امت مسلمہ کیلئے جدو جہد کرنےوالے مرد مجاہد کیلئے آج بھی کروڑوں آنکھیں اشکبار ہیں

ایک مرتبہ جنرل صاحب لندن گئے تو وہاں پاکستانیوں کے ساتھ ایک اجلاس میں باتیں ہورہی تھیں اچانک ایک شخص آگے بڑھ کر آپ کر حملہ کرنا چاہتا تھا ۔وہاں موجود تمام لوگوں نے اس شخص کو پیٹنا چاہا تو جنرل صاحب نے اس شخص کواپنے قریب بلایا اور نہایت تحمل مزاجی سے پوچھا محترم آپ کے گھر میں کتنے افراد رہتے ہیں اس نے جواب دیا چھ ٗ جنرل صاحب نے کہا کیا ان سب پر آپ کا کنٹرول ہے اس نے کہا نہیں بچے کبھی بات مان لیتے ہیں اور کبھی انکار کردیتے ہیں یہ سن کر جنرل صاحب فرمانے لگے آپ اپنے گھر کے چھ افراد کو کنٹرول نہیں کرسکتے مجھے تو پورا ملک کنٹرول کرنا ہے ۔ اسلامی نظام میں نافذ کرنے میں ایک لمحہ بھی تاخیر کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں لیکن اس کے لیے اجتماعی طور پر کوششیں کرنے کی ضرورت ہے اﷲ نے مہلت دی تو میں یہ کام بھی کر کے ہی جاؤں گا ۔جنرل کے ایم عارف لکھتے ہیں کہ بھٹو دور میں فوجی کلبوں اور میسوں میں شراب عام تھی لیکن جب جنرل ضیاء الحق نے فوجی کی کمانڈ سنبھالی تو فوج میں شراب پر سختی سے پابندی لگا دی گئی ۔ مسجدوں میں نمازوں کااہتمام کیا جانے لگا ٗ قرآن و حدیث کے درس و تدریسی کا سلسلہ شروع ہوا ۔ملک بھر میں شراب پر مکمل پابندی لگادی گئی ائیرپورٹس ٗ ہوائی جہازوں ٗ ہوٹلوں میں شراب اور فحش لٹریچر بند کردیا گیا ۔زکوۃ و عشر کا نظام قائم کیا گیا ۔ اسلامی بینکاری کی ابتدا ء جنرل ضیا ء الحق کے دور میں ہی ہوئی ۔

