سپریم کورٹ میں جے آئی ٹی رپورٹ پر پہلی سماعت کا آغاز

اسلام آباد: وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے مالی معاملات کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی حتمی رپورٹ پر سپریم کورٹ میں پہلی سماعت ہوئی، سماعت سے قبل وزیراعظم اور وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے جے آئی ٹی رپورٹ پر اپنے اعتراضات جمع کروائے

جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی عمل درآمد بینچ نے مذکورہ کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وکیل نعیم بخاری، جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف اور عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید نے دلائل دیے۔

اپنے دلائل کے دوران پی ٹی آئی وکیل نعیم بخاری نے عدالت سے استدعا کی کہ وزیراعظم نواز شریف کو عدالت طلب کیا جائے تاکہ ان سے جرح کی جاسکے۔

بعدازاں کیس کی سماعت کل بروز منگل (18 جولائی) تک کے لیے ملتوی کردی گئی، جہاں وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔

دوسری جانب سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب) اور فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) کے وکلاء کو بھی عدالت طلب کرلیا۔

وزیراعظم کے اعتراضات

سماعت سے قبل وزیراعظم نواز شریف نے جے آئی ٹی رپورٹ پر اپنے اعتراضات جمع کروائے، جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ جے آئی ٹی کو عدالت نے 13 سوالات کی تحقیقات کا حکم دیا تھا لیکن ٹیم نے مینڈیٹ سے تجاوز کیا اور باہمی قانونی معاونت کے لیے برطانیہ میں جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء کے کزن اختر راجا کی خدمات لی گئیں، جو لندن میں پی ٹی آئی کے کارکن ہیں۔

وزیراعظم نے جے آئی ٹی میں شامل انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے نمائندے پر بھی اعتراض اٹھایا اور موقف اختیار کیا کہ تشکیل کے وقت آئی ایس آئی کا نمائندہ اپنے ادارے میں حاضر سروس افسر نہیں تھا۔

اعتراضات میں کہا گیا کہ آئی ایس آئی کے نمائندہ کا بطور سورس تعیناتی کا انکشاف ہوا ہے اور سورس ملازم کی قانونی حیثیت نہیں ہوتی جبکہ سرکاری دستاویزات میں نمائندے کی تنخواہ کا بھی ذکر نہیں۔

اعتراض میں کہا گیا کہ جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ کی جلد 10 کو خفیہ رکھا، ساتھ ہی استدعا کی گئی کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کی جلد نمبر 10 کی کاپی فراہم کی جائے۔

مزید کہا گیا کہ رپورٹ میں وزیراعظم کی ذات اور نوکری سے متعلق حقائق تصوراتی اور وزیر اعظم کے خلاف شہادتیں عدالتی اختیارات استعمال کرنے کے مترادف ہیں جبکہ تمام تفتیشی عمل متعصبانہ، غیر منصفانہ اور غیر جانبدارانہ ہے۔

اعتراض میں کہا گیا کہ عدالت قرار دے چکی ہے کہ شفاف تحقیقات کے بعد ٹرائل بھی شفاف ہوگا، یہ بھی کہا گیا کہ مدعا علیہان کے ٹرائل کے لیے قانون کے مطابق مواد حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔

وزیراعظم نے اپنے اعتراض میں کہا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ نامکمل اور نقائص سے بھرپور ہے، جبکہ جے آئی ٹی نے عدالت کے سامنے کہا کہ مکمل رپورٹ جمع کروائی جا رہی ہے، تاہم نامکمل رپورٹ کے باعث مدعا علیہان کے خلاف آرڈر پاس نہیں کیا جاسکتا، شفاف ٹرائل مدعا علیہان کا بنیادی حق ہے۔

مزید کہا گیا کہ جے آئی ٹی جانبدار تھی اور اس نے قانونی تقاضوں کو پورا نہیں کیا، لہذا عدالت عظمیٰ سے استدعا ہے کہ ہماری درخواست منظور کرتے ہوئے رپورٹ کو مسترد کیا جائے۔

