ایسے کام ہونگے تو تباہی تو آئیگی پاکستان میں ایسے بہن بھائی جنہوں نے آپس میں شادی رچالی۔۔ انکے 4بچے بھی ہیں،ہوش اڑا دینے والی خبر

اسلام آباد:اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے جن رشتوں کوحرام قراردیاہے جب انسان انہی سے تعلقات استوارکرلے توجان لیں کہ قیامت قریب ہے ۔آزادکشمیرکے علاقے کوٹلی سے ایک ایسی ہی شرمناک اورحیران کردینے والی خبرسامنے آئی ۔۱۰سال سے بہن بھائی جن کی ماں ایک لیکن باپ مختلف تھےشادی کرکے رہ رہےہیںبات یہاں تک ختم نہیں ہوئی ان کے چاربچے بھی ہیں ۔کوٹلی پولیس نے جوڑے کوگرفتارکرکے تحقیقات کاآغازکردیا۔تفصیلات کے مطابق مظفرآباد سے تعلق رکھنے والی شازیہ نے مقامی دکاندارکویہ راز بتایاکہ اس کاشوہردراصل اس کاسوتیلابھائی ہے ۔شازیہ نے دکاندارکویہ بھی بتایاکہ اس نے اپنے سوتیلے بھائی سے شادی کرکےگناہ عظیم کاارتکاب کیاہے میں اپنے ہی بھائی سے شادی نہیں کرسکتی تھی کیونکہ اسلام میں اس کی اجازت نہیں۔دونوں بھائی اوربہن مظفرآبادکے رہائشی ہیں ۔ان کی ماں گل جان کاپہلی شادی سے ایک بیٹاتھاجس کانام شفیق ہے ۔

اپنے پہلے شوہرکی وفات کے بعدگل جان نے رحیم نامی شخص سے شادی کی اوراس سے اس کی بیٹی شازیہ پیداہوئی ۔شازیہ نے ۲۰۰۱میں محمودنامی شخص سےمظفرآبادمیں شادی کی ۔لیکن شادی زیادہ دیرنہ چل سکی اورشازیہ نے اپنے شوہرکے خلاف طلاق کی درخواست دائرکردی ۔اپنے سوتیلے بھائی شفیق کی مددسے شازیہ نے ۲۰۰۶میں عدالت کے ذریعے محمودسے طلاق لے لی۔طلاق کے بعدشازیہ اپنے سوتیلے بھائی شفیق بٹ کے ساتھ کوٹلی منتقل ہوگئی۔دونوں ایک ساتھ رہنے لگے اوردونوں نے ناجائز تعلقات قائم کرلیے۔دونوں کے اس شرمناک تعلق کے باعث۲۰۰۷یں ان کی ایک بیٹی پیداہوئی۔دوسری بیٹی کی پیدائش ۲۰۱۲بیٹے کی پیدائش ۲۰۱۴جبکہ سب سے چھوٹے بیٹے کی پیدائش ۲۰۱۷یں ہوئی ۔جب شازیہ نے دکاندارکواپنے اس حرام اورناجائز تعلق کے بارے میں بتایااوریہ بھی کہاکہ وہ اس گناہ کے اثرات سے آگاہے اوراس سے نجات حاصل کرناچاہتی ہے۔

دکاندارنے اس معاملے کی اطلاع پولیس کودیدی ۔پولیس نے دونوں کوگرفتارکرکے تفتیش کاآغازکردیا۔دریں اثنا جب ایک شہری نے اسی سے متعلقہ سوال معروف عالم دین مفتی عبد القوی ہزاروی سے دریافت کئے تو ان کا جواب درج ذیل تھا۔شہری کےسوال:کیا ماں کی اولاد دوسرے شوہر کی کسی اور بیوی کی اولاد سے نکاح کرسکتی ہے؟ ماں کے دوسرے شوہر کی کسی اور بیوی کی اولاد سے نکاح ہو سکتا ہے؟ یعنی کیا ایک لڑکی یا لڑکا اپنی ماں کے دوسرے شوہر کی کسی اور بیوی کی اولاد سے نکاح کر سکتے ہیں؟ وہ بیوی ان کی ماں سے پہلے نکاح میں آئی ہو یا بعد میں، کیا اس کی وجہ سے مسئلے میں کوئی فرق آتا ہے؟ کیا باپ کی کسی دوسری بیوی کی کسی اور مرد سے اولاد سے نکاح ہو سکتا ہے؟ جواب: دونوں کی مائیں بھی الگ الگ ہیں اور باپ بھی ، لہٰذا ان کا نکاح ہو سکتا ہے۔ پہلے یا بعد میں نکاح میں آنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ یہی