امریکہ پاکستان سمیت خطے میں مداخلت بندکرے : ایرانی حکام

اسلام آباد،تہران (ویب ڈیسک ) چین کے بعد ایران نے بھی دہشتگردی کے خاتمے اور علاقائی امن و استحکام کے حوالے سے پاکستان کی حمایت کا اعلان کیا اور امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان سمیت خطے میں مداخلت بند کرے۔

تفصیلات کے مطابق پیر کو وزیرخارجہ خواجہ محمد آصف ایک روزہ دورے پر ایران پہنچے تھے جہاں انہوں نے ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں اور علاقائی امن و استحکام اور نئی امریکی خارجہ پالیسی پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر مشیر قومی سلامتی ناصر جنجوعہ، سیکریٹری تہمینہ جنجوعہ بھی وزیر خارجہ کے ہمراہ تھے۔ تہران پہنچنے جہاں ایرانی وزارت خارجہ کے ڈی جی اسلامی نے ائیرپورٹ پر پاکستانی وفد کا استقبال کیا۔ خواجہ آصف نے تہران میں پہلی ملاقات ہم منصب جواد ظریف نے کی۔ ملاقات میں دونوں ملکوں کے تعلقات ، خطے کی سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ ملاقات افغانستان اور جنوبی ایشیاءسے متعلق نئی امریکی پالیسی کا جائزہ لیا گیا۔

اس موقع پر ایرانی وزیر خارجہ نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں اور کامیابیوں کو سراہا اور کہا کہ علاقائی امن و استحکام میں پاکستان کا ہم کردار ہے۔ اس ضمن میں ایران پاکستان کی بھر پور حمایت کر تا ہے اور افغانستان کے مسئلے کے علاقائی اور سیاسی حل کا حامی ہے ۔ خواجہ محمد آصف نے حمایت کی یقین دہانی پر ایرانی وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کیا اور انہیں دہشتگردی کیخلاف جنگ اور علاقائی امن کے حوالے پاکستان کے مﺅقف سے آگاہ کیا۔ وزیر خارجہ آصف کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن پورے خطے پر وسیع اثرات مرتب کرے گا اور تہران کو بھی افغان مسئلے کے حل پر اتفاق رائے کیلئے تیار کرنا ہے۔

بعد میں خواجہ محمد آصف نے ایران کے صدر حسن روحانی سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان اور ایران کے باہمی تعلقات اور افغانستان سمیت خطے کی صورتحال پر بات چیت ہوئی، ملاقات میں مشیر قومی سلامتی ناصر جنجوعہ ، سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ، پاکستان کے سفیر اور ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف بھی موجود تھے۔ملاقات میں جنوبی ایشیا سے متعلق امریکی پالیسی کے خطے پر اثرات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں مشیر قومی سلامتی ناصر جنجوعہ، سیکریٹر ی خارجہ تہمینہ جنجوعہ، پاکستان کے سفیر اور ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف بھی موجود تھے۔ خواجہ آصف نےایران کے نائب صدر برائے اقتصادی امور محمد نہاوند یان سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

بعدازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ افغانستان کے پڑوسی ملکوں کو افغان مسئلے سے نمٹنے کیلئے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کرنا ہو گااور تہران دورے کا مقصد افغانستان کے پڑوسیوں کو کچھ معاملات پر اتفاق رائے کیلئے تیار کرنا ہے ۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ انہوں نے چین کے دورے میں افغانستان کے سیاسی حل پر زور دیا اور دورہ ترکی میں بھی افغانستان پر علاقائی اتفاق رائے پر بات کریں گے ۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن پورے خطے پر وسیع اثرات مرتب کرے گا اس لئے علاقائی مسائل خطے کے ملکوں کو خود حل کرنے چاہئیں اور افغانستان مسئلے کے حل کیلئے بھی علاقائی ممالک میں اتفاق رائے ہونا چاہئے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکی فوج افغانستان کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہو چکی ہے، افغان مسئلے کا فوجی حل نہیں ہو سکتا اس لئے اس کا سیاسی حل ہونا چاہئے تاہم برآمد کیے گئے حل کارآمد نہیں ہوتے۔خواجہ آصف نے کہا کہ ایک عشرے سے افغانستان میں امن کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ خواجہ آصف کی ایرانی قیادت سے ملاقاتوں کے بعد میڈیا کو بریفنگ میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے کہا کہ پاکستان کے اعلیٰ سطح کے وفد نے وزیر خارجہ کی قیادت میں ایران کا دورہ کیا ہے۔ خواجہ آصف کا دورہ خوش آئندہ ہے۔ اس سے دونوں ملکوں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ خواجہ محمد آصف کی ایرانی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں میں اہم علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان باہمی دلچسپی کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ ملاقات میں عالمی سطح پر ہونیوالی تبدیلیوں اور پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی، اقتصادی، سیکیورٹی اور سرحدی امور پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔

ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں غیر ملکی افواج کی موجودگی معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دے گی۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کا مﺅقف ہے کہ افغان مسئلے کا حل پر امن مذاکرات اور علاقائی اپروچ سے نکالا جائے ۔ انہوں نے امریکہ کا نام لئے بغیر کہا کہ جو لوگ افغانستان میں امن و استحکام چاہتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ افغانستان میں مداخلت ترک کر دیں اور افغانوں کو اپنے فیصلے خود کرنے دیں۔ بعد میں پاکستانی وفد تہران سے مشہد کیلئے روانہ ہوا، جہاں وفد کے اراکین امام رضا کے مزار پر حاضری دینگے۔ وزیر خارجہ خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ ہم تمام ہمسائیہ ممالک کے ساتھ پر امن تعلقات کی پالیسی پر کار بند ہیں لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی پاکستان کے ساتھ معنی خیز روابط میں رکاوٹ ہے۔