اس مچھیرے نے سمندر میں غوطہ مارا اور جب باہر آیا تو جسم اس طرح پھول چکا تھا، کسی چیز نے نہیں کاٹا بلکہ۔۔۔ کیا غلطی وجہ بنی؟ اگلی مرتبہ پانی میں جانے سے پہلے یہ خبر ہر صورت پڑھ لیں

لیما(نیوز ڈیسک)سکوبا ڈائیونگ ایک مشکل اور پر خطر مشغلہ ضرور ہے لیکن مہم جو افراد میں بہت مقبول ہے۔ سکوبا ڈائیونگ کرتے ہوئے سمندر کی گہرائی میں غوطہ لگانے کے لئے بہت مہارت اور احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ گہرائی سے تیزی کے ساتھ سطح کی جانب ابھرنا انسانی جسم کے لئے ناقابل تلافی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ پیرو سے تعلق رکھنے والا آلے ہاندرو ریمس مارٹینیز کے ساتھ پیش آنے والا دلخراش واقعہ ایک ایسی ہی مثال ہے۔

میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق آلے ہاندرو سمندر میں مچھلیاں پکڑنے گیا تھا، جہاں اس نے سکوبا ڈائیونگ سے بھی لطف اندوز ہونے کا فیصلہ کیا۔ اس سے یہی غلطی ہوئی کہ احتیاط کا دامن چھوڑتے ہوئے وہ غیر معمولی تیزی کے ساتھ سطح آب کی جانب اٹھا لیکن تیزی کے ساتھ ابھرنے کی وجہ سے پڑنے والے دباﺅ کی وجہ سے اس کے جسم میں خوفناک بگاڑ پیدا ہو گیا۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ غیر معمولی دباﺅ کی وجہ سے اس کے خون میں موجود نائیٹروجن بلبلوں میں بدل گئی جس کے باعث اس کے جسم کے متعدد حصوں میں سوجن اور بگاڑ پیدا ہوا۔ نائیٹروجن کے بلبلوں کی وجہ سے اس کی چھاتی اور بازو بری طرح پھول گئے اور جسم کے دیگر اعضاءبھی متاثر ہوئے۔

ماہرین اس کیفیت کو ’ڈی کمپریشن سکنس‘ کا نام دیتے ہیں جو پانی کے اندر سکوبا ڈائیونگ کرتے ہوئے بہت تیزی کے ساتھ اوپر اٹھنے کے دوران پیدا ہوتی ہے۔ آلے ہاندرے کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ نائیٹروجن کے بلبلے گوشت اور پٹھوں کے اندر پھنس گئے اور ان کے دباﺅ کی وجہ سے اس کا جسم بری طرح پھول گیا تھا۔

سان ہوان ڈی ڈیاس ہسپتال کے ڈاکٹر اس کے جسم سے تقریباً 30 فیصد نائیٹروجن نکالنے میں کامیاب ہوگئے ہیں لیکن ابھی بھی نائیٹروجن کے بڑی مقدار بلبلوں کی صورت میں خون اور پٹھوں کے اندر موجود ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ باقی ماندہ نائیٹروجن کو نکالنے کیلئے آپریشن کرنا پڑے گا، لیکن یہ آپریشن خطرناک ثابت ہوسکتا ہے اور تاحال اس کا حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

کیٹاگری میں : صحت