میں نوازشریف کو کیوں معاف نہیں کر سکتا – اوریا مقبول جان

نوازشریف اورنون لیگ کے تمام گناہوں سے صرف نظرکرلیا جائے ان کی خطاؤں‌ کواس قوم کے وسیع ترمفاد میں معاف بھی کردیا جائے. پوری قوم اسے نجات دہندہ کیوں نہ مان لے. دانشوروں اورکالم نگاروں کی یہ منطق بھی تسلیم کرلی جائے کہ نوازشریف مین ایک مسلسل ارتقا ہوا ہے. وہ پہلے آمروں، ڈکٹیٹروں اورفوجی جرنیلوں کی چاپلوسی اورکاسہ لیسی کرتے ہوئے اقتدارکی راہداریون میں ایک چوردروازے سے داخل ہوا تھا. پھروہ اس وقت تک ان چوکیداروں کی قدم بوسی کرتا رہاجنہوں نے اس کے لیے دروازہ کھولا تھا جب تک انہوں نے اسے کان سے پکڑکراس ایوان سے باہرنہیں نکال دیا. کہا جاتا ہے کہ اس کے بعد نواز شریف کی ذہنی بلوغت کا آغاز ہوا اورارتقا کا سفرشروع ہوا یہ بھی مان لیا جائے لیکن کیا کریں. بلوغت کے سفر میں ایک سال بعد ہیہ جدے کا عشرت کدہ آگیا جسے امریکی صدربل کلنٹن، سعودی فرمانرواؤں‌ (جنہیں آپ جمہوریت کے رکھوالے کہ سکتے ہیں) اورلبنان کے سعد حریری نے نوازشریف پرمہربان ڈکٹیٹرپرویزمشرف کی رضا سے آباد کیا تھا کس قدرفرق ہے مہربان اورنامہربان ڈکٹیٹروں میں. ایک طرف ضیاءالحق عالمی دباؤ برداشت کرگیا اورذوالفقارعلی بھٹوکوتختہ دارپرلٹکا گیا، لیکن دوسری جانب پرویزمشرف تھا جس نے جمہوریت کی بقا اورنوازشریف کے سیاسی ارتقا کے لیے اسے جدہ کی پرآسائش رہائش گاہ میں رہنے، کاروبارکووسعت دینے اوردنیا بھرمیں پاکستان میں کمائی ہوئی دولت سے اپنی معاشی سلطنت کومضبوط کرنے کے مواقع فراہم کیے. شہبازشریف بیمارپڑے توان کے لیے مغربی علاج گاہوں کے دروازے واکردیے گئے. حجازکی سرزمین سے اکتائے توبقول نوازشریف انہیں‌ جدہ کی سٹیل مل بیچ کرپرتعیش فلیٹس خریدنے اوروہاں‌ رہنے کی اجازت مل گئی. کس قدر”پریشانیاں” “صعوبتیں” اور”مسائل” تھے جواس “شہزادہ صفت” ثخص نے جمہوریت کا سبق پڑھنے کے لیے برداشت کئے. جلاوطنی کی غربت میں کاروباری سلطنت کی وسعت اورمصاحبین کی آؤبھگت تک سب کچھ تومیسرتھا. پاکستانی سیاست کے اس خودساختہ نیلسن منڈیلا، موہن داس گاندھی، یا ذوالفقارعلی بھٹوکوجمہوریت کا ارتقائی سفربھی کس قدر پرآسائش ماحول میں ملا. اس کے بعد توپھرپاکستان واپسی ہے اورکھوئے ہوئے اقتدارپرازسرِنوبحالی. اگلے نوسال نوازشریف کے پاکستانی سیاست میں ایک لبرل، سیکولراورمغربی اقدارکے دلدادہ شخص اورلیلیٰءاقتدارکے پروانے کی حیثیت سے نظرآتے ہیں. ان کی‌ شخصیت کا یہ ارتقا بھی کمال کا تھا جب وہ نظریہ پاکستان کی بنیاد پرقائم اس لکیرکوبھی ایک فریب نظرقراردیتے رہے جس کی بنیاد میں دس لاکھ شہدا کا خون ہے، دنیا کی سب سے بڑی ہجرت ہے، لوگوں نے اپنے آباؤاجداد کی قبریں صرف اورصرف کلمہ طیبہ کے نام پرچھوڑیں لیکن نواز شریف صاحب کی بالغ نظری اورذہنی ارتقا کا کمال یہ ہے کہ اس نے دونوں طرف کے رہنے والوں کویہ کہ کرایک قوم قراردے دیا کہ دونوں‌‌ آلوگوشت کھاتے ہیں.

