جہاز پر آکسیجن ماسکس میں کتنے منٹ کی آکسیجن موجود ہو تی ہے ؟جان کر آپ دعا کریں گے کہ کبھی ضرورت نہ پڑے

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) ہوائی جہاز اور ہوائی سفر اگرچہ آج کی دنیا میں عمومی بات ہو چکی ہے اور ہر کوئی اس کے لوازمات سے آگاہ ہے مگر ان کے متعلق ابھی بہت کچھ ایسا ہے جو عام لوگ نہیں جانتے۔ میل آن لائن ٹریول نے گزشتہ دنوں ہوائی جہازوں اور ہوائی سفر کے یہ راز جاننے کے لیے برطانیہ کی رائل ایروناٹیکل سوسائٹی اور برٹش ایئرویز، ایزی جیٹ و دیگر کئی ایئرلائنز کے حکام سے رابطہ کیا جنہوں نے جہازوں اور ہوائی سفر کے متعلق ایسے راز منکشف کیے کہ آپ سن کر دنگ رہ جائیں گے۔ماہرین کے کیے گئے انکشافات مندرجہ ذیل ہیں۔
اب تک دنیا کی صرف 5فیصد آبادی نے ہوائی جہاز کا سفر کیا ہے۔
ہوائی جہازوں میں موجود آکسیجن ماسکس میں صرف 10سے 20منٹ کی آکسیجن موجود ہوتی ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ ایمرجنسی کی صورت میں اس آکسیجن کے ختم ہونے سے پہلے جہاز 10ہزار فٹ کی بلندی تک آ جائے گا، جہاں قدرتی طورپر آکسیجن دستیاب ہوتی ہے۔
ہوائی جہاز ایجاد کرنے والے رائٹ برادرز نے اپنی پہلی فلائٹ میں جتنا فاصلہ طے کیا تھا آج کے بوئنگ 747کے پروں کا پھیلاﺅ اس سے زیادہ ہے۔ انہوں نے پہلی فلائٹ میں محض 120فٹ فاصلہ طے کیا تھا جبکہ بوئنگ 747کے پروں کا پھیلاﺅ 195فٹ ہے۔
دنیا کی طویل ترین پرواز کا ریکارڈ 1968ءمیں قائم ہوا ۔ یہ ریکارڈ سیسنا 172(Cessna 172)طیارے کے ذریعے بنایا گیا جو 65دن تک مسلسل پرواز کرتا رہا۔ اس دوران اسے فضاءمیں ہی ایندھن فراہم کیا جاتا رہا تھا۔ یہ ریکارڈ آج تک برقرار ہے۔
دوسری جنگ عظیم میں سب سے بہترین کارکردگی دکھانے والا امریکی فوج کا طیارہ پی 51مسٹنگ (P-51 Mustang)سکریچ سے ڈیزائن کیا گیا اور محض 4ماہ (117دن)میں تیار کیا گیا۔

سپرسانک طیاروں کا ایئرفریم دوران پرواز حدت کے باعث ہر پرواز کے دوران 6سے 10انچ تک پھیل جاتا ہے۔
دنیا میں سپرسانک طیاروں کے پائلٹوں کی نسبت امریکہ کے خلانوردوں کی تعداد زیادہ ہے۔
ایئربس اے 380کے پروں کا پھیلاﺅ خود طیارے کے سائز سے بھی بڑا ہے۔ اس کے پروں کا پھیلاﺅ 262فٹ جبکہ طیارے کی لمبائی 238فٹ ہے۔
امریکہ کے ڈومیسٹک کمرشل ہوائی جہاز کی عمر 11سال ہوتی ہے لیکن زیادہ تر طیارے آج بھی 30سال سے زائد عمر ہونے کے باوجود استعمال کیے جا رہے ہیں۔
اگر کوئی موٹاپے کا شکار مسافر ہوائی جہاز کی ایک سیٹ میں پورانہیں آتا اور اس کی آرم ریسٹ نیچے نہیں ہو پاتی تو کچھ ایئرلائنز اس مسافر سے دو سیٹوں کا کرایہ وصول کرتی ہیں۔
اکثر بوئنگ 777اور 787میں خفیہ سیڑھیاں ہوتی ہیں جو ایک بیڈروم کی طرف جاتی ہیں۔ یہ بیڈروم عملے کے اراکین استعمال کرتے ہیں۔
اگر کوئی بچہ دوران پرواز امریکہ کی حدود میں پیدا ہو تو وہ پیدائشی طور پر امریکی شہری ہو تا ہے۔
جہاز کے گر کر تباہ ہونے کی نسبت کئی دوسرے حادثات ایسے ہیں جن میں دوران پرواز اموات ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ جہازوں کے گرنے سے اموات کی شرح 47لاکھ میں صرف 1ہے۔ باقی اموات بجلی یا کوئی شہاب ثاقب گرنے اور دیگر ایسے حادثات میں ہوتی ہیں۔
1945ءسے اب تک جس ملک کے طیاروں کو سب سے زیادہ تباہ کن حادثات پیش آئے وہ امریکہ ہے۔ دوسرے نمبر پر روس اور تیسرے نمبر پر برازیل کے طیاروں کو سب سے زیادہ حادثات پیش آئے۔

1987ءمیں امریکن ایئرلائنز نے بچت کرنے کا سوچا اور فرسٹ کلاس کو دیئے جانے والے سلاد میں سے ایک زیتون کم کر دیا۔ہرسلاد میں ایک زیتون کم کرنے سے اسے 40ہزار ڈالر کی بچت ہوئی۔
دوران پرواز فوڈپوائزننگ سے بچنے کے لیے پائلٹوں اور معاون پائلٹوں کو الگ الگ کھانا دیا جاتا ہے تاکہ اگر ایک کو فوڈپوائزننگ ہو تو دوسرا طیارہ سنبھال سکے۔
دنیا میں ہر 2سیکنڈ بعد ایک ایئربس اے 320ٹیک آف کرتی ہے۔