اسحٰق ڈار کے اعتراضات

دوسری جانب وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے تحریری اعتراض میں موقف اختیار کیا کہ عدالتی حکمنامے میں ان کا ذکر نہیں تھا، اس بنیاد پر جے آئی ٹی رپورٹ مسترد ہونے کی مستحق ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘جے آئی ٹی نے حقائق کو جھٹلا کر غلط بیانی سے کام لیا کہ میں نے ریٹرن فائل نہیں کیے، جے آئی ٹی کے الزامات غلط اور بے بنیاد ہیں، میرے اور میری اہلیہ سے متعلق ٹیکس ریکارڈ کی تفتیش نیب کر چکا ہے، میرے تمام اثاثے جائز اور ریٹرن میں ظاہر ہیں’۔

اسحٰق ڈار نے استدعا کی کہ ان سے متعلق رپورٹ کے متن کو مسترد کرتے ہوئے ریلیف دیا جائے۔

پی ٹی آئی وکیل کے دلائل

سماعت کے آغاز پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وکیل نعیم بخاری نے جے آئی ٹی رپورٹ کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پاناما کیس کے فیصلے میں عدالت عظمیٰ کے جج جسٹس آصف سعید کھوسہ نے وزیراعظم نوازشریف کو نااہل قرار دیا جب کہ جسٹس گلزار نے جسٹس آصف سعید کھوسہ سے اتفاق کیا اور 3 ججز نے مزید تحقیقات کی ہدایت دی، جس کے بعد عمل درآمد بینچ اور جے آئی ٹی بنی۔

جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیے کہ نااہلی کا فیصلہ اقلیت کا تھا، جبکہ جے آئی ٹی اکثریت نے بنائی۔

نعیم بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی ہر 15 روز بعد اپنی پیش رفت رپورٹ عملدرآمد بینچ کے سامنے جمع کراتی رہی جبکہ 10 جولائی کو جے آئی ٹی نے اپنے حتمی رپورٹ جمع کرائی، تحقیقات کا معاملہ عدالت اور جے آئی ٹی کے درمیان ہے اور اب جے آئی ٹی رپورٹ پر فیصلہ عدالت کو کرنا ہے۔

نعیم بخاری نے کہا کہ جے آئی ٹی نے متحدہ عرب امارات سے قانونی معاونت بھی حاصل کی، گلف اسٹیل مل سے متعلق شریف خاندان اپنا موقف ثابت نہ کرسکا، گلف اسٹیل مل 33 ملین درہم میں فروخت نہیں ہوئی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جے آئی ٹی نے وزیراعظم کے کزن طارق شفیع کے بیان حلفی کو غلط اور 14 اپریل 1980 کے معاہدے کو خود ساختہ قرار دیا، اپنی تحقیقات کے دوران جے آئی ٹی نے حسین نواز اور طارق شفیع کے بیانات میں تضاد بھی نوٹ کیا۔

اس موقع پر جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف بطور گواہ جے آئی ٹی میں پیش ہوئے، انہوں نے جے آئی ٹی میں ایسے بیان دیا جیسے پولیس افسر کے سامنے دیتے ہیں، ان کا بیان تضاد کے لیے استعمال ہوسکتا ہے، جے آئی ٹی کے سامنے دیئے گئے بیانات کو ضابطہ فوجداری کے تحت دیکھا جائے گا اور ہم قانونی پیرامیٹرز کو دیکھ کر فیصلہ کریں گے۔

نعیم بخاری نے اپنے دلائل میں کہا کہ قطری خط وزیراعظم کی تقاریر میں شامل نہیں تھا، جے آئی ٹی نے سابق قطری وزیراعظم کو طلبی کے لیے چار خط لکھے اور اپنی رپورٹ میں کہا کہ شیخ حماد بن جاسم الثانی پاکستانی قانونی حدود ماننے کو تیار نہیں، اس کے علاوہ انہوں نے عدالتی دائرہ اختیار پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔

