اس گھر کو آگ لگ رہی ہے گھر کے چراغ سے باعث افتخار انجینئر افتخار چودھری

یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ کسی کا جی چاہے اور جب چاہے ہمیں کٹ پھنڈ کے چلا جائے کیا خوب صورت شعر ہے۔دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
حضور آگ اگر ایک بار لگتی تو دل پر پتھر رکھ کر برداشت کی جا سکتی ہے مگر جو آگ روز لگے تو اسسے کیا کہیں گے یہی ناں کہ اس گھر کو آگ لگ رہی ہے گھر کے چراغ سے
یہ بے حس اور مکروہ چہرے پاکستان کی تھالی میں کھاتے ہیں اور اسی میں گند کرتے ہیں۔اگر پاکستان آزاد نہ ہوتا تو دیکھتا کہ اچکزئیوں کے گھرانے کیسے گورنر،وزیر،سیکریٹری،ایم این اے،ایم پی اے بنتے اور میں یہ بھی دیکھتا کہ کہ جاتی امراء کے محل کیسے تعمیر ہوتے اور پاکستان کو ماں کا دودھ سمجھ کر پینے والے کیسے اس کے سینے پر مونگ دلتے۔اور دنیا یہ بھی دیکھتی کہ دو قومی نظرئے کے دشمن کس طرح ٹینکر سے بڑے پیٹ لے کر تہتر کے آئین کی روشنی میں ڈیزل پرمٹ لیتے۔اف اور

افسوس کے کھانواں پیواں منصے دا تئے نچھ آوے تئے جی ویرا۔بات دل کو لگتی تو نہیں مگر لوگ کہتے ہیں کہ جب کچھ بن نہیں پا رہا تھا اور عمران خان دھرنے کو سالوں تک پھیلانا چاہتے تھے تو ایک خونیں واردات پشاور میں ہوئی اور اس کے ساتھ ہی دھرنا ختم ہو گیا۔یہ میں نہیں کہتا لوگ کہتے ہیں۔اور کہنے والے کہتے ہیں کہ اقتتدار کے لئے مولوی فضل اور میاں صاحب کچھ بھی کر سکتے ہیں۔انڈیا کے ساتھ دوستی کے رشتے گرچہ میاں نواز شریف کے بھی ہیں مگر جو روابط مولانا فضل الرحمن کے ہیں وہ کسی کے بھی نہیں۔ایں چہ بوالعجبی ایست کو ذرا تفصیل میں دیکھئے تو آپ کو پتہ چل جائے گا کہ ان کانگریسی ملائوں نے پاکستان بنانے کی کتنی مخالفت کی تھی ان علماء میں اکثریت علماء دیو بند کی تھی گرچہ مولانا شبیر عثمانی جنہوں نے قائد اعظم کا جنازہ پڑھایا تھا۔قائد کے جنازے کی دو اہم باتیں یاد رکھنی ہوں گی کہ ایک تو اسے دیوبندی نے پڑھایا اور دوسرا ایک فرد نے نہیں پڑھا جس سے پوچھا گیا کہ کیوں نہیں پڑھا تو اس کا جواب تھا یا یہ مسلمان ہے اور یا میں۔اور وہ سر چودھری ظفراللہ ساہی قادیانی تھا۔مدت ہوئی ہے ان سیاہ بختوں کے بارے میں بات نہیں کر سکا جو اس بار مودی کے دورہ اسرائیل میں اسرائیلی قیادت کے ساتھ دیکھے گئے تھے۔کبھی بات ہو گی تو تفصیل میں جائوں گا کہ پاکستانی کی تباہی میں قادیانیوں اور کانگریسی ملائوں کا کتنا ہاتھ ہے۔یہ الگ بات ہے کہ قادیانیوں کی سرکوبی میں علمائے دیو بند نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔میں ان کی سیاسی سوچ کا جتنا بھی مخالف بنوں مگر تحریک ختم نبوت میں دیوبندیوں نے کمال کام کیا گرچہ سنی بریلوی اس ہراول دستے کے قائدین تھے۔