سوشل میڈیا کے ذریعے پرکشش تنخواہوں کا جھانسہ.. پاکستان سے 14ہزار افراد مشرق وسطی پہنچ گئے

لاہور(رپورٹ :اسد مرزا)پاکستان کے بڑے تعلیمی اداروں سے طلبہ و طالبات سمیت 14ہزار افرادشام و مشرق وسطی کے دیگرممالک میں جاری تحریکوں میں حصہ لینے پہنچ گئے ، دہشت گرد تنظیموں کا نیٹ ورک مضبوط اور فعال ہو گیا ۔طلبہ میں لاہور کے ایک بڑے تعلیمی ادارے (پنجاب یونیورسٹی )کے شعبہ انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی کی 17طالبات بھی شامل ہیں ۔حساس اداروں نے لوگوں کو دہشت گرد تنظیموں میں شر کت سے روکنے کیلئے کئے گئے اقدامات بارے اپنی مفصل رپورٹ وزارت داخلہ کو بھجوا دی ۔

ذرائع کے مطابق مشرق وسطی کی دہشت گرد تنظیمیں ویب سائیٹس ،سوشل میڈیا کے علاوہ پاکستان کی کالعدم تنظیموں کے ارکان کی مدد سے طلبہ و طالبات سمیت مظلوم افراد کو اپنے ایجنڈے کی جانب مائل کر تی ہیں اور پھر انہیں پر کشش تنخواؤں کا چکمہ دیکر مشرق وسطی کے ممالک اپنے نیٹ ورک کے زریعے بلا تے ہیں جہاں انکی مکمل ذہن سازی اور تربیت کے علاوہ جدید ہتھیاروں کے استعمال کی ٹریننگ ہو تی ہے جو ان تحریکوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ۔اس حوالے سے کاونٹر ٹیرزم فورس کے ایک اعلی افسر خصوصی گفتگو کے دوران انکشاف کیاکہ مشرق وسطی کی دہشت گرد تنظیموں میں دنیا بھر سے لوگ شمولیت اختیار کر رہے ہیں یہ افراد مکمل طور پر ان ممالک میں نہیں رہینگے وہ اب اپنے وطن واپس جا رہے ہیں جہاں وہ اپنی حاصل شدہ تربیت کو بروئے کا رلاتے ہوئے انٹرنیٹ کی وساطت سے اپنے نیٹ ورک کو مذید فعال یا دہشت گردی کی کاروائیوں میں ملوث ہو سکتے ہیں ۔

اسی طرح پاکستان سے قانونی اور غیر قانونی طریقوں سے مشرق وسطی جانے والے ہزاروں افراد کی واپسی ممکن ہے جس سے پاکستان کے اندر امن ومان کی صورتحال مذید خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔انکا مذید کہنا تھا کہ سی ٹی ڈی سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں نے صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد ایسے افرادکی واپسی پر کڑی نظر رکھے ہو ئے ہیں اسی طرح پنجاب سمیت ملک بھر کے اہم تعلیمی اداروں کی انتظامیہ سے رابطہ کر کے انہیں ایسی ہدایات دی ہیں کہ وہ انتظامی سطح پر ایسی تبدیلیاں لائیں جس سے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کے مذہبی رحجانات اور مختلف تنظیموں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کی معلومات حاصل ہو سکے جس سے وہ ایسے عناصر کے خلاف کاروائی کر کے اس نیٹ ورک تک پہنچ سکیں۔علاوہ ازیں قانون نافذ کر نے والے اداروں نے تعلیمی کے سربراہوں کو ہدایت کی ہے کہ ہاسٹلز میں مقیم طلبہ و طالبات کے ساتھ بطور مہمان آنیوالوں پر کڑی نظر رکھی جائے اور انہیں ذیادہ دیر تک قیام کی اجازت نہ دی جائے۔