پی ٹی آئی وکیل نے آف شور کمپنیوں کی ملکیت کے حوالے سے کہا کہ برٹش ورجن آئی لینڈ کی ایجنسی نے موزیک فونسیکا کے ساتھ خط وکتابت کی، جس کی تصدیق جے آئی ٹی نے کی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ لندن فلیٹ شروع سے شریف خاندان کے پاس ہیں، تحقیقات کے دوران وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز نے اصل سرٹیفکیٹ پیش نہیں کیے جبکہ ٹرسٹی ہونے کے لیے ضروری تھا کہ مریم نواز کے پاس بیریئر سرٹیفکیٹ ہوتے، بیریئر سرٹیفکیٹ کی منسوخی کے بعد کسی قسم کی ٹرسٹ ڈیڈ موجود نہیں، دوسری جانب فرانزک ماہرین نے ٹرسٹ ڈیڈ کے فونٹ پر بھی اعتراض کیا، ٹرسٹ ڈیڈ میں استعمال ہونے والا فونٹ 2006 میں بنا ہی نہیں تھا۔

حدیبیہ پیپر ملز کیس سے متعلق نعیم بخاری نے کہا کہ اس کیس کے فیصلے میں قطری خاندان کا کہیں تذکرہ نہیں۔

جس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ اس میں قطری خاندان کا ذکر ہونا ضروری نہیں تھا، حدیبیہ پیپر ملز کی سیٹلمنٹ کی اصل دستاویزات سربمہر ہیں۔

پی ٹی آئی وکیل کا مزید کہنا تھا کہ قطری خط اور ورک شیٹ خودساختہ اور بوگس ہیں۔

جس پر جسٹس اعجاز افضل نے استفسار کیا کہ قطری خطوط بوگس ہیں یا ان کے حوالے سے بنائی گئی کہانی؟

نعیم بخاری نے جواب دیا کہ میرے حساب سے دونوں ہی بوگس ہیں۔

پی ٹی آئی وکیل نعیم بخاری نے اپنے دلائل میں کہا کہ جےآئی ٹی کے مطابق سعودی عرب میں واقع عزیزیہ اسٹیل ملز لگانے کے لیے کوئی سرمایہ موجود نہیں تھا، عزیزیہ اسٹیل مل کے حسین نواز اکیلے نہیں بلکہ میاں شریف اور رابعہ شہباز بھی حصہ دار تھے، اس کی فروخت کی دستاویزات پیش نہیں کی گئیں لیکن جے آئی ٹی نے قرار دیا کہ عزیزیہ مل 63 نہیں 42 ملین ریال میں فروخت ہوئی۔

نعیم بخاری نے مزید کہا کہ جے آئی ٹی نے بتایا کہ ایف زیڈ ای نامی کمپنی نواز شریف کی ہے، کمپنی نے نواز شریف کا متحدہ عرب امارات کا اقامہ بھی فراہم کیا ہے۔

عدالت عظمیٰ نے نعیم بخاری سے استفسار کیا کہ کیا ایف زیڈ ای کی دستاویزات جے آئی ٹی کو قانونی معاونت کے تحت ملیں یا ذرائع سے، جس پر نعیم بخاری نے کہا کہ کمپنی کی دستاویزات قانونی معاونت کے تحت آئیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ یہ تمام دستاویزات تصدیق شدہ نہیں ہیں جس پر نعیم بخاری نے کہا کہ دستاویزات درست ہیں صرف دستخط شدہ نہیں۔

پی ٹی آئی وکیل نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز کے بیان میں تضاد ہے، حسن نواز نے کہا کہ 2006 سے پہلے انہیں رقم کی برطانیہ منتقلی کا علم نہیں تھا۔

نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی نے کمپنیوں کے درمیان فنڈز ٹرانسفر کا بھی جائزہ لیا اور اپنی رپورٹ میں کہا کہ حسن نواز فنڈز کے ذرائع بتانے میں ناکام رہے۔

جسٹس اعجاز الاالحسن نے استفسار کیا کہ کیا جے آئی ٹی نے بتایا ہے کہ فنڈز کہاں سے آئے؟

نعیم بخاری نے جواب دیا کہ جے آئی ٹی کے مطابق حسن نواز کے پاس کاروبار کے لیے پیسے نہیں تھے اور ان کے اثاثے آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے۔

پی ٹی آئی وکیل نے دلائل کے دوران بتایا کہ شریف خاندان کے خلاف مقدمات 1991 سے زیر التواء ہیں، 9 مقدمات میں لکھا ہے کہ تحقیقات ابھی تک جاری ہیں، لیکن تحقیقات کہاں جاری ہیں، یہ نہیں بتایا گیا، جے آئی ٹی نے تمام مقدمات سے متعلق سفارشات بھی کی ہیں۔

