نواز شریف کی ضد کی وجہ سے قریبی ساتھی بھی انھیں چھوڑ رہے ہیں ،شاہ محمود قریشی

عبدالحکیم (مانیٹرنگ ڈیسک ) تحریک انصاف کے مرکزی رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ چوہدری نثار خود دار،نواز شریف کی ضد کی وجہ سے قریبی ساتھی بھی انھیں چھوڑ رہے ہیں ،وزیر اعظم منصب سے استعفی دے دیں ،اپوزیشن کو سڑکوں پر نکلنے کیلئے مجبور نہ کیا جائے ،اب ن لیگ میں کئی دھڑے بن گئے ہیں ،نامہ کیس کے حوالہ سے رواں

ہفتہ ملکی سیاست میں بڑی اہمیت کا حامل ہے ملکی سیاست ایک بڑے فیصلے کی جانب گامز ن ہے۔میڈیا سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ اب نواز شریف کو اپنے عہدہ پر رہنے کا کوئی جوازنہیں رہا آپ ملک کے وقار جمہوریت اور اقتدار کی خاطر ضد کرنے کی بجائے مستعفی ہو جائیں اور اپوزیشن جماعتو ں کو سڑکوں پر آنے کے لئے مجبور نہیں کیا جائے ۔ ان کی ضد سے نواز شریف کے ساتھی بھی حکومت کا ساتھ چھوڑ رہے ہیں پوری قوم نواز شریف کے مستعفی ہونے کی حامی ہے اور ان حالات میں ن لیگ بھی مختلف دھڑو ں میں تقسیم ہو رہی ہے پانامہ کیس کے حوالہ سے رواں ہفتہ ملکی سیاست میں بڑی اہمیت کا حامل ہے ملکی سیاست ایک بڑے فیصلے کی جانب گامز ن ہے تحریک انصاف نظام اور سسٹم کو ٹیک اور نہیں کرنا چاہتی ،جے آئی ٹی کی رپورٹ ایک مدبرآنہ فیصلہ ہے جے آئی ٹی نے شریف خاندان کی کرپشن کو بے نقاب کیا انہو ں نے کہا کہ چوہدری نثار بڑے خودار انسان ہیں وہ تو حکومت کو اداروں سے محاذ آرائی سے روک رہے ہیں نثار نے تو یہ کہا ہے کہ وزیر اعظم کے خوشا مدی ان کو پھنسا رہے ہیں خوشامدی آپ سے مخلص نہیں ہیں ۔انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے اپنا حق استعمال کیا ہے ہم صرف کرپشن کے خلاف ہیں پانامہ لیکس ہم منظر عام پر نہیں لائے۔ شاہ محمود نے کہا کہ ن لیگ کی قیادت اپنے اراکین کوعرصہ چار سالو ں میں کتنی بار ملی،اراکین کو کیا فائدہ ملا اور ان کی کتنی باتیں مانی گئیں وزیر اعظم اور کابینہ اپنے دور اقتدار میں تو بادشاہ بنے رہے یہ تو ان کا اپنا جمہوری چہرہ ہے وہ قوم کو کیا فائدہ دیں گے جو قوم اور اراکین اسمبلی کے

سامنے ہے ہم جمہوریت کو کبھی ری ڈیل نہیں ہونے دیں گے اور نہ ہی چور دروازے سے اقتدار میں آئیں گے۔انھوں نے کہا کہ عوام اور آج کا باشعور نوجوان تحریک انصاف کی طاقت ہے ہماری جماعت کسی خاندان کے خلاف نہیں ملک میں امن و امان کا کریڈٹ فوج کو جاتا ہے حکومت کے تو اپنے اراکین مایوسی کا شکار ہیں۔ وہ بھی ہٹ دھرمی نہیں چاہتے ان کے اراکین بھی چاہتے ہیں کہ پارٹی کے اندر سے وزیر اعظم بنا لیں مگر میا ں برادران اور خوشامدی ٹو لہ بادشاہت سے حکومت چلا رہے ہیں ۔انھوں نے کہا کہ تحریک انصا ف تو چاہتی ہے کہ جمہوریت پٹری سے نہ اترے اور حکومت اپنی مدت پوری کرے وزیر اعظم کے مستعفی ہونے پر وکلا بھی متفق ہیں کہ اب حکومت کو سپریم کورٹ میں کیس لے جانے کا حق نہیں بنتا،آڑٹیکل 62,63کے تحت وزیر اعظم نا اہل ہونگے۔ شاہ محمو د قریشی نے مزید کہا کہ ایک میڈیا گروپ ن لیگ کو سپورٹ کررہا ہے تمام اپوزیشن جماعتو ں کا یک نکاتی ایجنڈاہے کہ وزیر اعظم مستعفی ہو ں اپوزیشن میں دراڑڈالنے کی مذموم کوششیں بھی کی گئیں۔انھوں نے کہا کہ انڈیا کے وزیر اعظم نریند ر مودی پاکستان کی ہر سطح پر مخالفت کرتا ہے کشمیر میں نہتے مسلمانو ں پر ظلم کے پہاڑ توڑتا ہے بارڈرز پر پاکستان کے نوجوانو ں پر حملے کرتا ہے اور ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی کو شادیو ں میں بلاتے اور ان کے حلف برداری میں جاتے ہیں یہ واحد وزیر اعظم ہے جو قومی فیصلو ں کی بجائے انڈیا سے ذاتی تعلقات کو ترجیح دے رہا ہے مودی سے دوستی کا نواز شریف نے ہاتھ بڑھایا۔انھوں نے کہا کہ نواز شریف ورک پرمٹ پر گئے یہ انتہائی شرم ناک بات ہے مودی سے دوستی کا نواز شریف کو کیا فائدہ ملا ؟پانامہ کیس سے ملک کی بدنامی اور قوم کی سبکی ہوئی