عروج سے زوال پر آنے والوں کے لئے ایسا وظیفہ جو اللہ کے ایک نبیؑ پڑھا کرتے تھے

اسلام آباد (ویب ڈیسک)انسان عروج و زوال کا شکار ہوتا رہتا ہے .ان میں سے صبر اور استقلال سے اللہ سے مدد مانگنے والے دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑے ہوجاتے ہیں .

جو لوگ اکڑ جاتے اور اللہ کا ذکرنہیں کرتے،ان مین صبر کی قوت بھی پیدا نہیں ہوتی نہ ان کے مقدر کی گرم ہوا بدلتی ہے.صبر و استقامت دین مسلمانوں کو مالک کائنات کی رضا کے سامنے اپنا جھکانے کا سبق دیتی ہے .اللہ کے نبیؑ حضرت ایوب ؑ کا واقعہ یاد کیجئے ، آپؑ کا صبر دنیا میں ضرب المثل کی حیثیت رکھتا ہے.حضرت ایوب ؑ بہت سی نعمتوں سے مستفید تھے اور وہ بھی عبادت گزاروں میں اپنے مثال آپ تھے. شیطان نے ایوبؑ کی بندگی پر حسد کرکے اللہ تعالی سے کہا ’’ اے اللہ ! اگر حضرت ایوب ؑ تیرے فرمانبردار ہیں تو صرف تیری نعمتوں کی وجہ سے ہیں ورنہ اتنے مطیع نہیں ہوتے‘‘ خداوندمتعال نے حضرت ایوب ؑ کی بندگی کا اخلاص ثابت کرنے کے لئے ہر طرح سے امتحان لیا یہاں تک کہ آپؑ کی ساری دولت اور اولاد ضائع ہوگئی پھر بھی انہوں نے صبر کیا اور آخری مرحلہ میں عرض حال کرکے اللہ کی بارگاہ میں دعا کی ’’ مجھے بیماری نے آلیا ہے اور تو بہترین رحم کرنے والا ہے‘‘. ایک اور آیت میں اس طرح آیا ہے ’’ شیطان نے مجھے بڑی تکلیف اور اذیت پہنچائی ہے ‘‘.ابلیس لعین حضرت ایوبؑ کے صبر کو آزماتا رہا اور پروردگار بھی اس پر واضح کرتا رہا کہ ہمارے مخلص بندے ایسے ہی ہوتے ہیں .انہیں رزق و روزی اور نعمات ملیں یا نہ ملیں وہ فرمانبردار ہی ہوتے ہیں .

حضرت ایوب ؑ نے مشکل گھڑی میں کئی سال گزارے اور جو دعا کی ،امت مسلمہ کے ایسے لوگ اس دعا کو وسیلہ بنا کر اللہ سے رحم مانگتے ہیں تو ان کی مشکلات دور ہوجاتی ہیں.آسمان سے زمین پر گرنے والے اور ایسی مہلک بیماریوں میں گھرے رہنے والوں کے لئے یہ دعا بہت بڑا وظیفہ ہے .روزانہ ہر نماز کے بعد گیارہ بار خشوع و خضوع سے پڑھنے والوں کے حالات بہت جلد تبدیل ہوجاتے ہیں .