جہانگیر ترین نااہلی کیس: زرعی زمین سے کاشتکاری کا ریونیو بھی آمدنی شمار ہوگی، چیف جسٹس

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے جہانگیر ترین نااہلی کیس کی سماعت کے دوران کہا کہ پنجاب کے زرعی ٹیکس ایکٹ میں کوئی ابہام نہیں، ہر وہ شخص زرعی ٹیکس دے گا جو زمین سے آمدن حاصل کرے گا، آپ ابھی تک قائل نہیں کر سکے کہ ٹھیکیدار ٹیکس دینے سے مستثنا ہے۔

جمعرات کے روز کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ کاغذات نامزدگی میں زرعی اراضی کا ایک حصہ ظاہر کیا اور ایک نہیں، آپ یہ بتائیں کہ غلط بیانی کا کیا نتیجہ ہوتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جہانگیر ترین نے اپنی مکمل زرعی آمدنی الیکشن کمیشن کونہیں بتائی، انہیں آمدن پر5فیصد کے اعتبار سے ٹیکس دینا تھا۔

انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین کے پاس چاہے زمین لیز پر تھی لیکن انہیں آمدن مل رہی تھی، زرعی زمین سے کاشتکاری کا ریونیو بھی آمدنی ہوگی اور رینٹ بھی آمدن میں شمار ہوگا، جہانگیر ترین 18 ہزار ایکڑ زمین پر کاشت کاری کررہے تھے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم قانون سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں اور عدالت اپنی حتمی رائے نہیں دے رہی۔

اس موقع پر جہانگیر ترین کے وکیل سکندر بشیر نے اپنے دلائل میں کہا کہ میرا موکل نااہل نہیں ہوتا، عدالت بتائے میرے موکل نے کہاں جھوٹ بولا؟

جسٹس فیصل عرب نے سماعت کے دوران کہا کہ متعلقہ فورم پر زیر التوا مقدمات وفاقی قانون سے متعلق ہیں تاہم زرعی ٹیکس کا ایشو صوبائی معاملہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ کیا ایگریکلچرل اتھارٹی نے آپ کو نوٹس جاری کیا؟

اس پر سکندر بشیر نے کہا کہ پنجاب ایگری کلچرل اتھارٹی نے کوئی نوٹس جاری نہیں کیا، اتھارٹی کے قانون میں ابہام ہے جس کی وضاحت درکار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین نے ایف بی آر کو زرعی آمدن سمیت مجموعی آمدن بتائی ، زرعی زمین کے ٹیکس گوشوارے 2سال کے اندر کھول سکتے ہیں۔