پاکستان کے نشان حیدر پائلٹ راشد منہاس کی شہادت کا باعث بننے والے ان کے جہاز میں موجود غدار ٹیچر کے ساتھ بعد میں بنگلہ دیش کی حکومت نے کیا سلوک کیا؟

کراچی(نیوز ڈیسک) پاکستان کے بہادر سپوت راشد منہاس نے 20 اگست 1971 کے روز اس وقت وطن سے محبت کی لازوال مثال قائم کر دی جب انہوں نے اپنے طیارے کو ہائی جیک کر کے بھارت لے جائے جانے کی مکروہ کوشش کو اپنی جان پر کھیل کر ناکام بنا دیا۔ انہیں اس عظیم قربانی کے اعتراف میں پاکستان کے اعلٰی ترین فوجی اعزاز نشان حیدر سے نوازا گیا۔

شہید راشدمنہاس کے طیارے کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کرنے والا ایک بنگالی فلائیٹ لیفٹنٹ مطیع الرحمان تھا، جسے قیامت تک غدار کے شرمناک خطاب کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔ پاکستان میں تو بچہ بچہ اس بدبخت کو غدار کے نام سے جانتا ہے لیکن آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ بزدلی اور پیشہ ورانہ بدیانتی کی شرمناک مثال قائم کرنے والے اس شخص کو بنگلا دیش نے اپنے اعلیٰ ترین فوجی اعزاز سے نواز رکھا ہے۔

مطیع الرحمان 1971 میں پی اے ایف بیس مسرور کراچی میں انسٹرکٹر پائلٹ تعینات تھا۔ پائلٹ آفیسر راشد منہاس 20 اگست 1971 کے روز لاک ہیڈ T-33 طیارے میں اپنی دوسری تنہا پروز پر روانہ ہو رہے تھے کہ مطیع الرحمان نے انہیں رکنے کا اشارہ کیا اور کاک پٹ میں داخل ہو گیا۔ اس نے نوجوان پائلٹ کو آہنی آلے کے وار سے بے ہوش کر دیا اور طیارے کو اڑا کر بھارت کی جانب پرواز شروع کر دی۔ دریں اثناءراشد منہاس کو ہوش آیا تو انہیں صورتحال کا اندازہ ہو گیا اور انہوں نے طیارے کا رخ موڑنے کی کوشش شروع کر دی۔ اگرچہ وہ زخمی حالت میں تھے اور ان کے لئے اپنے حواس بحال رکھنا بھی مشکل تھا لیکن انہوں نے اپنی تمام توانائیوں کو مجتمع کرتے ہوئے عزم کر لیا کہ وہ اپنے طیارے کو بھارتی سرحد کے پار نہیں جانے دیں گے۔

انہوں نے غدار مطیع الرحمان کی تمام کوششوں کو ناکام بناتے ہوئے طیارے کا رخ پاکستان کی جانب موڑنے کی کوشش جاری رکھی اور اسی کوشش کے دوران بھارتی سرحد سے تقریباً 51 کلومیٹر کی دوری پر ان کا طیارہ زمین سے جا ٹکرایا۔ اگرچہ وہ طیارے کے گرنے سے قبل ہی کاک پٹ کو کھول کر مطیع الرحمان کو باہر گرانے میں کامیاب ہو گئے تھے لیکن طیارے کی بلندی خطرناک حد تک کم ہونے کی وجہ سے یہ زمین سے جا ٹکرایا۔ پائلٹ آفیسر راشد منہاس اس واقعے میں شہادت کے رتبے پر فائز ہوئے اور ان کے طیارے کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کرنے والا غدار واصل جہنم ہوا۔

بنگلا دیشی حکومت مطیع الرحمان کی لاش واپس لینے کے لئے 30 سال تک منت سماجت کرتی رہی اور بالآخر جون 2006 میں یہ درخواست قبول کر لی گئی۔حکومت بنگلا دیش نے اسے اپنا قومی ہیرو قرار دے کر سب سے بڑے فوجی اعزاز سے نوازا اور میر پور، ڈھاکہ میں دوبارہ اس کی تدفین کی گئی۔