کیپٹن (ر) صفدر کی تقریر مسلمانوں اور ملک کی اقلیتوں میں تفریق کی سازش ہے۔ عسکری ذرائع

اسلام آباد (ویب ڈیسک) گذشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے داماد اور رکن قومی اسمبلی کیپٹن (ر) صفدر نے کہا کہ فوج سمیت ملک کے دیگر اداروں میں قادیانوں کا اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونا ملک کے لیے خطرہ ہے اور ان کو فوری طور پر ہٹایا جائے۔ اپنی تقریر میں کیپٹن (ر) صفدر نے اس ضمن میں قرارداد لانے کا اعلان بھی کیا تھا تاہم عسکری ذرائع نے اس پر رد عمل دیتے ہوئے کیپٹن (ر) صفدر کی قومی اسمبلی میں کی گئی اس تقریر کو مسلمانوں اور اقلیتوں کے مابین تفریق کی ایک سازش قرار دیا ہے۔

عسکری ذرائع کے مطابق فوج میں شامل غیر مسلمانوں کی قربانیاں مسلمانوں کے مقابلے میں کسی طور کم نہیں ہیں۔ 69 غیر مسلم فوجی دشمنوں سے مقابلے میں اپنی جان کا نذارانہ پیش کر چکے ہیں اور شہید کہلاتے ہیں۔ عسکری ذرائع کے مطابق پاکستان میں اقلیتوں کو برابری کا درجہ اور مقام حاصل ہے۔ پاک فوج ایک قومی فوج ہے۔ اور ملک کے اس ادارے میں مذہبی ہم آہنگی اور بھائی چارے کی عظیم مثالیں موجود ہیں۔ جبکہ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور 20 اگست کو اپنے بیان میں اسی نظریے کی کھُل کر عکاسی کر چکے ہیں۔ عسکری ذرائع کے مطابق اس طرح کے بیانات سے مسلمانوں اور اقلیتوں میں انتشار پیدا ہو گا ، اس طرح کے بیانات تفریق پیدا کرنے اور انتشار پھیلانے کی سازش کے مترادف ہیں۔