آزادی کپ: ورلڈ الیون کے خلاف پہلا ٹی20 پاکستان کے نام

پاکستان نے آزادی کپ کے پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں ورلڈ الیون کو 20 رنز سے شکست دے کر سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل کر لی۔

لاہور میں قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے جا رہے آزادی کپ کے پہلے ٹی20 میچ میں ورلڈ الیون کے کپتان فاف ڈیو پلیسی نے ٹاس جیت کر پہلے پاکستان کو بیٹنگ کی دعوت دی۔

پاکستان کی جانب سے فخر زمان نے دو چوکے لگا کر جارحانہ انداز میں اننگز کا آغاز کیا لیکن اسی اوور میں مورنے مورکل کو وکٹ دے کر پویلین لوٹ گئے۔

اس کے بعد احمد شہزاد اور بابر اعظم نے 122 رنز کی عمدہ شراکت قائم کر کے ابتدائی نقصان کا ازالہ کرنے کے ساتھ ساتھ ٹیم کے بڑے اسکور کی راہ ہموار کی۔

احمد شہزاد 39 رنز بنانے کے بعد بین کٹنگ کی گیند پر ڈیرن سیمی کو وکٹ دے بیٹھے۔

بابر اعظم نے 86 رنز کے ساتھ ٹی20 کیریئر کی بہترین اننگز کھیلی اور بڑا شاٹ کھیلنے کی کوشش میں عمران طاہر کی واحد وکٹ بنے۔

اختتامی اوورز میں شعیب ملک اور عماد وسیم کی جارحانہ بیٹنگ کی بدولت پاکستان نے مقررہ اوورز میں پانچ وکٹ کے نقصان پر 197 رنز بنائے، شعیب نے 38 اور عماد نے 15 رنز بنائے۔

198 رنز کے ہدف کے تعاقب میں تمیم اقبال اور ہاشم آملا نے اپنی ٹیم کو 43 رنز کا اچھا آغاز فراہم کیا۔

تمام باؤلرز کی ناکامی پر سرفراز احمد رومان رئیس کو باؤلنگ کے لیے لے کر آئے جنہوں نے تمیم اقبال کو آؤٹ کر کے کپتان کا انتخاب درست ثابت کیا۔

ورلڈ الیون کی ٹیم ابھی اس نقصان سے سنبھلی بھی نہ تھی کہ ہاشم آملا بھی رومان کو وکٹ دے بیٹھے۔

اس موقع پر ٹم پین اور فاف ڈیو پلیسی نے ذمے دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کی سنچری مکمل کرائی لیکن ایک ایسے موقع پر جب دونوں کھلاڑی بالکل سیٹ نظر آ رہے تھے، ڈیو پلیسی 29 رنز بنانے کے بعد شاداب خان کا شکار بن گئے۔

ٹم پین سے بھی ساتھی کھلاڑی کی جدائی برداشت نہ ہوئی اور وہ بھی سہیل خان کی گیند پر رومان کو کیچ دے کر پویلین لوٹے۔

ڈیوڈ ملر نے شاداب کو چھکا لگا کر خطرناک عزائم ظاہر کرنے کی کوشش کی لیکن اگلی ہی گیند پر دوبارہ بڑا شاٹ کھیلے کی کوشش میں اسٹمپ ہو گئے۔

گرانٹ ایلیٹ کی اننگز بھی 14 رنز تک محدود رہی اور وہ اننگز میں سہیل خان کی دوسری وکٹ بنے۔

اختتامی اوورز میں ڈیرن سیمی کی جارحانہ بیٹنگ کے باوجود ورلڈ الیون مقررہ اوورز میں سات وکٹوں کے نقصان پر 177 رنز بان سکی اور یوں پاکستان نے 20 رنز سے فتح اپنے نام کر لی۔

پاکستان کی جانب سے شاداب، سہیل اور رومان نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔

بابر اعظم کو فتح گر اننگز کھیلنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

میچ کے آغاز سے قبل

میچ کے آغاز سے قبل ورلڈ الیون کے کپتان فرینکوئس ڈیو پلیسی نے ٹاس جیتنے کے بعد کہا کہ ہماری بیٹنگ لائن مضبوط ہے اور ہدف کا تعاقب کرنےکی کوشش کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ورلڈ الیون کی قیادت کرنا اعزاز کی بات ہے اور پاکستان میں کرکٹ کی بحالی میں کردار ادا کرنے پر خوشی ہے۔

قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے پہلے بیٹنگ پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم بھی ٹاس جیت جاتے تو پہلے بیٹنگ ہی کا فیصلہ کرتے۔

انہوں نے کہا کہ ہوم گراؤنڈ پر کھیلنے کیلئے پرجوش ہیں اور نوجوان کھلاڑیوں کے پاس ہوم گراؤنڈ پر کارکردگی دکھا کر داد سمیٹے کا سنہری موقع ہے۔

فاسٹ باؤلر محمد عامر کے ہاں بیٹی کی ولادت ہوئی ہے جس کے سبب وہ پہلے ٹی20 میں شرکت نہیں کر سکیں گے جبکہ عامر یامین ،عثمان خان شنواری، عمر امین اور محمد نواز بھی ٹیم کا حصہ نہیں ہیں۔

اسٹیڈیم کے اطراف شدید سیکیورٹی انتظامات کیے گئے اور کھلاڑیوں کو انتہائی سخت سیکیورٹی حصار میں اسٹیڈیم لایا گیا۔

اسٹیڈیم آمد کے بعد کھلاڑیوں کو لاہور کی ثقافت کی علامت کے طور پر خصوصی طور پر تیار کردہ رکشوں میں بٹھا کر اسٹیڈیم کا چکر لگوایا گیا۔

رکشوں میں سوار ورلڈ الیون کے کھلاڑی پال کالنگ وڈ، تمیم اقبال، تھسارا پریرا اور ڈیوڈ ملر اسٹیڈیم کا شکر لگاتے ہوئے شائقین کی جانب دیکھ کر ہاتھ ہلا رہے ہیں— فوٹو: اے ایف پی

میچ کیلئے دونوں ٹیمیں ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہیں۔

پاکستان: سرفراز احمد(کپتان)، احمد شہزاد، فخر زمان، بابراعظم، شعیب ملک، فہیم اشرف، شاداب خان، عماد وسیم، رومان رئیس، حسن علی اور سہیل خان۔

ورلڈ الیون: فرینکوئس ڈیوپلیسی(کپتان)، تمیم اقبال، ہاشم آملا، ڈیوڈ ملر، گرانٹ ایلیٹ، ٹم پین، تھسارا پریرا، ڈیرن سیمی، بین کٹنگ، مورنے مورکل اور عمران طاہر۔

خیال رہے کہ 2009 میں لاہور میں سری لنکا کی ٹیم پر ہونے والے حملے کے بعد پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کے دروازے بند ہوگئے تھے تاہم زمبابوے کی ٹیم پاکستان کا دورہ ضرور کیا تھا جو بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کے لیے ناکافی ثابت ہوا تھا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور پی ایس ایل حکام نے ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کی جانب اہم قدم اٹھاتے ہوئے رواں سال پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں منعقد کیا جس سے ورلڈ الیون کے دورہ پاکستان کی راہ ہموار ہوئی۔