حامد میر کا مشہور صحافی کا پروگرام دوبارہ شروع ہونے پر دھماکے دار انکشاف

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ملک میں جمہوریت اور پارلیمانی نظام کے پھلتے پھولتے ہی آزادی اظہار رائے کا فروغ ایک ترقی پسند معاشرے کی غمازی کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ایک زمانہ تھا جب سرکاری ذرائع ابلاغ لوگوں کو رات 9بجے کے خبرنامے میں “سب اچھا”کی رپورٹ دینے کے بعد چین کی نیند سلا دیا کرتا تھا۔اور دن کے اجالوں اور رات کے اندھیروں

میں پردوں کے پیچھے ہونے والی سیاہ کاریاں اول تو کوئی جان نہیں پاتا تھا اور اگر کوئی اکا دکا لوگ جان بھی لیتے تھے تو کوئی اس کا یقین نہیں کرتا تھا۔ کیونکہ سرکاری ذرائع ابلاغ اس کی ہوا بھی کسی کونہیں لگنے دیتے تھے اور سرکاری ذرائع ابلاغ کو ہی سچ مان لینا لوگوں کی مجبوری تھی۔پھر رفتہ رفتہ ریاست کا چوتھا ستون یعنی میڈیا آزاد ہوا۔ خوش پوش لباسوں میں چھپے گناہگار بدن اور خوش نمائی میں چھپے بھیانک چہرے عیاں ہونے لگے۔اس سب میں بہت وقت لگا ۔بڑی قربانیاں دی گئیں جب جا کر کہیں ملکی میڈیا نے دلیری اور بے باکی کے ساتھ بڑے بڑے حسین چہروں کی سفاکی کے بھید کھولے۔اس میں یوں تو متعدد صحافیوں کی خدمات گرانقدر ہیں لیکن یہاں جس صحافی کا نام عبدا لمالک ہے۔جن کا پروگرام آج سے چاربرس سال پہلے ایک منتخب جمہوری حکومت نے بند کر دیا تھا۔کیونکہ وہ ناپسندیدہ حد تک سچی باتیں کرنے لگے تھے۔گزشتہ روز چار سال کے بعد ان کا پروگرام دوبارہ شروع ہوا تو انھوں نے پانامہ کیس میں اب تک سامنے آنے والی رپورٹ اور فیصلوں کا تمام ریکارڈ ناظرین کے سامنے پیش کردیا اور انھوں نے انکشاف کیا کہ اس سب ریکارڈ ، فوج اور عدلیہ کے خلاف بیان بازی کے بعد اگر وزیر اعظم استعفی سے انکار بھی کریں تو کیا ہوگا؟جس پر حامد میر نے انھیں کہا کہ چار سال بعد آپ کا پروگرام دوبارہ شروع ہونا اور پھر آپ کا یہ سب خوبصورت باتیں کہنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کچھ ہونے والا ہے۔

کیٹاگری میں : Videos