ملکیوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنے غیرملکی ملازمین یا زیر کفالت افراد اور ساتھی ملازمین کی مقیم آئی ڈی متعلقہ جوازات ڈیپارٹمنٹ میں ری انٹری ویزہ کی ایکسپائری کے 30 دن بعد پیش کریں تاکہ اسے کمپیوٹر سسٹم سے ڈیلیٹ کرکے اس کا سٹیٹس ”روانہ ہوگئے اور واپس نہیں آئے“ میں تبدیل کیا جاسکے۔ محکمہ پاسپورٹ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ جو بھی کفیل، یا اپنے زیر کفالت افراد کا غیرملکی کفیل، ایسا کرنے میں ناکام رہے گا اسے سخت سزا اور بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
موجودہ قانون کے مطابق ایگزٹ و ری انٹری ویزہ کے ایکسپائر ہونے کے بعد غیر ملکی ورکر واپس نہیں آسکتا جب تک کہ اس کے اقامہ کی مناسب مدت باقی نہ ہو۔ ایسی صورت میں واپسی صرف کفیل کی مداخلت سے ممکن ہے۔ کفیل اسے سات ماہ کے دوران ویزہ ایکسپائر ہونے کے بعد واپس لاسکتا ہے۔ اس کیلئے ضروری ہوگا کہ کفیل جوازات دفتر جائے، فارم پر کرے، ضروری دستاویزات جمع کروائے اور پیلی سلپ حاصل کرے۔ اس کے بعد کفیل سعودی سفارتخانے کے نام درخواست لکھے گا تاکہ اس کے ملازم کو واپس آنے کی اجازت دی جائے۔ اس درخواست کی چیمبر آف کامرس اور وزارت خارجہ سے تصدیق لازمی ہے۔ اس کے بعد کفیل یہ درخواست اور دستاویزات اپنے ملازم کو بھیجے گا جو اسے اپنے ملک میں سعودی سفارتخانے میں پیش کرے گا۔ سفارتخانے کی جانب سے ویزے پر مہر لگائے جانے کے بعد ملازم مقررہ تاریخ سے پہلے واپس جاسکے گا۔