احسان جتلا کر اسلام قبول کرنے والے اُس جنگجو قبیلے کا قصہ جس پر اللہ ناراض ہوئے اور سور ہ الحجرات کی یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی

اسلام آباد (اسپیشل ڈیسک)اللہ اس بات کو قطعی پسند نہیں فرماتا کہ کوئی انسان اسلام اس ایما پر قبول کرے کہ اس سے دوسروں کو متاثر کرنا یا احسان جتلانے کا مقصد نکلتا ہو. آج بھی فرسودہ اور گمراہ کن نظریات وخیالات کی وجہ سے مسلمان فخرو تکبر میں مبتلا ہوکر دوسروں کو یہ جتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں اور دوسروں کو ان کا زیر بار رہنا چاہئے .

تکبر و تعلّی کے تحت اسلام قبول کرنے والوں کے انداز گفتگو کو اللہ نے پسند نہیں فرمایا اور جب ایسا وقت آیا تو اس پر سورہ الحجرات کی آیت نازل ہوگئی .اس واقعہ کوصحیحین میں بیان کیا گیا ہے.

بنو اسد بڑا جنگجو قبیلہ تھا اور کفر و اسلام کے معرکوں میں قریش کا حلیف بنا رہتا تھا.اسلام کی حاکمیت پھیلی تو ۹ ہجری کے اوائل میں بنو اسد بن خزیمہ کا دس آدمیوں پر مشتمل ایک وفد رسول اللہﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوگیا. حضورﷺ نے ان کی طرف کوئی مبلغ نہیں بھیجا تھا اور وہ حالات سے مجبور ہو کر خود ہی بارگاہِ نبوتﷺ میں حاضر ہوئے تھے. وفد کے کچھ اراکین نے فخریہ لہجے میں کہا ”آپ نے کوئی مہم یا تبلیغی وفد ہماری طرف نہیں بھیجا . لیکن ہم نے خود ہی اسلام قبول کیا اور پھر دور دراز کی مسافت طے کر کے آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں

“اللہ جل شانہ کو ان کا یہ انداز پسند نہ آیا.انکی یہ تعلی سورة الحجرات کی اس آیت مبارکہ کی شان نزول بن گئی ”اے نبی یہ لوگ تم پریہ احسان رکھتے ہیں کہ ہم اسلام لائے کہہ دو کہ مجھ پر اپنے اسلام لانے کا احسان نہ رکھو. بلکہ اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تم کو ایمان لانے کی ہدایت کی اگر تم اپنے قول میں سچے ہو.“

..