قبریں کھولی گئیں اور دنیا حیران رہ گئی

کون نہیں جانتا کہ موت کے بعد انسان کا جسم کچھ عرصہ میں مٹی کے ساتھ مٹی ہوجاتا ہے اور سوائے ہڈیوں کے کچھ باقی نہیں رہتا، مگر یہ حقیقت ہے کہ برگزیدہ ہستیوں کے مبارک اجسام دنیا سے رخصتی کے بعد بھی ہمیشہ تازہ پھولوں کی طرح تروتازہ اور مہکتے رہتے ہیں۔ اگرچہ بہت سے لوگ ان باتوں پر یقین نہیں رکھتے لیکن 1932ءمیں قدرت نے اس کا کھلا ثبوت ہزاروں انسانوں کی آنکھوں کے سامنے عیاں کردیا۔ ان دنوں عراق ،شاہ فیصل اول کے زیر حکمرانی تھا اور ایک رات حضرتِ حذیفہ الیمنی رضی اللہ عنہ ان کے خواب میں تشریف لائے اور فرمایا، اے بادشاہ! جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اور مجھے دجلہ کے کنارے سے نکال کر کسی محفوظ مقام پر منتقل کرو کیونکہ میری قبر میں پانی بھر چکا ہے جبکہ عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ کی قبر میں بھی پانی بھررہا ہے۔ شاہ فیصل اول اپنی مصروفیات کی وجہ سے اس بات پر توجہ نہ دے پائے تو یہی خواب اگلی رات بھی انہیں نظر آیا مگر وہ اپنے کاموں میں مصروف رہے۔

تیسری رات حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ عراق کے مفتی اعظم کے خواب میں تشریف لائے اور فرمایا کہ میں بادشاہ کو دو راتوں سے ہماری منتقلی کا کہہ رہا ہوں مگر وہ توجہ نہیں دے رہے، آپ ان پر زور دیجئے کہ وہ ہمارے قبور منتقل کرنے کے انتظامات کریں۔ اس کے بعد مفتی اعظم، وزیراعظم اور شاہ فیصل اول کے درمیان ملاقات میں طے پایا کہ مفتی صاحب اس بارے میں فتویٰ جاری فرمائیں گے اور وزےراعظم پریس کو بیان جاری کریں گے تاکہ عوام کو اس کے متعلق خبر ہوجائے۔ ابتدائی طور پر یہ فیصلہ ہوا کہ 10 ذی الحج کو قبور مبارکہ کی منتقلی کا مقدس فریضہ سرانجام دیا جائے گا مگر حجاج کرام کی درخواست پر تاریخ 20 ذی الحج مقرر کی گئی تاکہ حج سے فارغ ہونے والے بھی اس اہم موقع پر پہنچ سکیں۔

پھر وہ دن بھی آن پہنچا کہ بغداد شہر کی گلیاں لوگوں سے بھر گئیں اور دور و نزدیک سے آنے والے منتظر تھے کہ کب یہ مبارک فریضہ سرانجام دیا جائے گا۔ بعد از نماز ظہر ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں دونوں صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم کی قبور مبارک کو کھولا گیا تو واقعی ان میں پانی بھرچکا تھا، لیکن ہر دیکھنے والے نے دیکھا کہ ان مقدس ہستیوں کے مبارک جسم ایسے تروتازہ تھے جیسے ابھی چند لمحے پہلے سوئے ہوں اور فضا نہایت خوش کن خوشبو سے معطر تھی۔ اس موقع پر ہر آنکھ فرط جذبات سے اشکبار تھی اور دیکھنے والے حیرت سے دم بخود تھے۔

انہی دیکھنے والوں میں ایک جرمن فزیالوجسٹ بھی تھے جن کے سامنے یہ منظر تھا کہ 1300 سال سے بھی زائد عرصہ قبل دفنائے گئے مبارک جسم زندہ انسانوں سے بھی زیادہ تروتازہ نظر آرہے تھے۔ انہوں نے بے اختیار مفتی اعظم کے ہاتھ تھام لئے اور درخواست کی کہ انہیں مسلمان کیا جائے۔ اس موقع پر بے شمار عیسائی اور یہودی بھی مسلمان ہوئے اور قبول اسلام کا یہ سلسلہ کئی سال تک شدومد سے جاری رہا۔ دجلہ کے کنارے سے دونوں صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم کی قبور کو حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے مزار کے قریب منتقل کردیا گیا جو کہ اس وقت بغداد شہر سے 30 میل کے فاصلہ پر واقع تھا۔