آخر میں نعیم بخاری نے عدالت سے وزیراعظم نوازشریف کو عدالت طلب کرنے کی استدعا کی تاکہ ان سے جرح کی جاسکے، جس کے ساتھ ہی نعیم بخاری کے دلائل مکمل ہوگئے۔

وکیل جماعت اسلامی کے دلائل

پی ٹی آئی وکیل کے بعد جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف نے دلائل کا آغاز کیا اور عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ نعیم بخاری رپورٹ کی سمری سے آگاہ کرچکے ہیں۔

وکیل جماعت اسلامی نے کہا کہ میری درخواست نواز شریف کی تقاریر کے گرد گھومتی ہے، وزیراعظم نے اسمبلی اور قوم سے خطابات میں سچ نہیں بولا۔

انہوں نے قطری خطوط کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف نے قطری خطوط پڑھے بغیر درست قرار دیے اور جے آئی ٹی کو بتایا کہ انہیں قطری سرمایہ کاری کا تو علم ہے لیکن یاد نہیں۔

انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی کے مطابق نواز شریف نے تعاون نہیں کیا اور اپنے خالو تک کو پہچانے سے انکار کیا۔

جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیے کہ رپورٹ تو ہم نے بھی پڑھی ہوئی ہے، آپ سے رپورٹ پر دلائل مانگے ہیں۔

جس پر توفیق آصف نے جواب دیا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔

اس موقع پر جسٹس اعجاز الاالحسن نے ریمارکس دیے کہ ‘جے آئی ٹی کی فائنڈنگ سارا پاکستان جان چکا ہے، ہم جے آئی ٹی فائنڈنگ کے پابند نہیں’، ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ‘جے آئی ٹی رپورٹ پر عمل کیوں کریں، یہ آپ نے بتانا ہے’.

جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیے کہ ہم اپنے اختیارات کا کس حد تک استعمال کرسکتے ہیں اور جے آئی ٹی سفارشات پر کس حد تک عمل کرسکتے ہیں، یہ بتائیں۔

جس پر وکیل جماعت اسلامی نے کہا کہ عدالت نواز شریف کی نااہلی کا فیصلہ دے کر معاملہ ٹرائل کے لیے بجھوائے، کیونکہ بادی النظر میں وزیراعظم صادق اور امین نہیں رہے۔

جس پر جسٹس اعجاز الاالحسن نے ریمارکس دیے کہ بادی النظر کا مطلب ابھی صادق اور امین پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف کے دلائل مکمل ہوگئے۔

شیخ رشید کے دلائل

جماعت اسلامی کے وکیل کے بعد عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے دلائل کا آغاز کیا اور کہا کہ ‘جے آئی ٹی کے سپر سکس اور ججز کو قوم کی خدمت کا اجر ملے گا’۔

شیخ رشید نے سوال کیا کہ جے آئی ٹی کے بعد اب کیس میں کیا رہ گیا ہے؟جے آئی ٹی نے ثابت کیا کہ ملک میں ایماندار لوگوں کی کمی نہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہر کیس کے پیچھے ایک فیس ہوتا ہے، اس کیس کے پیچھے فیس نواز شریف کا ہے۔

انہوں نے وزیراعظم نواز شریف کے بچوں اور ان کے اثاثوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جس عمر میں ہمارا شناختی کارڈ نہیں بنتا ان کے بچے 800 کروڑ بنالیتے ہیں۔

شیخ رشید کا مزید کہنا تھا کہ شریف خاندان کو مثالی سزا دی جائے، ان کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں جیل بھیج دیا جائیں اور اگر کیس نیب کو بھیجا گیا تو وہاں بھی جے آئی ٹی بنائی جائے۔

دلائل دیتے ہوئے جوش خطابت میں شیخ رشید نے معزز ججز کو جناب اسپکر کہہ دیا اور پھر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اسمبلی میں بولنے نہیں دیا جاتا۔

ساتھ ہی انہوں نے امید کا اظہار کیا کہ انشاء اللہ انصاف جیتے گا اور پاکستان کامیاب ہوگا۔

