جنرل رضوان اختر سے رضوان اختر تک – احسان کوہاٹی

تحریر احسان کوہاٹی
سیلانی بات شروع کرے گا کراچی پریس کلب سے جہاں وہ اکثر صبح کی چائے پی کر اپنی پیشہ وارانہ مصروفیت کا آغاز کرتا ہے. ساتھ میں کچھ یار دوست بھی بیٹھ جاتے ہیں اور ہیلو ہائے ہو جاتی ہے. اس روز بھی وہ میز پر چائے کے کپ کا انتظار کر تے ہوئے ساتھ بیٹھے فوٹوگرافروں کی گپ شپ سن رہا تھا. مختلف اخبارات کے یہ فوٹوگرافر فرصت کے ان لمحات سے لطف اندوز ہو رہے تھے. بات سے بات نکلنے لگی تو ہوتے ہوتے ماضی کے قصے چھڑ گئے جب کراچی میں خون کی ہولی کھیلی جاتی تھی، نامعلوم افراد کے ہاتھوں قتل ہونے والے بےگناہ شہریوں کی لاشیں کچرہ کنڈیوں، نالوں اور بوریوں سے ملنا معمول ہوتا تھا. کوئی دن نہیں جاتا تھا جب کراچی میں پندرہ بیس لاشیں ایدھی کے رضاکاروں کے ذریعے اسپتالوں کے مردہ خانوں میں نہ پہنچتی ہوں. انھی دنوں کو یاد کرتے ہوئے ایک اخبار کا فوٹوگرافر کہنے لگا،

’’ان دنوں کھجی گراؤنڈ ناظم آباد خوف کی علامت تھا، یہاں ’’بھائی لوگوں‘‘ کا مکمل کنٹرول تھا، رات بھر گولیاں چلتی رہتیں اور صبح کسی نہ کسی بدقسمت کی لاش پڑی ملتی. ہمارے اخبار میں یہ تصویریں پہلے صفحے پر لگتی تھیں، اس لیے ہم رسک لے کر کھجی گراؤنڈ چلے جایا کرتے تھے. ایک روز میں وہاں گیا تو کچرہ کنڈی میں کچھ عجیب سی ہلچل دیکھی، جا کر دیکھا تو کتے ایک لاش کو بھنبھوڑ رہے تھے. میری تو حالت خراب ہو گئی، کانپتے ہاتھوں سے کیمرا پکڑا اور دو تین شٹر گرا کر واپس بھاگ گیا. میری وہ تصویر پکچر آف دا ڈے تھی، مجھے اس پر ایڈیٹر نے خصوصی انعام دیا، لیکن میں کئی راتوں تک ٹھیک سے سو نہیں سکا‘‘۔

کراچی ایسا ہی تھا، یہاں کتے بلیاں محفوظ اور انسان غیر محفوظ تھے، لسانی تعصب کے نام پر انسانوں کو شکار کیا جاتا تھا. یہ نوے کی دہائی کے آخری برسوں کی بات ہے، سیلانی کراچی کے ایک روزنامے میں نیوز ڈیسک پر سب ایڈیٹر تھا، بڑے سے ہال نما کمرے میں ایک طرف قطار سے رپورٹر بیٹھے ہوتے تھے اور سامنے ہی نیوز ڈیسک پر سب ایڈیٹرز کرسیاں لگائے خبروں کی کانٹ چھانٹ میں مصروف ہوتے تھے. ان دنوں کراچی میں ایم کیو ایم کا طوطی بولتا تھا اور یہ طوطی ٹیں ٹیں نہیں دھائیں دھائیں کرتا تھا. ’’نامعلوم ‘‘ افراد کے ہاتھوں روز پچیس تیس لاشیں مردہ خانوں میں پہنچتیں، حالت یہ تھی کہ اخبار کی شہ سرخی بنانا مشکل ہوجاتا، ادھر شہ سرخی بنائی جاتی کہ ’’کراچی میں فائرنگ 32افراد ہلاک‘‘، اور دوسرے ہی منٹ میں کرائم رپورٹر کے فون کی گھنٹی بج اٹھتی، وہ ریسیور کان سے لگاتا اور ماؤتھ پیس پر ہاتھ کر رکھ کر چلا کر کہتا ’’دو بڑھا دو، اسکور 34 ہوگیا ہے‘‘، اب پھر سے شہ سرخی بنائی جاتی، اس مسئلے کا حل ایڈیٹر صاحب نے یہ نکالا کہ ہلاکتوں کے بعد ہندسے کی جگہ گول دائرہ بنا کر جگہ خالی چھوڑ دی جاتی، کاتب سے شہ سرخی لکھوالی جاتی اور آخر وقت میں اس گول دائرے میں ہلاکتوں کی تعداد لکھ کر اخبار پرنٹنگ پریس بھیج دیا جاتا۔