آصف زرداری کے گلے، عمران خان کے الزامات، عدالت کے فیصلے، یہ سب کے سب درگزربھی کردیئے جائیں سود کے حق میں نواز شریف کے اقدامات کواللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پرچھوڑدیا جائے کہ اس جنگ کا اعلان تواللہ نے خودکیا ہے. وہ خود اس سے نمٹ لے گا. ممتازقادری کی پھانسی کواس کی قانونی مجبوری سمجھ کردرگزرکردیا جائے اورمعاملہ آخرت پرچھوڑدیا جائے کہ وہاں تو زبان بند ہوگی اورجسم کے اعضا گواہی دیں گے. وہاں دلوں کے حال اورنیتوں کا فتورسب واضح‌ ہوجائے گا، توپھربھی ان تمام ناقابل معافی جرائم کے باوجود جب میں آج کے دن یعنی 9 نومبرکواس مملکت خداد پاکستان میں عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روشن شمع، شاعرمشرق علامہ محمد اقبال کے یوم پیدائش پرکالم لکھنے بیٹھتا ہوں تودل نواز شریف سے بغض‌ کے ساتھ بھرجاتا ہے. مجھے اس شخص سے شدید نفرت ہونے لگتی ہے اوریہ نفرت گزشتہ دوسال سے اپنی شدت میں اضافہ کرتی جارہی ہے اورمیں اسے اپنے لیے توشئہ آخرت اورسرمایہ سمجھتا ہوں. یوں تواس کی وجہ بہت معمولی اورسادہ سی ہی ہے لیکن عشق کے میدان اورکارزارمیں چھوٹی سی غلطی بھی قابل معافی نہیں ہوتی. مجھے اقبال سے عشق ورثے میں ملا ہے میرے والد اقبال سے اس لیے عشق کرتے تھے کہ وہ عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے کوروشن چراغ تھا. جس سے لوگ اس راستے پرچلنے کا درس لیتے تھے اقبال نے میرے جیسے بے شمارگناہ گاروں کوسیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنا، ان کے عشق میں سرشارہونا سکھایا. ایسا عالم کہ ان کا نام آئے توآنکھ سے آنسورواں ہوجائیں اورایسی محبت کہ ان کے لیے سرکٹانا افتخارکا باعث ہو.
آج سے دوسال قبل جب نوازشریف پرسیکولراورلبرل قوتوں کوخوش کرنے کا جنون سوارتھا تواس نے نومبر2015ء کویومِ اقبال کی تعطیل ختم کرنے کا حکم صادرکیا. میں اس وقت اسلام آباد میں ڈائریکٹرجنرل این سی ایچ ڈی تھا. میں خود وزارتِ داخلہ کے دفترگیا. ایک انتہائی نیک اورنماز روزے کا پابند شخص سیکرٹری داخلہ تھا اس سے پہلے وہ کئی سال ڈائریکٹرحج بھی رہ چکا تھا. میں نے اس سے درخواست کی کہ آپ یہ تعطیل ختم کرکے اس پاکستان میں ایک نفرت کی علامت اپنے چہروں پرثبت کررہے ہو. اگرتوصرف چھٹی سے نفرت ہے تویوم مئی، یوم کشمیر، یوم قائد اعظم یہاں تک کہ 23 مارچ کویوم پاکستان تعطیل بھی ختم کردو. اقبال کومنتخب کرکے تم لوگ اچھا نہیں کررہے. میں ایسے بے شمارلوگوں کو جانتا ہوں جواقبال سے بحیثیت عاشقِ رسول صلی للہ علیہ وسلم محبت کرتے ہیں اوران میں سے کئی ایسے بھی