”ٹانسلز آپریشن کے بغیر ٹھیک ہوسکتے ہیں “ طب نبویﷺ سے لاجواب نسخہ

لاہور(حکیم محمد عثمان)بحیثیت مسلمان ہمارا اس بات پر کامل یقین ہونا چاہئے کہ جو علاج وحی الٰہی کے ذریعہ تجویز کیا گیا ہو‘ اس کا مقابلہ اس علاج سے بہتر ہے جو صرف تجربہ اور قیاس کامرہون منت ہو‘ ان دونوں کے درمیان ایڑی چوٹی سے بھی زیادہ فرق ہے۔ ہمارے معالج تو طب مغرب کے غلام ہےں اور انکی دوا پر آنکھیں بند کرکے یقین کرلیتے ہیں حالانکہ وہ ادویہ چند سال بعد ہی مضر کہہ کر رد بھی کردی جاتی ہےں۔یہ امتیاز صرف طب نبویﷺ کو حاصل ہے کہ سرکار دوعالم ﷺ نے جو علاج ہدایت کیا چودہ سو سال گزرنے کے بعد بھی شفا کا مسلمہ ذریعہ ہےں۔آپﷺ نے جن نباتات کے خواص سے بنی نوع انسان کو آگاہ کیا ان میں ایک قسط بھی ہے جسے عام طور پر عود الہندی کہا جاتا ہے۔عام لوگ اس نام کی وجہ سے اسکو نہیں جانتے حالانکہ اسکی ایک شکل اگربتیوں کی صورت میں بہت مشہور ہے۔عود الہندی سے بنی اگربتیاں مختلف رنگوں میں بھارت اور پاکستان میں بہت عام ہےں۔انکو جہاں روحانی آسودگی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے وہاں اسکے جسم پر بہت گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔خاص طور ٹانسلز کی سوزش کم کرنے میں یہ لاجواب ہے۔ رسول اللہﷺ نے اسے کثرت نافع کی وجہ سے بہترین طریق علاج قرار دیا ہے۔

حضرت جابرؓ سے مروی ہے ” پیغمبرخداﷺ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے، ان کے پاس ایک بچہ تھا جس کے نتھنوں سے خون بہہ رہا تھا، آپﷺنے فرمایا تم عورتوں کا ناس ہو! اپنی اولاد کو ہلاک نہ کرو!جب کسی عورت کے بچہ کو عذوہ یاسر میں درد ہوتو اسے چاہیے کہ عود ہندی لے اور اسے پانی میں رگڑے پھر اس کوناک میں چڑھائے“ چنانچہ حضرت عائشہؓ نے اس تدبیر کے کرنے کی ہدایت دی تو وہ بچہ تندرست ہوگیا۔“
”عذوہ“ حلق کے درد کو کہتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ ایک بیماری ہے جس کاسبب حلق میں خون کا ہیجان ہوتا ہے اور اس سے حلق کی گلٹیوں میں سخت تکلیف ہوتی ہے، اطباء اسے ”لوزتین“ کہتے ہیں اور عورتیں اس کو بنات الاذن کہتی ہیں ۔اس کا علاج انگلیوں کے ذریعہ کیا جاتا ہے تاکہ وہ گلٹیاں اپنی جگہ واپس آجائیں۔گلے پر تیل اور خوشبو سے مالش کا بھی یہی فائدہ ہوتا ہے۔لیکن اس علاج کے لئے عموماً اب ہفتوں اینٹی بائیوٹک دے کر بچوں کی صحت تباہ کردی جاتی ہے۔
عود الہندی ،قسط کا ذکر احادیث میں کافی جگہ موجود ہے۔صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت انسؓ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا۔
”جن چیزوں سے تم علاج کرتے ہو‘ ان میں سب سے بہترین دوا پچھنا لگوانا اور قسط سمندری ہے“مسند میں ام قیسؓ سے مروی ہے ۔آپﷺ نے فرمایا ”تم اس عود ہندی کو بطور دوا استعمال کرو‘ اس لئے کہ اس میں سات بیماریوں کے لئے شفاء ہے۔ ذات الجنب ان ہی میں سے ایک بیماری ہے“۔
قسط شیریںکا پودا آزادکشمیر میں دریائے جہلم اور دریائے چناب کے کناروں کے ساتھ کے ساتھ بڑی کثرت سے پایا جاتا ہے ۔قسط دو طرح کی ہوتی ہے۔ ایک سفید رنگ کی جس کو قسط سمندری کہتے ہیں اور دوسری قسم کو ھندی کہتے ہیں جو سفید رنگ کی قسط سے گرم تر ہوتی ہے۔ سفید قسط اگرچہ کم تر ہوتی ہے مگر فوائد میں اعلاہے تاہم دونوں قسم کی قسط تیسرے درجہ میں گرم خشک ہوتی ہیں۔
قسط بلغم کو خارج کرتی ،زکام کے لئے دافع ہے۔ اگر دونوں کو پیا جائے تو معدہ وجگرکی کمزوری کے لئے نافع ہیں۔ پہلو میں درد ہوتا ہوتو اسکا استعمال درد کو ختم کرتاہے۔ ہر قسم کے زہر کے لئے تریاق کا کام کرتی ، اگر اس کو پانی اور شہد کے ساتھ ملاکر چہرے کی مالش کی جائے تو چھائیاں ختم ہوجاتی ہےں۔ٹانسلز کے علاج میں قسط کا استعمال کیا جاتا ہے ۔روحانی و بدنی امراض میں اسکا علاج کیا جائے تو ثواب و دوا کا کا م دیتا ہے۔

کیٹاگری میں : صحت