ممتاز صحافی مجید نظامی کے بقول جنرل ضیاء الحق ٗ ایوب خان ٗ یحیی خان اور بھٹو سے بالکل مختلف تھے جہاں تک ان کے ذاتی اوصاف کا تعلق ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ اپنی قسم کے آپ ہی انسان تھے ان کا تعلق مڈل کلاس سے تھا گیارہ سال حکومت کرنے کے باوجود ان کے طور طریقوں میں بظاہر کوئی فرق نہیں آیا آج تک ان کے بارے میں کوئی ایسی حرف گیری پڑھنے ٗ سننے میں نہیں آئی اور نہ ہی ان کے کسی بڑے سے بڑے سیاسی دشمن نے یہ دعوی کیا ہے کہ انہوں نے اقتدار میں رہ کر ناجائز مال کمایا ہے وہ پابند صوم و صلوہ تھے ۔ ان کے کئی سیاسی خیالات سے شدید اختلاف کے باوجود میرا یہ خیال ہے کہ ذاتی خوبیوں کے حوالے سے ان جیسا حکمران ہمیں شاید مشکل ہی سے میسر آئے گا ۔پھر 17 اگست 1988ء کا لمحہ آن پہنچا جب پاکستان کے دشمن اپنی سازشوں کا جال بچھا کر انہیں بہاولپور کے نزدیک بستی لال کمال میں شہادت کا جام پلانے میں کامیاب ہوگئے ۔یہ سانحہ کیوں کررونما ہوا اور اس میں کس کس دشمن ملک اور وطن دشمن کا ہاتھ تھا آج تک یہ راز نہیں کھل سکا اور نہ ہی پاکستانی حکمران اس راز کو کھلنے کا ارادہ رکھتے ہیں ہر اس شخص کو ایک نہ ایک دن اس دنیا سے رخصت ہونا ہے لیکن دیکھا یہ جاتا ہے کہ اس نے اپنی زندگی میں اپنی ذات ٗ اپنے خاندان اور ملک و قوم کے لیے کیا کیا کارنامے اور خدمات انجام دی ہیں ۔جنرل محمدضیاء الحق کا نام اس اعتبار سے تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔کسی انسان کے لیے ممکن نہیں کہ اپنی زندگی کا ہر ہر لمحہ دوسروں کے لیے مثال بنا کر دکھائے یہ پیغمبروں کی صفت ہے کہ ان کا ہر لمحہ مثال بنتا ہے ۔جنرل صاحب سب کچھ ہونے کے باوجود ایک انسان تھے او رانسانوں کی کمزوریاں ان میں بھی موجود تھیں انسانوں کی خواہشات ان کے دل میں بھی ہوں گی لیکن ان کی بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ عام آدمی تھے صدر بن کر بھی انہوں نے خود کو آدمی ہی سمجھا خدا نہیں بنے ان کی زندگی کے مختلف واقعات سے ہٹ کرٗ ان کی عاجزی ٗ انکساری اور ملنساری سے قطع نظر انہوں نے افغانستان کی جنگ کے حوالے سے جو کچھ کر دکھایا مجاہدین کی

جس طرح پشت پناہی کی اور مہاجرین کے لیے جس طرح بانہیں کھول دیں روسی قبضے کے خلاف دنیا بھر میں جس طرح متحدہ محاذ بنایا اور اس کی فوجوں کو جس طرح واپس جانے پر مجبور کردیااس نے جنرل محمدضیاء الحق کو ایک نرالی شان اور نرالی آن بان عطا کردی ہے ۔ ہماری قومی آزادی کو محفوظ بنانے کا شاندار کارنامہ انہوں نے سرانجام دیا اور انکی یہ کامیابی اتنی بھاری ٗ اتنی وزنی اور اتنی بڑی ہے کہ بہت کچھ اس کے نیچے دب جاتا ہے وہ ایک ایسی شخصیت کے طور پر ابھرتے ہیں کہ تاریخ جس کو سلام کیے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتی ۔حدیث مبارک ہے حضرت عبداﷲ بن مسعود ؓ کہتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اﷲ ﷺ اﷲ تعالی کو کونسا عمل زیادہ محبوب ہے ؟ ارشاد فرمایا وقت پر نماز پڑھنا ٗ والدین سے حسن سلوک

کرنا اور اﷲ کی راہ میں جہاد کرنا ۔ایک اور حدیث میں ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں میں نے رسول اﷲ ﷺ کو فرماتے سنا ۔ دو آنکھوں کو دوزخ کی آگ نہیں چھوئے گی ایک وہ جو خدا کے خوف سے اشکبار ہوئی اور دوسری وہ آنکھ جو اﷲ کی راہ میں پہرہ دیتی رہی ہو ۔جنرل محمدضیاء الحق کی شخصیت میں یہ ساری خوبیاں اﷲ تعالی نے ودیعت کررکھی تھیں اس لیے کہا جاتا ہے کہ اﷲ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے شہید ہوجائیں انہیں مرد ہ مت کہو ۔ جنرل ضیاء الحق شہید آج بھی زندہ ہیں کیونکہ انہوں نے زندگی کے ہر لمحے تک پاکستان کی حفاظت کی بلکہ امت مسلمہ کی سربلندی کے لیے بھر پور کردار انجام دیا۔ بے شمار لوگوں نے انہیں خواب کی حالت میں جنت میں ٹہلتے ہوئے بھی دیکھا ہے ۔ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ رب العزت اپنے نیک بندوں کے اعمال کو ضائع نہیں کرتا ۔