اسلامی احتساب کا سنہرا واقعہ، جب حضرت عمرؓ نے بیٹے کو قرض دینے پر گورنرکوفہ کو معطل کردیا تھا

اسلام آباد (اسپیشل ڈیسک)اسلام مساوات کا درس دیتا اور اقربا پروری سے منع فرماتاہے. بالخصوص ہر وہ شخص جو صاحب اختیار ہو اسے عدل و انصاف کے تحت امور انجام دینے کی واضح ہدایات کی ہیں کیونکہ اسلامی معاشرہ و حکومت ایک شخص کے انفرادی فیصلوں اور عمل سے قوت حاصل کرتا ہے.

اگر صاحب اقتدار واختیاراقربا پروری کرنے پر اتر آئیں تو غریب اور امیر میں مساوات قائم نہیں رہ سکتی .اسلام ہر صاحب اختیار کو امین و صادق دیکھنا چاہتا ہے اور اس کا نظام احتساب انتہائی کڑاہے.اس کا سبق ہمیں خلفا کرامؓ کے قائم کردہ پیمانوں اور اصولوں سے ملتا ہے ،بے شک ان کا ہر عمل ہر حکمران اور صاحب اختیار کے لئے بہترین نمونہ ہونا چاہئے. روایات میں آتا ہے کہ حضرت عمرؓ کے صاحبزادے روزگار کی تلاش میں عراق گئے اور ایک سال بعد واپس آئے تومال سے لدے اونٹ ان کے ہمراہ تھے. حضرت عمرؓ نے پوچھا” بیٹا اتناما ل کہاں سے ملا“ بیٹے نے جواب دیا ” تجارت کی“ حضرت عمرؓ نے پوچھا” تجارت کیلئے پیسہ کہاں سے آیا؟“

بیٹے نے جواب دیا ” چچا نے قرض دیا“ . چچا سے مراد کوفہ کاگورنر تھا. حضرت عمرؓ نے فوراً گورنر کو مدینہ طلب کیا، جو صحابی رسول پاک بھی تھے. ان سے حضرت عمرؓ نے پوچھا ”کیا وہاں بیت المال میں اتنی دولت آگئی ہے کہ شہری کو قرضہ دے سکتے ہو؟“ گورنر نے جواب دیا : ”نہیں ، ایسا تو نہیں“ . حضرت عمر ؓ نے پوچھا ”پھر تم نے میرے بیٹے کو قرض کیوں دیا، اس لئے کہ وہ میرا بیٹا ہے؟ میں تمہیں معزول کرتا ہوں کیونکہ تم امانت داری کے اہل نہیں ہو.“ پھر حضرت عمر ؓ نے اپنے بیٹے کو حکم دیا ”

سارا مال بیت المال میں جمع کرادو، اس پر تمہارا کوئی حق نہیں“. دیکھنا ہوگا کہ کیا امت مسلمہ میں اس کردار کا کوئی حکمران موجود ہے جو عشق نبیﷺ اور عدل فاروقی کا نعرہ تو لگاتا ہے اور اس پر عمل بھی کرتا ہے؟