عسکریت پسندوں کی بلوچستان کے صحافیوں کے خلاف مسلحہ کارروائیوں کی دھمکی

کوئٹہ (بی بی سی اردو نیوز)پاکستان کے صوبے بلوچستان میں عسکریت پسندوں نے مبینہ طور پر نظر انداز کرنے پر مقامی میڈیا کے خلاف مسلحہ کارروائیوں کی دھمکی دی ہے اور کہا ہے کہ صرف ریاستی بیانیہ بیان کیا جارہا ہے اور بلوچستان کی حقیقی صورتحال پیش نہیں کی جارہی۔
اس دھمکی کے بعد شورش زدہ صوبے میں صحافیوں میں تشویش کی لہر پائی جاتی ہے۔کالعدم مسلح تنطیم یونائیٹڈ بلوچ آرمی کے ترجمان مرید بلوچ کا کہنا ہے کہ بلوچستان کا میڈیا پاکستانی ریاست کی پالیسیوں کا حصہ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ پرنٹ میڈیا سے وابستہ تمام صحافیوں اور دیگر ملازمین کو متنبہ کرتے ہیں کہ اخبارات، پریس کلبوں سے دور رہیں اور تمام ہاکر اور تمام ٹرانسپورٹر اخبارات کی ترسیل بند کردیں۔ اس ہی طرح دکاندار اخبارات کی فروخت بند کر دیں بصورت دیگر ایسے افراد کو گولی مار دی جائے گی۔
کالعدم بلوچستان لبریشن فرنٹ نے بلوچ عوام کو میڈیا کے بائیکاٹ کے لیے تیار رہنے کی اپیل کی ہے۔
ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں جاری آپریشنز اور حملے سنگین صورتحال اختیار کرچکے ہیں، لیکن عالمی میڈیا کو وہاں جانے کی اجازت نہیں جبکہ مقامی میڈیا ریاست کے کنٹرول میں ہے اور صحافت سول و عسکری بیانیہ تک محدود ہے۔
’ہم نے صحافتی اقدار کا احترام کرتے ہوئے ان سے گزارش کی ہے کہ وہ ریاستی بیانیہ کے ساتھ آزادی پسندوں اور عام متاثرہ بلوچ عوام کی بات بھی سنیں اور حقائق کو پیش کریں، مگر گذشتہ پانچ مہینے سے میڈیا کی جانب سے تمام آزادی پسندوں کے بیانات و بلوچوں کی آواز کے بائیکاٹ سے واضح ہے کہ اب ہم بلوچ قوم سے رجوع کرکے سخت اقدام اُٹھائیں۔
حکومت بلوچستان کے ترجمان انوار الحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے، جس کے تحت کالعدم تنظیموں کے بیانات شائع نہیں ہوسکتے، حکومت نے اس احکامات پر عملدرآمد کی بات کی ہے۔
بلوچستان یونین آف جرنلسٹ کے صدر خلیل احمد کا کہنا ہے کہ ان دھمکیوں سے نہ صرف صحافی بلکہ ان کے اہل خانہ بھی پریشان ہیں۔ اس کشیدگی میں صحافی سینڈوچ بن چکے ہیں۔

’گذشتہ دس سالوں میں 48 صحافی اور لکھاری ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوچکے ہیں۔ کوئی درجن کے قریب صحافیوں اور مدیروں پر دہشت گردی کے مقدمات دائر ہیں معلوم نہیں ہے کہ کب وہ ہمیں پابند سلاسل کردیں دوسری طرف مسلح تنطیموں کا دباؤ ہے۔‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ ’ہم نے بہت دباؤ میں رہ کر ان کی خبریں شائع کیں جس پر ہمیں حکومت اور دیگر اداروں کی طرف سے بہت زیادہ دباؤ تھا میڈیا مالکان کا کہنا ہے کہ وہ ملکی قوانین کے تحت اداروں کو چلاتے ہیں لہذا ہم تو خبر بھیج دیتے ہیں لیکن آگے سے انہیں نہیں چلایا جاتا۔‘
کوئٹہ پریس کلب کے صدر شہزادہ ذوالفقار کا کہنا ہے کہ ایک طرف دباؤ ہوتا ہے کہ مسلح گروہوں کی خبریں نہ چھاپیں بلکہ ان کے خلاف آواز اٹھائیں کیونکہ آپ نے ملکی مفادات کو دیکھنا ہے جبکہ دوسری طرف سے کہا جاتا ہے کہ نہیں جی آپ قومی مفاد کو دیکھیں ہم اس میں پھنس گئے ہیں۔
’ہم حکومت، مسلح تنطیموں اور سیاسی جماعتوں سے توقع کرتے ہیں کہ ہمیں ہمارا کام کرنے دیا جائے، ہمیں اس کشیدگی میں نہ گھسٹیا جائے ہم پہلے بھی نقصان اٹھا چکے ہیں۔‘
بلوچستان حکومت کے ترجمان انوار الحق کاکڑ اس بات کو مسترد کرتے ہیں کہ صحافی مسلح تنظیموں اور حکومت کے درمیان کشیدگی سے دباؤ کا شکار ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ قانونی اور آئینی ادارے اور کالعدام تنظیم کا موازانہ نہیں کیا جاسکتا ہے، کیونکہ کسی بھی ریاست اور حکومت کا یہ حق ہوتا ہے کہ وہ اپنے قوانین پر عمل کرائے، یہ استحقاق کسی کالعدم تنظیم کا نہیں ہوتا۔
بلوچستان کے صحافی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ وہاں کے مسائل ملکی میڈیا میں جگہ نہیں لے پاتے۔
بلوچستان یونین آف جنرلسٹ کے صدر خلیل احمد کا کہنا ہے کہ مسلح تنطیمیں ہوں یا قوم پرست تنظیمیں یا مذہبی جماعتیں ان کا یہ شکوہ بجا ہے کہ بلوچستان کے مسائل کو قومی میڈیا بلکل جگہ نہیں دیتا اگر کوئی بم دھماکہ یا حادثہ ہو جائے تو چند منٹوں کے لیے میڈیا پر آجاتا ہے اس کے علاوہ بلوچستان کی جو محرومیاں، سماجی اور دیگر مسائل ہیں انہیں اجاگر نہیں کیا جاتا۔
انھوں نے کہا کہ ’ان محرومیوں کو جگہ نے ملنے کی وجہ سے ہم صحافی مسائل کا شکار ہیں۔‘