سی ایس ایس کے امتحان کامیابی کے لئے 3 سے 4 کڑور کا ریٹ مقرر سہولت کار اعلی افسر اور دیگر مافیا کے گرد گھیرا تنگ

لاہور(رپورٹ:اسد مرزا)ملک کی اہم ترین سنٹرل سپیرئیر سروس(CSS)کے امتحان میں کڑوروں روپے رشوت لیکر امیدواروں کو نہ صرف پاس کرانے بلکہ نمایاں پوزیشن دلا نے والے گروہ کا انکشاف ہوا ہے۔یہ مافیا فیڈرل پبلک کمیشن کے بعض مبینہ طور پر افسران و اہلکاروں سے ملکرنا اہل امیدواروں سے3سے 4کڑورروپے فی کس رشوت وصول لیکرغیر قانونی طریقے سے پیپرز حل کراتے اور انٹرویو میں کامیاب کرانے کی گارنٹی دیتے تھے ۔اس مافیا کے تحت کامیاب کامیاب ہونے والے اکثر امیدوار پولیس اور ڈی ایم جی گروپ میں سروس کر رہے ہیں۔ یہ گروہ گزشتہ 10سال سے اپنے مذموم دھندے میں ملوث ہے جبکہ اعلی تعلیم یافتہ امیدوارکامستقبل تاریک ہو گیا ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اعلی افسران کے بچے بھی اس سہولت سے مستفید ہو چکے ہیں اورملزمان کی گرفتاری کے بعد ایسے سیکڑوں جعلسازافسران کے خلاف بھی کاروائی کی جائیگی ۔فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی نے جب اس مافیا کے خلاف کاروائی کی کوشش کی تو بیوروکریسی میں موجود مافیا کے سہولت کاروں اور مستفید ہونے والے جعلساز افسران نے انکوائری افسران پر دباؤ ڈالا جبکہ مافیا نے عدالت عالیہ کے عملے کی ملی بھگت سے ایف آئی اے کے خلاف رٹ جعل سازی سے لاہور ہائی کورٹ میں لگوا حکم امتناعی حاصل کر لیا ۔اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ لاہور ریجن نے ڈپٹی رجسٹرار( جوڈیشل رٹ ) عمران صفدر کی مدعیت میں عدالتی عملے اسٹنٹ طارق عزیز ،ناصر محمود ،عمران شبیر مافیا کا سرغنہ ایکسین عثمان قیوم ،اسکا باپ کیپٹن (ر) عبدالقیوم اور دو امیدواروں فضل الہی اور احسن کے خلاف انکوائری کے بعد مقدمہ درج کر کے اکتوبر 2017 میں ان کی گرفتاری کے احکامات حاصل کر لئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق اس مافیا کا انکشاف 2013میں مقابلے کے امتحان میں ہوا جب فیڈرل پبلک کمیشن کے حکام نے تو فیصل آباد سنٹر سے آنے والے امتحانی شیٹوں کے پارسل پر سٹمپ اور سیل درست نہیں تھی ۔فیڈرل پبلک کمیشن کے حکام کو تشویش لاحق ہو ئی تو انہوں نے معاملے کی تحقیقات کے لئے ایف آئی اے حکام کو آگاہ کیا ۔

ایف آئی اے کے حکام نے ابتدائی طور پر تحقیقات کی تو علم ہوا کہ ملک بھر میں مقابلے کے امتحان کے لئے قائم سنٹروں کے پارسل پوسٹ آفس زریعے دوروز میں فیڈرل پبلک کمیشن پہنچتے لیکن فیصل آباد سنٹر کا امتحانی پرچوں کا پارسل ہمیشہ تاخیر سے پہنچتا ۔اس حوالے سے پوسٹ آفس کے عملے نے تصدیق کی کہ پارسل کی سیل کو ڈی سیل کر کے دوبارہ سیل کئے جانے کی تصدیق ہو ئی ہے ۔ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ مافیا کا سرغنہ ایکسین عثمان قیوم ،اسکا باپ کیپٹن (ر) عبدالقیوم پوسٹ آفس کے عملے کی ملی بھگت سے امتحانی پارسل ڈی سیل کر کے جوابی کاپیوں پر امیدواروں سے دوبارہ سوالات حک کرواکے کہ وہ شیٹس ساتھ لگا دیتا اور پارسل کو دوبارہ سیل کر کے ایف پی ایس سی بھجوا دیا جاتا ۔اس انکشاف کے بعد فیڈرل پبلک کمیشن نے فیصل آباد سنٹر کا امتحان کالعدم قرار دیکر دوبارہ امتحان کرایا تو 15امیدوار امتحان دینے نہیں آئے تب ایف آئی اے نے مقدمہ درج کر کے کاروائی شروع کی توبااثر مافیا کے سفارشیوں نے رکاوٹیں کھڑی کر دیں ۔ اس دوران مافیا کے سرغنہ ایکسین عثمان قیوم ،اسکا باپ کیپٹن (ر) عبدالقیوم اور دو امیدواروں فضل الہی اور احسن نے عدالت عالیہ لاہور کے عملے کو بھاری رشوت دیکر رٹ از خود عدالت عالیہ کے جسٹس کے پاس لگو الی جو عدالت نے ایف آئی اے کو ملزمان کے خلاف کاروائی سے روک دیا ۔