لٹی گئی پیپل پالٹی پیڑاں توانوں؟ باعث افتخار انجینئر افتخار چودھری

لو جی اک اور تکلیف کا مرحلہ آ گیا ہے ٹیسیں اٹھ رہی ہیں کہ بابر اعوان پی ٹی آئی میں کیوں چلے گئے ۔با با جی پیپل پالٹی کو اتنی تکلیف نہیں جتنی آپ نون غنیوں کو ہو رہی ہے۔بابر اعوان لوٹا ہو گیا ہے جی۔حضور وہ سینیٹ کی سیٹ سے استعفی دے کر ایک ایسی پارٹی میں چلا گیا ہے جو ابھی اقتتدار میں نہیں ہے اس کے سینیٹ کے دوبارہ ممبر منتحب ہونے کہ مستقبل قریب میں کوئی چانسز بھی نہیں ہے یہ جدو جہد کا دور ہے پانامہ کیس میں پی ٹی آئی ایک طویل لڑائی میں مصروف ہے بحیثیت قانون دان بابر اعوان نے اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے عمران خان کا ساتھ دیا تھا۔ٹاک شوز میں عدالتوں میں وہ پی ٹی آئی کے ساتھ تھے ہم سوچا کرتے تھے کہ وہ پارٹی کیوں نہیں جائن کرتے؟ اب وہ کھل کھلا کے عمران خان کے ساتھ آ گئے ہیں میڈیا پر ان کی باتیں سننے اور ماننے والوں کی کثیر تعداد ہے فواد چودھری شیخ رشید پہلے سے ہی کام کر رہے ہیں جو کچھ ہم سے ہو سکتا ہے وہ بھی حصہ ڈالا جا رہا ہے مجھے سمجھ نہیں آتی رونا پیپلز پارٹی کو چاہئے چیخیں نون لیگیوں کی کیوں نکل رہی ہیں۔آج ہم ایک افطار میں تھے زمرد خان بھی میز پر تھے اور غلام مرتضی ستی بھی ہم نے تو خان صاحب کو بھی کہا کہ آئیے حضور جائین کیجئے اچھے لوگوں کی ضرورت ہمیں سب سے زیادہ ہے۔اسی میز پر نیئر بخاری کے بھائی بھی موجود تھے اور صاحبزادہ ذولفقار اے جے کے والے بھی۔پاکستان تحریک انصاف نے حالیہ دنوں میں پیپلز پارٹی کی چھابڑی سے بہت سے امرود اڑا لئے ہیں ۔جناب زرداری بھی سوچتے ہوں گے کہ میں کون سا گناہ کر بیٹھا ہوں جو میرے پرانے ساتھ مجھے الوداع کہے بغیر بنی گالہ کی بیعت ہو رہے ہیں۔یہ سوال پیپلز پارٹی کے ہر فرد کو کرنا چاہئے میں نے وہ لوگ بھی دیکھے ہیں جو بھٹو ازم کے شیدائی تھے وہ بھی اب پارٹی کے بڑے کی زردارانہ سوچ پر اسے چھوڑ کر تحریک انصاف میں آ رہے ہیں۔انہیں یہ علم ہے کہ بی بی شہید کی لڑائی نواز شریف سے تھی۔اور انہیں اس بات کا بھی احساس ہے کہ بی بی کے وہ مخلاف جو اس کے لئے باعث تکلیف تھے انہیں زرداری اور ان کی ٹیم نے ہر وقت مدد فراہم کی اور لوگوں کے جذبات کو مجروح کیا۔گرچہ پیپلز پارٹی نے نون کے ساتھ میثاق جمہوریت کیا لیکن ذرا سوچیئے کہ اس وقت حالات کیا تھے؟جنرل مشرف پوری طاقت کے ساتھ اقتتدار میں تھے بی بی کو عدالتوں میں گھسیٹ گھسیٹ کے مندہ حال کر دیا تھا نواز سریف طے کردہ جلاوطنی میں تھے ایسے میں مل جل کر ایک بڑے مخلاف کے خلاف یہ میثاق ہوا۔لیکن جب بی بی اس دنیا سے چلی گئی تو آصف علی زرداری اور مرسیڈیز ٹیم نے پاکستان کو جی بھر کے لوٹا پیپلز پارٹی کا دور اقتتدار سیاہ تر تھا اور نواز شریف کا سیاہ ترین۔
سچ پوچھئے جب زرداری نے اس پارٹی سے ہاتھ اٹھایا تو اس نے اڑان پکڑی تھی مگر ایک آسیب کے سائے کی طرح ان کا وجود پارٹی کو لے بیٹھا بلاول نے ایک نئے انداز سے ابھرنا شروع کیا اور اس دوران آصف علی زرداری نے اس کے پر کاٹ دیئے۔ایسے میں پارٹی کے لیڈران کہاں جاتے ظاہر ہے وہ نون لیگ کے تو نہیں تھے اور نہ ہی وہ جماعت اسلامی میں جا سکتے تھے انہوں نے تحریک انصاف کو بہتر چوائس سمجھ کے اسے اپنا انتحاب بنایا۔میں سمجھتا ہوں عمران فوبیا ایک ایسی بیماری ہے جس کا شکار نون غنوے ہو چکے ہیں ان کا دل کرتا ہے کہ گلیاں ہوون سونیاں وچ مرزا یار پھرے ان کا تو پلان تھا کہ اک واری تیری تے اک میری۔ان کے لئے یہ پریشانی بڑی پریشانی ہے کہ بیچ میں عمران خان کہاں سے آن ٹپکا ہے۔ڈھلوں نے کالا کوٹ ایویں نئی پایا کچھ کر کے ہی پایا ہے۔تحریک انصاف ایک ٹانگے کی پارٹی تھی لیکن جب اس نے مزاحمت کی سیاست کی تو اللہ نے اسے پاکستان کی بڑی سیاسی جماعت بنا دیا۔
