وقت کا پہیہ روکیں! میاں صاحب باعث افتخار انجینئر افتخار چودھری

تاریخ تو ہمیں موقع دیتی ہے کہ ہم اس سے سبق سیکھیں مگر ہمارے اندر کا شیطان کوئی تگڑی چیز ہے جو ہمیں بندہ نہیں بننے دیتا۔یہ ۲۰۰۴ کی بات ہے میں عمرے کے لئے جدہ گیا تھا اسی روز اطلاع آئی کے میاں شریف کا انتقا ل ہو گیا ہے۔پاکستان آئے ہوئے دو سال گزرے تھے۔جدہ میںمیاں شریف کے ساتھ بیٹھنے کے متعدد مواقع ملے تھے ۲۰۰۲ میں آمر نے ظلم کیا اور مجھ سمیت کئی پاکستانیوں کو جبری بے دخل کروا کے پاکستان منگوا لیا۔حرم میں میاں شریف کی نماز جنازہ پڑھائی گئی فجر کی نماز کے بعد ان کا جس خاکی حرم لایا گیا۔نماز کے بعد لوگ باب عبدالعزیز پر اکٹھے ہوئے میں بائیں ہاتھ ایک اونچی جگہ پر پہنچا میاں نواز شریف کی طرف سے لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔اور اپیل کی کہ لوگ گھروں کو چلے جائیں۔ سہیل ضیاء بٹ دوڑتے ہوئے میرے پاس آئے اور کہا کہ میاںصاحب نے کہا ہے کہ آپ فورا سرور پیلیس پہنچیں۔رمضان کے دن تھے صبح کے کوئی نو یا دس بجے کا وقت ہو گا۔میں سرور پیلیس گیا ادھر میاں صاحب محل کے بڑے کمرے کے باہر کھڑے تھے ان کے ساتھ خواجہ سعد رفیق خواجہ آصف اور سینئر مسلم لیگی بھی تھے۔میں ان کے گلے لگا وہ رو رہے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ دیکھیں چودھری صاحب ہمارے ساتھ ظلم ہوا ہمارے والد ظالم کی وجہ سے بیرون ملک اللہ کو پیارے ہوئے۔میں نے ڈھارس بندھائی۔اور سچ پوچھیں میری آنکھیں بھی تر تھیں۔اس لئے کہ ہم مل کر ایک جابر کا مقابلہ کر رہے تھے میری والدہ اسی غم سے دنیا سے جا چکی تھیں۔میں آج سیاست نہیں کرنا چاہتا بس اتنا کہوں گا کہ میاں صاحب آج جمشید دستی بھی رویا ہے۔اس دن آپ بھی روئے تھے۔اور راقم بھی۔بس میں نے آپ سے یہ سوال کرنا ہے کہ کردار کیوں بدل گئے ہیں؟اٹک قلعے میں آپ کی زیادتی اب جمشید دستی کو کیوں منتقل ہو گئی ہے۔ہو سکتا ہے کہ اس نے اپنی گفتگو سے آپ کو دکھ دئے ہوں لیکن کیا وقت کے پہئے کو آپ روک سکیں گے کل یہ پلٹے گا تو آپ پھر روئیں گے۔ سچ تو یہ ہے کے یہ بے رحم کسی کا نہیں ہوتا ۔کل آپ روئے تھے اور افتخار رویا تھا آج جمشید دستی رو رہا ہے۔یہ باری پھر آ سکتی ہے۔بہادر لوگ طاقت ملنے کے بعد کمزور کو نہیں دباتے۔وقت کا پہیہ روک لیجئے میاں صاحب دستی کو رہا کریں