بلاگ : کرپٹ اور کرپشن

کرپٹ اورکرپشن
کرپشن نام ہے بے ضابطگی کا، بے اصولی کا، جھوٹ کا۔ کرپشن کا مطلب ایسی خرابی ہے جس سے پورا نظام تباہی کی کگار تک پہنچ جائے۔ پاکستان بننے سے لے کر آج تک ہر دورِ حکومت میں کرپشن کا بازار کسی نہ کسی صورت گرم ہی رہا ہے اوراس گرمی نے بڑھتے بڑھتے ایک الاؤ کی شکل اختیار کرلی ہے جس پر پورا پاکستان انگارے کی طرح دہکتا ہوا محسوس ہوتا ہے ۔ہمارے قانون ساز ادارے، ہماری عدلیہ، ہماری بیورو کریسی، ہماری سیاست،ہمارے روز مرہ کے معاملات چاہے وہ سماجی ہوں یا مالی ہر جگہ کرپشن دیکھی اور دکھائی جاسکتی ہے۔ کرپشن کی ایک قسم جرائم ہیں جس کی بدترین مثالیں بھتہ، تاوان، چوری چکاری اور لوٹ مار وغیرہ ہیں۔ کرپشن ریاستی اداروں کے اپنے اپنے دائرہ کارمیں سستی یا کوتا ہی اور غیر سنجیدگی کی وجہ سے بھی پنپتی ہے۔

ہم بات کریں گے حکومتی سطح پر ہونی والی ان کرپشنز کی جن کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے ۔ جس میں سیاستدان اور سرکاری ملازمین یا بیوروکریسی کسی قانونی کام کو سرانجام دینے کے لئے رشوت لیتے یا سفارش کا اثر لیتے ہیں، یا غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد سے رشوت لے کر یا سفارش سن کر رعایت دیتے ہیں، یا پھر کوئی ناجائز فائدہ پہنچایا جاتا ہے۔ سیاستدان یا بیوروکریسی پیسے لے کر یا تو مارکیٹ میں اجارہ داری قائم کرنے میں مدد دیتے ہیں یا کوئی نیا قانون اسمبلیوں سے پاس کروا کے یا کسی نئی ادارہ جاتی پالیسی کی مدد سے کسی کمپنی کو قانوناً رعایت یا سہولت دیتے ہیں۔ گورنمنٹ پر دباؤ ڈال کر ان سے ٹیکس میں مکمل چھوٹ لی جاتی ہے اور ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ فنڈ الٹا گورنمنٹ سے وصول کیا جاتا ہے۔اس طرح کی کرپشن پاکستان میں عام ہے اور یہ کرپشن کی بدترین قسم ہے۔اجارہ داری چاہے سیاست میں ہو سماج میں یا معیشت میں ظلم کی بدترین قسم ہے۔ اس میں مقابلہ اور کارکردگی کی بجائے قبضے اور استحصال کی نفسیات کا غلبہ ہوتا ہے۔ ریاست معاشی سرگرمیوں میں جتنا ملوث ہوتی جائے گی اتنا ہی کرپشن کی اس قسم کو فروغ حاصل ہو تار ہے گا۔

ہمارے ملک میںانتشار کا سبب یہ نہیں کہ یہاں کاروبار نہیں ہورہا ،کوئی کام نہیں کیا جارہایا امدادی ادارے امداد نہیں دے رہے یا قدرت ہم سے دشمنی کر رہی ہے ؟ ایسا ہر گز نہیں ہے۔ملک کا اصل مسئلہ چاہے وہ سماجی ہے یا معاشی ہے اس کی جڑیں اصل میں سیاسی ہیں جو اجارہ داری کی ثقافت کا تحفظ کرتی ہیں۔ جب سیاسی استحکام قائم ہوتا ہے تو معاشی ترقی کو راستہ ملتا ہے اور جب سیاست ڈاںواں ڈول ہوتی ہے تو سیاسی عدم استحکام کے نتیجے میں معیشت بھی مضطرب ہو جاتی ہے۔ ہمارے ملک کی سیاست پر یا تو فوج کا قبضہ رہا ہے یا خود ساختہ بادشاہوں کا، قبائلی سرداروں کا یا بیوروکریسی کا، ہم ابھی تک سیاسی استحکام حاصل نہیں کرسکے اور اداروں کو پنپنے کے مواقع نہیں ملے۔ ایک بھی ایسا ملک نہیں جہاں جمہوری استحکام ہو اور سول ادارے مضبوط ہوں مگر اس ملک میں معاشی ترقی نہ ہورہی ہو۔
جن جن سرکاری یا نجی ملکیت کے اداروں کو بیرونی ذرائع سے خیراتی فنڈ ملتے ہیں ان میں کرپشن کی شرح بہت زیادہ ہے چاہے وہ مذہبی مدرسے ہوں یا این جی اوز۔ قانون کی حکمرانی سماج کو مہذب بناتی ہے۔ کوئی بھی ادارہ اگر قانون توڑ کر قانون کی حکمرانی قائم کرنا چاہتا ہے تو یہ ایسا ہی ہے جیسےبہت برےآدمی کو بھلائی پھیلانے کے لئے طاقت دے دی جائے۔ قانون کی حکمرانی قانون کی پابندی میں ہی ہے۔ وہ معاشرے جہاں قانون بے بس ہے یا پیسے کہ زور پر اسے بے بس کردیا گیا ہے وہاںکرپشن کے ساتھ ساتھ عوام کا جانی اور مالی استحصال بھی لازم ہوتا ہے۔