گجرانوالہ کے اشرف العلوم کے باہر سے اسی جد وجہد میں شریک خاکسار کو گرفتار کیا گیا تھا(راقم تحریک کے دوران گجرانوالہ سے گرفتار ہوا )قائد اعظم سے دیوبندی اکثریت کی نفرت کا یہ عالم تھا کہ وہ انہیں کافر اعظم بھی کہہ گئے اس بات کی کوئی اگر تکفیر کرے تو مجھ سے رابطہ کر کے میری اصلاح کرے( سب نہیں)مولانا فضل الرحمن اس وقت نواز شریف کے ساتھ کیوں کھڑے ہیں؟ اس کا جواب آپ کو جلد مل جائے گاحیران کن بات تو یہ ہے کہ جب بھی میاں صاحب کی کشتی بھنور میں پھنستی ہے کوئی ان کا دوست انہیں اچھال دیتا ہے اور یہ فخر نون غنے ہمیشہ کرتے ہیں مگر یہ چھلاوہ بارڈر پر پھول برسانے کے بعد ہمارے شہروں ہماری گلیوں اور کوچوں اسکولوں چھائونیوں پر بھی اظہار محبت کرتا ہے ارفع کریم ٹاور کے قریب شہادتیں ہوئیں پوری قوم کے دکھ کی طرح مجھے بھی افسوس ہے۔اس موقع پر چودھری نثار علی خان کو جو آج پریس کے سامنے خفت اٹھانی تھی اس دھماکے کی وجہ سے ان کی چھٹ گئی۔ حضرت اس سے پہلے ایک امریکی خاتون میڈین البرائیٹ کو بھی اپنی خدمات پیش کر چکے ہیں کہ ہم داڑھی والوں پر بھی اعتبار کر کے دیکھ لیں۔ (جب لال مسجد کا واقعہ ہوا تو مولنا فضل مشرف کی گود میں تھے اور میں نالے میں جلے ہوئے قران کے ٹکڑے اکٹھے کر رہا تھا)لاہور کا دھماکہ قابل مذمت ہے طرح جس طرح پشاور کوئٹہ راولپنڈی کے دھماکے ہیں۔قوم کو اس سوال کا جواب چاہئے کہ ٹایمز آف انڈیا میں چھپے اس مضمون اور اس سے پہلے ریپبلک چینیل پر ایک بھارتی نے بھی کہا تھا کہ نواز شریف پر ہماری بھاری انویسٹمنٹ ہے ہم اسے کسی صورت ڈوبتے نہیں دیکھنا چاہتے اور اب آئے روز کشمیریوں کی شہادتیں اور کل بھوشن پر مجرمانہ خاموشی کیا معنی رکھتی ہے۔بھارت کے اس اخبار نے لکھا کہ اگر نواز شریف کمزور ہو گا تو فوج طاقت ور ہو گی اور اگر یہ ہوا تو کشمیر ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا۔دشمن کی اس بات میں وزن ہے پاکستان کے وزیر اعظم سے یہ سوال پوچھا جانا چاہئے کہ حضور اس کے پیچھے کیا ہے؟کیا ہم بھارت کے کشمیر پر آئے روز ہونے والے حملوں پر جو مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں اس سے آزادی ء کشمیر کی تحریک کی پیٹھ میں چھرا تو نہیں گھونپا جا رہا اور اس سے کشمیری بد دل نہیں ہوں گے۔اس وقت کی صورت حال یہ ہے کہ الحاق کشمیر کے نعرے میں کوئی جان نہیں رہی۔یہ پاکستانی حکومت اور خاص طور پر کشمیری نسل نواز شریف کی حکومت کی کشمیریوں کے پیچھے سے ہاتھ کھینچنے کی وجہ سے ہوا ہے۔ہم نے بیرونی لوگوں کے کہنے پر حافظ سعید کو نظر بند کیا۔جد وجہ آزادی کا نعرہ لگانے والوں کو گرفت میں لیا۔یہی وجہ ہے کہ بھارت اب ہماری حدود میں آ کر ہمیں مار رہا ہے اجیت دوول نے ایک مدت پہلے کہا تھا کہ ہم پاکستان کو اندر سے مار دیں گے۔