احمد نورانی کا لڑکی سے معاشقہ حملے کا باعث بنا۔ تفتیش نے نیا رُخ اختیار کرلیا

اسلام آباد ( آن لائن) سینئر صحافی احمد نورانی پر حملے کی تحقیقات نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے اور نجی اخبار نے پولیس ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے کی وجہ عناد ایک لڑکی کیساتھ معاشقہ ہے اور حملے میں نجی یونیورسٹی کے طلبہ ملوث ہیں۔

صحافی پر حملہ کرنے والے نجی یونیورسٹی کے نوجوانوں کو اس بات کا رنج تھا کہ نورانی لڑکی سے دوستی بڑھانا چاہتے ہیں ۔ احمد نورانی حملے کے روز جب اپنے گھر سے نکلے تو موٹر سائیکل سواروں نے ان کا پیچھا کیا اور گرین ایریا شکرپڑیاں کے نزدیک تاک میں بیٹھے ساتھیوں کو مطلع کیا۔
نجی اخبار ”روزنامہ جناح“ میں شائع ہونے والی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ”احمد نورانی پر حملہ ایک لڑکی کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کی کوشش کی وجہ سے کیا گیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق نجی اخبار کے صحافی احمد نورانی پر حملہ کرنے والے نوجوانوں کو اس بات کا رنج تھا کہ نورانی مبینہ طور پر ایک لڑکی سے دوستی بڑھانا چاہتے ہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق حملے میں نجی یونیورسٹی کے طلبہ کے ملوث ہونے کی اطلاع کے بعد پولیس نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ اس حوالے سے ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ حملہ آور کی جانب سے احمد نورانی کو ٹارگٹ کر کے نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسلام آباد کی نجی یونیورسٹی کے طلبہ اور مقامی صحافی کے درمیان ایک دوشیزہ کی وجہ سے تنازعہ تھا، مقامی صحافی کو واچ کرنے کے بعد شکرپڑیاں گرین ایریا میں بیٹھ کر انتظار کیا گیا اور گھر سے نکلتے وقت موٹر سائیکل سواروں نے اس کا پیچھا کیا اور گرین ایریا میں شکرپڑیاں کے نزدیک تاک لگائے بیٹھے ساتھیوں کو مطلع کیا۔

اس حوالے سے ایس ایچ او آبپارہ انسپکٹر خالد اعوان نے آن لائن کے استفسار پر بتایا کہ اس حوالے سے پولیس کی تحقیقات جاری ہیں ۔ پولیس نے جائے وقوعہ اور تحقیقات کے دوران سامنے آنے والی تفصیلات ایف آئی اے اور دیگر اداروں کو بھیجی ہے۔ یونیورسٹی کے طلبہ اور دوشیزہ پر ہونے والے جھگڑے کے حوالے سے ایس ایچ او آبپارہ کا مزید بات کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہنا تھا کہ رپورٹ آنے پر ہی اس حوالے سے بتایا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کے حکم پر ایک تحقیقاتی کمیٹی بھی بنائی گئی ہے جس میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ نجی اخبار کے صحافی پر حملے میں نجی یونیورسٹی کے طلبہ ملوث ہیں اور وجہ عناد ایک دوشیزہ بنی ہے۔