سٹیل مل کے مستقبل میں دفاعی اداروں کا دلچسپی کا اظہار ،خصوصی وفد بھیجنے کا فیصلہ ، ضروری انتظامات کی ہدایت کردی گئی

کراچی (ویب ڈیسک) ملکی سلامتی سے متعلق حساس ادارے کے افسران پر مشتمل ایک وفد اگلے ماہ پاکستان سٹیل مل کا دورہ کرے گا اور اس سے قبل انتظامیہ کو تمام ضروری کام اور انتظامات کی ہدایت کردی گئی، وفد کو ادارے سے متعلق مطلوبہ معلومات کی فراہمی اور اس کے سکیورٹی سسٹم سمیت دیگر تکنیکی پہلوﺅں پر بریفنگ بھی دی جائے گی، دورے کیلئے سروس 11 اکتوبر 2017ءکی تاریخ رکھی گئی ہے۔

روزنامہ امت کے مطابق مجموزہ دورے کو پاکستان سٹیل مل کے مستقبل کے حوالے سے انتہائی اہم سمجھا جارہا ہے۔ اخبار کے مطابق حساس ادارے نے سٹیل مل کو دورے سے قبل کے تمام ضروری کام اور انتظامات مقررہ تاریخ تک مکمل کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ خط کے مطابق حساس ادارے کے افسران دورے میں سٹیل مل کی اہم نوعیت کی تنصیبات سے متعلق مطلوبہ معلومات اور ان کی حفاظت کے طریقہ کار سے عملی طور پر آگاہی حاصؒ کریں گے۔ دورے میں سدٹیل مل کی سکیورٹی، حفاظتی امور کی انجام دہی میں درپیش مشکلات و پریشانیوں اور ممکنہ خامیوں کا جائزہ لینا بھی شامل ہے۔

ادھر ادارے میں اس نئی ڈویلپمنٹ کے حوالے سے ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کہ سٹرٹیجک اہمیت کی حامل پاکستان سٹیل مل کو منسٹری آف ڈیفنس پروڈکشن کو دینے پر غور کیا جارہا ہے تاہم منتقلی کے اس عمل سے قبل اسے ایک مخصوص مدت کیلئے FWO نامی آرگنائزیشن کے حوالے کیا جائے گا جو سوا دو سال سے تقریباً بند اس سٹیل مل کو ایک طے شدہ فارمولے (Operate Transfer Run) کے تحت دوبارہ بحال کرکے رواں دواں بنائے گی۔

واضح رہے کہ حساس ادارے کی انٹیلی جنس ڈویژن کمیٹی نے آج سے 22سال قبل مورخہ 17 دسمبر 1995ءمیں پاکستان سٹیل مل کو اس کی حساس جغرافیائی لوکیشن اور آرڈیننس فیکٹری واہ اور ہیوی مکینیکل کمپلیکس ٹیکسلا سے وابستگی کی وجہ سے ٹائٹل آف Keyپوائنٹ میں کیٹیگری نمبر A-1 الاٹ کرچکی ہے۔