اندر سے کشمیر کمیٹی کا چیئرمین اس شخص کو بنایا جسے پاکستان کے بنیادی نظرئے سے اختلاف ہے جس کے اکابرین ایک متحدہ ہندوستان کی بات کیا کرتے تھے۔جس طرح اداروں پر اپنے لوگ بٹھا کر اس ملک کا مال شیر مادر سمجھ کر پیا گیا ظفر حجازی ،سعید احمد،اسحق ڈار اور بعین مولانا فضل الرحمن یہ سب لوگ اجیت دوول کی تھیوری کے کارندے ہیں۔یہ فضل الرحمن ہی ہیں جو مدارس کو جہالت کی کھیتیاں کہنے والے پرویز رشید کی پارٹی کے ساتھ انجوائے کر رہے ہیں اور انہیں نفرت ہے عمران خان سے جس نے قران پاک کی تعلیمات حفظ کو نصاب کا حصہ بنایا جامع حقانیہ اور دیگر مدارس کے لئے سب سے زیادہ امداد دی اسے اس جرم میںیہودی ایجینٹ کہا۔دھماکے پاکستان کی کمر توڑنے کے لئے ہو رہے ہیں اور

پاکستان دشمن چاہتے ہیں کہ فوج کے اوپر انگلیاں اٹھیں کہ آپریشن ردالفساد ناکام ہے۔کراچی آپریشن فوج نے کیا ایٹمی دھماکے فوج نے کروائے سیلابوں کے سامنے بند باندھنے فوج جاتی ہے روز شہیدوں کو وصول کرتی ہے سیاچین پر یہ جنوبی پنجاب،فاٹا ،سوات میں امن بحال کرے یہ فوج۔اس فوج کے خلاف میاں صاحب اور دیگر لوگوں کی بشمول زرداری کی ہرزہ سرائیاں دنیا سن چکی ہے۔اس وقت فوج کی پشت پر عوام ہے اور اگر کسی کو یہ شک ہے کہ نون لیگ کی کسی مہم جوئی کے بعد لوگ نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہوں گے تو یہ ان کی بھول ہے۔مجھے مکہ مکرمہ کا قصر ضیافت یاد ہے جہاں میاں صاحب قوم پر شاکی تھی کہ میں نے قدم بڑھایا تو پیچھے مڑ کر دیکھا کوئی نہ تھا۔اس وقت کوئی مشاہد حسین کہا کرتے تھے میاں صاحب کڈ کڑاکے دیو اب بھی اسی طرح کے لوگ میاں صاحب کا پینڈہ کھوٹا کر رہے ہیں۔قوم ان دھماکوںکے پیچھے انڈیا کو دیکھ رہی ہے اور اب سوال کرتی ہے کہ سولین حکومت کیا جواب دیتی ہے۔ اس کے پیچھے ملا بابو گٹھ جوڑ ہو سکتا ہے۔یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ کسی کا جی چاہے اور جب چاہے ہمیں کٹ پھنڈ کے چلا جائے کیا خوب صورت شعر ہے
دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
حضور آگ اگر ایک بار لگتی تو دل پر پتھر رکھ کر برداشت کی جا سکتی ہے مگر جو آگ روز لگے تو اسسے کیا کہیں گے یہی ناں کہ اس گھر کو آگ لگ رہی ہے گھر کے چراغ سے
یہ بے حس اور مکروہ چہرے پاکستان کی تھالی میں کھاتے ہیں اور اسی میں گند کرتے ہیں۔اگر پاکستان آزاد نہ ہوتا تو دیکھتا کہ اچکزئیوں کے گھرانے کیسے گورنر،وزیر،سیکریٹری،ایم این اے،ایم پی اے بنتے اور میں یہ بھی دیکھتا کہ کہ جاتی امراء کے محل کیسے تعمیر ہوتے اور پاکستان کو ماں کا دودھ سمجھ کر پینے والے کیسے اس کے سینے پر مونگ دلتے۔اور دنیا یہ بھی دیکھتی کہ دو قومی نظرئے کے دشمن کس طرح ٹینکر سے بڑے پیٹ لے کر تہتر کے آئین کی روشنی میں ڈیزل پرمٹ لیتے۔اف اور افسوس کے کھانواں پیواں منصے دا تئے نچھ آوے تئے جی ویرا۔