وزیراعظم کے وکیل کے دلائل

شیخ رشید کے بعد وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل شروع کیے اور عدالت کو بتایا کہ جے آئی ٹی سے متعلق دو درخواستیں دائر کی ہیں، ایک درخواست والیم 10 کی فراہمی کی ہے جبکہ دوسری درخواست میں جے آئی ٹی پر اعتراضات درج ہیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ دستاویزات اکھٹی کرنے میں جے آئی ٹی نے قانون کی خلاف ورزی اور اپنے اختیارات سے تجاوز کیا، جے آئی ٹی کی دستاویزات کو ثبوت تسلیم نہیں کیا جاسکتا، لہذا عدالت جے آئی ٹی رپورٹ اور درخواستیں خارج کرے۔

جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیے کہ اپنے دلائل کو ایشوز تک محدود رکھیں تو آسانی ہوگی، ہم چاہتے ہیں کہ عدالت اور قوم کا وقت ضائع نہ ہو۔

جس پر خواجہ حارث نے جواب دیا کہ رپورٹ ٹھوس شواہد کی بنیاد پر نہیں، بلکہ قانون اور حقائق کے خلاف ہے، جس کی بنیاد پر ریفرنس دائر نہیں کیا جاسکتا۔

بعدازاں کیس کی سماعت کل بروز منگل (18 جولائی) تک کے لیے ملتوی کردی گئی، جہاں وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔

واضح رہے کہ جے آئی ٹی نے گزشتہ ہفتے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی تھی، 10 جلدوں پر مشتمل اس رپورٹ میں نواز شریف سمیت شریف خاندان پر کئی الزامات اور اس سے متعلق شواہد سامنے لائے گئے تھے۔

پاناما انکشاف

پاناما لیکس کے معاملے نے ملکی سیاست میں اُس وقت ہلچل مچائی، جب گذشتہ سال اپریل میں بیرون ملک ٹیکس کے حوالے سے کام کرنے والی پاناما کی مشہور لا فرم موزیک فانسیکا کی افشا ہونے والی انتہائی خفیہ دستاویزات سے پاکستان سمیت دنیا کی کئی طاقت ور اور سیاسی شخصیات کے ‘آف شور’ مالی معاملات عیاں ہو گئے تھے۔

پاناما پیپرز کی جانب سے انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والا یہ ڈیٹا ایک کروڑ 15 لاکھ دستاویزات پر مشتمل ہے، جس میں روس کے صدر ولادی میر پوٹن، سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان، آئس لینڈ کے وزیر اعظم، شامی صدر اور پاکستان کےوزیراعظم نواز شریف سمیت درجنوں حکمرانوں کے نام شامل تھے۔

ویب سائٹ پر موجود ڈیٹا کے مطابق، پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے بچوں مریم، حسن اور حسین ’کئی کمپنیوں کے مالکان ہیں یا پھر ان کی رقوم کی منتقلی کے مجاز تھے‘۔

موزیک فانسیکا کے نجی ڈیٹا بیس سے 2.6 ٹیرا بائٹس پر مشتمل عام ہونے والی ان معلومات کو امریکی سفارتی مراسلوں سے بھی بڑا قرار دیا جا رہا ہے۔

ان انکشافات کے بعد اپوزیشن جماعتوں بالخصوص پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا اور بعدازاں اس حوالے سے سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا۔

سپریم کورٹ نے ان درخواستوں پر سماعت کے بعد رواں سال 20 اپریل کو وزیراعظم نواز شریف کے خلاف پاناما کیس کی مزید تحقیقات کے لیے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے اعلیٰ افسر کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی تھی۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے جے آئی ٹی کو حکم دیا تھا کہ وہ 60 روز کے اندر اس معاملے کی تحقیقات مکمل کر کے اپنی رپورٹ پیش کرے جس کی بنیاد پر حتمی فیصلہ سنایا جائے گا۔

جے آئی ٹی نے 2 ماہ کی تحقیقات کے بعد رواں ماہ 10 جولائی کو سپریم کورٹ میں اپنی حتمی رپورٹ جمع کروائی تھی، 10 جلدوں پر مشتمل اس رپورٹ میں وزیراعظم سمیت شریف خاندان پر کئی الزامات لگاتے ہوئے مختلف شواہد سامنے لائے گئے تھے۔

جس پر عدالت عظمیٰ نے سماعت کے لیے 17 جولائی کی تاریخ مقرر کی تھی۔