کراچی ایسا ہی شہر بے اماں تھا. یہاں دو ٹانگوں پر خونخوار درندے ایسے ہی مخالفین کی بو سونگھتے پھرتے تھے، کسی میں ہمت نہ تھی کہ ان خونخواروں کے سامنے آئے. کہنے کو شہر میں رینجرز بھی موجود تھی، جسے پاک فوج کی مکمل مدد حاصل تھی مگر اس کے باوجود نامعلوم نامی درندے پالنے والوں کے خلاف کبھی پکا ہاتھ نہ پڑ سکا. ہونے کو کراچی میں دو آپریشن ہوئے مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات رہا، شناخت اور حقوق کے نام پر اٹھنے والی تحریک نے کراچی میں ہر اس شخص سے زندہ رہنے کا حق چھین لیا جس نے اس تحریک کی چھتری تلے سانس لینے سے انکار کیا اور جو ایک بار چھتری کھول کر نیچے آگیا، اس کے لیے باہر جانے کا ایک ہی راستہ رہ گیا، سفید کفن میں چار کاندھوں پر شہر خموشاں جانے کا راستہ۔ شہر میں جا بجا لگے بینر ’’جو قائد کا غدار ہے، وہ موت کا حقدار ہے‘‘ زیادہ پرانی بات نہیں اور اس کے وہی معنی تھے جو سمجھائے جا رہے تھے۔

کراچی میں 1980ء کی دہائی میں شروع ہونے والی ایم کیو ایم کی لسانی تحریک کے بعد شہر میں دیگر لسانی گروہوں نے بھی مسلح جتھے پالنے شروع کر دیے تھے، پنجابی پختون اتحاد سے لے کر جے سندھ اور عوامی نیشنل پارٹی سے پیپلز پارٹی تک اور پیپلز پارٹی سے سنی تحریک تک ہر تنظیم کا مسلح جتھا شہر میں اپنے زیراثر علاقے کا کنٹرول سنبھالنے کے لے مورچہ بند رہتا تھا سیلانی ہی کیا کراچی کا ہر شہری گواہی دے گا کہ سندھی ٹوپی پہن کر کوئی لیاقت آباد سے نہیں گزر سکتا تھا اور کوئی پتلون قمیض پہنے بنارس سے گزرنے کی ہمت نہیں کر سکتا تھا سیلانی کا خالہ زاد بھائی عاطف بنارس میں مشتعل پشتونوں کے ہتھے جینز شرٹ کی وجہ سے ہی چڑھا تھا، وہ سمجھے کہ یہ کسی فیکٹری میں کام کرنے والا مہاجر نوجوان ہے، قریب تھا کہ اس کی ہڈیاں توڑ دی جاتیں، اس نے پشتو میں اپنا شجرہ نسب بیان کر کے انہیں یقین دلایا کہ ان کا غلط جگہ ہاتھ پڑ گیا ہے۔ ان حالات میں رہی سہی کسر لیاری امن کمیٹی نے پوری کردی. سیلانی کو رمضان المبارک کے وہ دن نہیں بھولتے جب کراچی کے سول اسپتال میں اتنی لاشیں لائی گئیں کہ مردہ خانے میں جگہ کم پڑ گئی. یہ بوری بند لاشیں ان غریب اردو بولنے والوں اور بلوچوں پشتونوں کی تھیں جو روزی روزگار کے لیے لیاری کی طرف جا نکلے تھے. ان حالات میں پرامن کراچی کا خواب دیکھنا جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھنا تھا، یہ چھ برس پہلے کا وہ کراچی تھا جب شہر مختلف سیاسی مسلح گروہوں میں تقسیم ہو چکا تھا. بڑے حصے پر ایم کیوایم کا قبضہ تھا، لندن سے آنے والی ایک کال پر ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی اعلان کرتی کہ کل ہڑتال ہے اور پھر کوئی گاڑی کیا سائیکل کا پہیہ بھی گھومتا دکھائی نہ دیتا۔

ور پھر ایک وقت یہ آیا کہ سپہ سالار راحیل شریف نے رینجرز کے سرپھرے کمانڈر کو آپریشن کا حکم دیا. عام شہریوں اور سیاست دانوں کاگمان تھا کہ اس آپریشن کا بھی وہی انجام ہوگا جیسے سابقہ آپریشنوں کا ہوا ہے لیکن ہوا اس کے برعکس۔