ابھی کچھ دن پہلے ایک خبر نظر سے گذری۔۔فاٹا کی موجودہ پولیٹکل انتظامیہ حد درجہ کرپٹ ترین بن چکی ہے ۔ میں کسی کرپشن کو سپورٹ نہیں کررہا بلکہ بے بسی کے عالم میں یہ جملے قرطاس پر رقم ہورہے ہیں کہ جس ملک میں پہلے وکی لیکس، پھر پاناما لیکس اور اس کے بعد اور بہت سے دوسرے معاملات جن میں کرپشن کے سارے ثبوت ملک کے وزیر اعظم کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہوں اوروزیر اعظم کی نفی کے انتظار میں قلمِ انصاف بھی سر نگوں ہو تو وہاں فاٹا میں ہونے والی کرپشن سے صرفِ نظر کرنا کونسا اتنا بڑا جرم ہے جس پر شور مچایاجائے۔آج ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ ہمارےسابقہ سربراہِ مملکت کو امین اور صادق نہ ہونے کی وجہ سے عدالت نے سزا سنائی ہے ، مگر ابھی اور بھی کتنے ہی الزام ہیں جس کا جواب دینا باقی ہے یا ان پر سزا کا اطلاق ہونا باقی ہے ۔
اگر ہم صرف ملک کی بڑی جماعتوں کی بات کریں، نہ صرف ان کے سربراہان بلکہ وہ لوگ بھی جو ان جماعتوں کا حصہ ہیں چاہے کسی بڑے عہدے پر فائز ہیں یا ایک عام کارکن ہیںسب نے مل کر کرپشن کا بازار لگا رکھا ہے ۔ گورنمنٹ کا کوئی محکمہ بھی نہیں جہاں کرپشن نہ کی جارہی ہو۔یقین جانیےاگر ہم کسی ایک ادارے میں ہونے والی کرپشن کی اقسام تحریر کرنا چاہیں تو ہمیں کئی صفحات درکار ہوں گے۔ہر طرح سے ، ہر جگہ پر، کیا نیچے کیا اوپر بس کرپشن ہی کرپشن نظر آتی ہے، یہاں تک کہ گورنمنٹ ملازمین کی تنخواہوں کو بھی نہیں بخشا جاتا۔
ویسے یہ بات ہرگز نہیں کہ حکومتی سطح پر صرف کرپشن ہی کی جارہی ہے، ہماری حکومت بھی پوری دنیا کے ساتھ مل کر سال میں ایک دن کرپشن کی روک تھام کا مناتی ہے اور ملک بھر میں حکومتی خرچوں پر سیمناراور جلسے جلوسوں کا بھی اہتمام باقاعدگی سے کیا جاتا ہے ۔

ویسےتو ہرایک کرپشن کاریکارڈ ہرایک ادارے کے پاس ہے ، کون کس کا احتساب کرےاور کیسے کرے۔کالی بھیڑوں میں سفید بھیڑ تو نظر آسکتی ہے مگر یہاں سفید بھیڑوں کو بھی کالا ہونے پر مجبور کرتا ہمارا سسٹم اس احتساب نام کی چڑیا کو ہر گز پر مارنے کی اجازت نہیں دیتا۔
شکاری ہاتھوں میں بندوقیں اٹھائے ہر گھنے درخت کے سائے میں بہت ہی چابک دستی سے ہوا کی آہٹ پر کان دھرے کھڑے ہیں…پرواز کی تمناؤ ں کا سینا چاک کردینے کےلیے۔
ہائے بے گور و کفن لاش ہے اک اور وہاں
بات جو حق کی کرے یونہی جزا پاتا ہے