ہیں جو اگردعا کے لیے ہاتھ اٹھالیں تواللہ ان کی دعائیں‌ ردنہیں کرے گا. نوازشریف سے کہو بازآجائے ورنہ ایک درویش نے مجھے کہا ہے کہ پھرنوازشریف اس ملک میں اپنا انجام دیکھ لے گا. بلکہ لوگ اسے عبرت کا مقام بنتے ہوئے دیکھیں گے. سیکریٹری داخلہ شاہد خان نے اس وقت کے وزیرداخلہ سے پھرگفتگوکی لیکن بے سود کیونکہ حکم مطلق العنان وزیراعظم نوازشریف کا تھا. اس سال ایوان اقبال میں مرکزیہ مجلس اقبال کی تقریب میں گورنرپنجاب اوراس وقت کے وزیراطلاعات پرویزرشید بھی موجود تھے میں نے درویش کی بات اس تقریب میں اپنی تقریرکے دوران کہی اورکہا کہ اقبال اس ملک میں عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی متاع ہے اس متاع سے کھلواڑ مت کریں

اللہ اپنے دشمنوں کو ڈھیل دیتا ہےلیکن یاد رکھو چودہ سو سال کی تاریخ شاید ہے کہ اللہ سید الانبیا ء ﷺْ کے معاملے میں کوئی ڈھیل نہیں دیتا۔9 نومبر 2015 سے لے کر 9 نومبر2017 تک کے دوسال ایسے ہیں کہ مسمی نواز شریف اوراس کے خاندان کا کوئی قدم سیدھا نہیں پڑا۔ پانامہ لیکس تو ٹھیک چھ ماہ بعد 9 مئی2016 کو سامنےآ یا لیکن فلیٹس کی ملکیت کے اعترافات اور حسین نواز کے انٹرویو پہلے شروع ہو گئے جو بوکھلاہٹ عیاں کرتے تھے۔ اس دوران 29 فروری2016 کو ممتاز قادری کو پھانسی دی گئی۔غازی علم الدین کہ جس سے محبت اقبال کہ پہچان ہے اس کی راہ پر چلنے والے ممتاز قادری کی پھانسی بھی نوازشریف کا مقدر بنی بلکہ اس نےمنہ سے کھنچ تان کر اسے اپنے کھاتے میں ڈال لیا۔اقبال وہ ہے جسے سید لا نبیاءﷺْ نے’’ عندلیب باغ حجاز‘‘ کےلقب سے رویائے صالحہ میں نوازا۔اقبال نے مجھےاور میرے جیسے ہزاروں لوگوں کی انگلی تھام کر رسول محترمﷺْ سے عشق کرنا سکھایا۔وہ اس سرزمین پر رسول اللہ ﷺْ سے محبت کی شمع لازوال ہےا س سےدنیا کا ہر وہ شخص عشق کرتا ہے جو سید الانبیاءﷺْ سے محبت کے راستےکا مسافر ہے۔میں نے تمام مسلم دنیا میں یہ دیکھا ہے میر ا اقبال سے عشق،میر متاح جان رسول اکرم ﷺْ سے محبت کا حوالہ ہے اس لیے اقبال کی میلی آنکھ سے دیکھنے والے کو بھی میں نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہوں ،اس سے بغض کرتا ہوں کہ یہ بغض مجھے قرب الٰہی عطا کرتا ہے،یہ میرا ایمان ہے کہ کیونکہ میرا اللہ مجھے الحب للہ(اللہ سے محبت) اور البغض للہ( اللہ کےلیے بغض) کا حکم دیتا ہے۔سیاست کا کام ارباب سیاست جانیں ،مجھےتو یہ بغص بہت عزیز ہے کہ رسول اکرم ﷺْ نے فرمایا کہ قیامت کے روزجو سات لوگ عرش الٰہی کے سائے میںہوں گئے ان میں سےایک وہ ہوگاجو اللہ کے لیے دوستی کرے اور اللہ کے لیے دشمنی کرے۔