ان کی باتیں سنیں تو تو بندہ ہنس ہنس کر دوہرا ہو جاتا ہے ایک صاحب کہنے لگے عمران کو سیاست نہیں کرنا چاہئے تھی اسے بس کرکٹ میں رہنا چاہئے تھا۔میں کہا تماہری مرضی تھی کہ اتنا بڑا لیڈر ببنے کی بجائے وہ ایریل کی مشہوری کرتا۔لوگ ایسے ہی نہیں پارٹی میں شمال ہو رہے اس کے پیچھے طویل جدوجہد ۔عمران نے جب اسلام آباد ناک ڈائون کا اعلان کیا تو اور سپریم کورٹ کی مداخلت پر کال واپس لی تو لوگوں نے کہا کہ گیا عمران خان کتنی بڑی غلطی کر گیا۔لیکن عدالتوں نے جب شرفاء کو ننگا کیا تو پتہ چلا ساری کی ساری نسلیں فراڈ ہیں۔ایسے موقع پر مجھے نون لیگیوں سے ہٹ کر اپنے ان دوستوں سے بات کرنا ہے جو فیس بک کے فلاسفر بنے ہوئے ہیں۔جی عمران نے نظریاتی لوگوں کو مایوس کیا ہے؟خان اپنے وعدے سے پھر گیا ہے۔میں ان کا حترام کرتا ہوں مگر سچ پوچھیں یہ وہ لوگ ہیں جو کمپیوٹر پر بیٹھ کر تیر چلاتے ہیں۔سڑکوں پر لڑنے مرنے والے جانتے ہیں کہ قائد کا اک اشارہ کیا معنی رکھتا ہے۔بعض کا خیال ہے کہ عمران خان نے دل توڑ دئے ہیں حضور سر عام بازاروں میں فیس بک کے اسٹیٹس پر عمران خان کی مخالفت نہ کریں۔پارٹی کے ہر قائد کا پیج ہے میسیج دیجئے لڑائی پارٹی کے اند رہ کر لڑئے یہ کیا بات ہوئی کہ جب حلات جنگ ہو تو اپنے گھوڑے الگ کر کے کہیں جی ہم سے مشورہ نہیں ہوا۔ہاشمی کے ساتھ برسوں گزارے ہیں ان سے بھی یہی گلہ ہے کہ میدان جنگ ڈی چوک تھا ملتان نہیں اور دیگر دوست جو سمجھتے ہیں کہ پارٹی کو یوں کرنا تھا آتے نہ بیٹھتے ہمارے ساتھ وجیہالدین آئے تو سوپر جج بن گئے اس کو نکال دو فلاں کو ختم کرو۔با با جی آپ کی پارٹی ہے ناں چلائیں اسے۔نئے آنے والوں کو خوش آمدید کہیں۔پارٹی ٹکٹ ابھی نہیں ایشو ہوئے اس وقت بھی میرے جیسے کارکن کا طریقہ اپنائیں دو بار مجھے ٹکٹ نہیں دیا گیا ہم نے تو حمائت ترک نہیں کی ہم نے تو بلے باز کا نشان نہیں لیا۔ہاں اس بار اللہ کے ہاں پوری امید ہے کہ پی پی چھ راولپنڈی کا ٹکٹ ملے گا۔اور اس یقین دہانی کے ساتھ کہ ہم اندر باہر سے انصافین ہیں گائوں میں بھی شہر میں بھی نہ ہم نے فوائد سمیٹے نہ کامیابیاں فروخت کیں۔ایک دوست کہہ رہے تھے چودھری صاحب قربانی دیں میں نے کہا بلکل مگر اللہ میاں کو کو بھی جوان بکرہ پسند ہوتا ہے۔بار بار بوڑھے کو کیوں آگے کرتے ہو۔ہم نے پارٹی اس وقت جائن کی جب نون پر عروج آ رہا تھا اس سے پہلے میاں نواز شریف خود مجھے کہہ چکے تھے کہ تیاری پکڑیں۔جب چھوڑ دیا تو چھوڑ دیا۔آج گیارواں سال ہے اس پارٹی کے لیئے صبح شام کی ہو ئی ہے۔دوستو! اب گلے شکوے کا وقت نہیں عمران خان کو ایک بار وزارت عظمی پر بٹھائیں پھر پی ایم ہائوس پہنچ کر گلہ کر لینا۔ باقی رہی بات نون لیگیوں کی آپ کے نصیب میں جو لکھا گیا ہے اسے خواجہ آصف کی زبانی کہے دیتا ہوں کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے ویسے لٹی گئی پپل پالٹی پیڑاں توانوں؟