سیلانی کو آج بھی وہ منظر یاد ہے جب وہ جناح کورٹس میں ڈی جی رینجرز میجر جنرل رضوان اختر کے دفتر میں بیٹھا کسی معاملے پر بات کر رہا تھا کہ ان کا اے ڈی سی خلاف معمول دستک دے کر کمرے میں آگیا. یہ اس بات کی علامت تھی کہ کوئی غیر معمولی واقعہ رونما ہوا ہے. اے ڈی سی نے جرنیل کے کان میں جھک کر کچھ کہا، رضوان اختر نے میز پر پڑا ریموٹ اٹھایا، اور ٹیلی ویژن آن کر دیا، سیلانی نے گھوم کر ٹیلی ویژن کی اسکرین پر نظر ڈالی تو دل دھک کر کے رہ گیا، اسکرین پر ایم کیو ایم کے قائد کی لندن میں گرفتاری کی خبر بریکنگ نیوز کے طور پر چل رہی تھی۔ یہ دیکھتے ہی سیلانی اٹھ کھڑا ہوا، جنرل نے سیلانی کی طرف استفہامیہ نظروں سے دیکھا جیسے کہہ رہے ہوں کہاں جا رہے ہو؟
’’سر!مجھے چلناچاہیے ابھی تھوڑی دیر میں شہر میں وہ کچھ ہوگا جس کا تصور محال ہے.‘‘
’’بیٹھ جاؤ کچھ نہیں ہوگا‘‘ جنرل رضوان نے اطمینان سے کہا اور ٹیلی فون اٹھا کر آپریٹر سے کہنے لگے
’’تھیبو (کراچی پولیس چیف عبدالقادر تھیبو) سے بات کرائیں.‘‘
چند سیکنڈ میں پولیس چیف سے ڈی جی رینجرز کا رابطہ ہو گیا، جنرل نے ان سے کہا ’’اپنی فورس سڑکوں پر لے آئیں.‘‘
اس ہدایت کے بعد دوسرا فون اپنے جی ایس کو کیا اور ہدایت کی کہ فورس سے کہیں نائن زیرو کے اطراف اپنا گشت بڑھا دے، ایم کیو ایم کے جتنے لیڈرز ہیں ان کے گھروں پر پہنچ جائیں، اگر کوئی گڑ بڑ کرتا ہے تو اسے گھر ہی میں روک دیں. اتنا کہہ کر جنرل نے سیلانی سے کہا ’’کچھ نہیں ہوگا dont worry‘‘
اور ایسا ہی ہوا ایم کیو ایم کے قائد کی لندن میں گرفتاری پر کراچی میں پٹاخہ بھی نہ چلا، یہ بدلے ہوئے کراچی کا پہلا دن تھا جب کراچی نے’’نامعلو م دہشت گردوں‘‘ کا حکم ماننے سے انکار کر دیا ۔

ایک صحافی کی حیثیت سے سیلانی ہی کی نہیں کراچی کے اکثر چیدہ چیدہ صحافیوں کی جنرل رضوان سے ملاقات رہا کرتی تھی، وہ ان سے feed back لیا کرتے تھے. فاٹا میں تعیناتی کے دوران حاصل ہونے والا انٹیلی جنس کا تجربہ کراچی میں ان کے خاصا کام آ رہا تھا، انھوں نے اندھادھند محاصروں کے بجائے انٹیلی جنس اطلاعات پر چھاپوں کا آغاز کیا، مسلح جھتوں کے سہولت کاروں کو ٹارگٹ کیا، جہاں سے انہیں وسائل ملتے تھے ان جگہوں پر ان مسلح جھتوں کے لیے مسائل کھڑے کر دیے. جنرل کا انٹیلی جنس نظام اتنا مربوط تھا کہ سیاسی جماعتوں کے مسلح جتھوں کے کارندے ایک دوسرے کے لیے مشکوک ہو گئے. رضوان اختر کے دور میں کراچی آپریشن میں لگ بھگ دس ہزار افراد گرفتار ہوئے، اس آپریشن میں انھیں پیپلز پارٹی کی حکومت کی رکاوٹیں بھی عبور کرنا پڑیں، وہ اپنی مرضی کا آپریشن چاہ رہی تھی، انھیں انسداد دہشت گردی کی عدالتیں بنانے میں بھی زیادہ دلچسپی نہیں تھی، رینجرز کے لیے وکلاء بھرتی کرنے میں بھی لیت و لعل سے کام لے رہی تھی، اس کا حل جنرل نے یہ نکالا کہ خود وکلاء کے انٹرویوز کیے اور قائم علی شاہ کے پاس جاکر ان کی تنخواہیں جاری کروائیں تاکہ رینجرز جو مقدمات درج کرواتی ہے، ان پر سرعت سے سماعت ہو.