”ہم بریانی میں گدھے کا گوشت ڈالیں گے اگر۔۔۔“ یونیورسٹی آف گجرات کی کینٹین نے انتہائی حیران کن اور انوکھا اعلان کر دیا، مگر کیوں؟

گجرات ( آن لائن) سکول و کالج اور یونیورسٹی کے دنوں میں تھوڑے پیسوں میں زیادہ ’عیاشی‘ ہر طالب علم کی خواہش ہوتی ہے لیکن ہر کسی کی یہ خواہش پوری بھی نہیں ہو پاتی۔

طالب علم یونیورسٹی کی کینٹین میں کھانا کھائیں یا باہر کسی ’ڈھابے‘ میں، ایک بار سالن کی پلیٹ میں بار بار ’گریبی‘ لینے کا مزہ ہی کچھ اور ہوتا ہے اور اگر آڈر ہو بریانی کا تو ’بوٹی‘ کی عدم موجودگی پر معاملہ بحث و تکرار تک پہنچ جاتا ہے۔
ایسا ہی کچھ معاملہ یونیورسٹی آف گجرات کی کینٹین میں بھی ہے جہاں طالب علم شائد 50 روپے میں ملنے والی بریانی میں بھی چکن کا لیگ پیس تلاش کرتے ہیں اور نہ ملنے پر بحث کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتے۔ اس معاملے سے تنگ یونیورسٹی کینٹین کے انچارج نے انوکھا اور دلچسپ حل ڈھونڈا اور ایک ایسا نوٹس لکھ کر لگا دیا کہ ہر کوئی بحث کرنے سے ہی گھبرانے لگا۔

نوٹس پر تحریر درج کی گئی کہ ”50 روپے والی بریانی کی پلیٹ میں بوٹیوں پر زیادہ بحث مت کیا کریں۔ بصورت دیگر ہمیں مجبوراً گدھے کا گوشت استعمال کرنا پڑے گا، شکریہ۔“


اس نوٹس کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے اور دیکھنے والوں کیلئے اپنی ہنسی روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔ امید ہے کہ اس نوٹس کے بعد طلباءنے بغیر بوٹی کے بھی بریانی کو قبول کر لیا ہو گا کیونکہ گدھے کے گوشت کی صرف خبریں ہی ’لذیذ‘ ہوتی ہیں۔