پاکستانی سیاست میں تصادم کی سیاست کا اختتام ٹیکنو کریٹ حکومت پر ہوگا

لاہور(ویب دیسک) سابق وزیراعظم اورسربراہ مسلم لیگ ن نے اسٹیبلشمنٹ کیخلاف کھل کر بات کرنے کا فیصلہ کرلیا ، اگرچہ حالیہ دنوں میں ن لیگی ممبران قومی اسمبلی نے نواز شریف کی جانب سے عدالتی فیصلے کیخلاف عوامی سطح پر تنقید کرنے کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کردیا ہے ، اب یہ تحفظات اس نقطے پر پہنچ چکے ہیں کہ جہاں یہ اسمبلی میں ایک الگ بلاک کی صورت اختیار کر چکے ہیں جس میں کئی دیگر ارکان بھی شامل ہو گئے ہیں، جن میں سے کئی پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس میں اپنی پوزیشن واضح طور پر بیان کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ذراءع کا کہنا ہے کہ اگر نوازشریف اورمریم نواز کی اداروں عدلیہ اوراسٹیبلشمنٹ کےخلاف زہرآلود بیان بازی جاری رہی تو پھر ملکی سیاست کے حالات مزید کشیدہ ہوسکتے ہیں۔جس کے بعد وزیراعظم شاہد خاقان عباسی یاتو وزارت سے فارغ ہوجاءیں گے اورنءی ٹیکنو کریٹ حکومت کی تشکیل میں سپریم کورٹ کا اہم کردارہوگا۔ ذراءع کے مطابق یہ حکومت طویل مدتی یعنی ، 2022تک جانے کے امکانات ہیں اس دوران ملک میں مکمل کرپٹ عناصر کےخلاف کاررواءیاں کی جاءیں گی ۔ جس کے بعد پھر حالات پر منحصر ہوگا کہ ملک میں صدارتی نظام لایا جاتا ہے یا پارلیمانی ہوگا۔ دریں اثنا ء نواز شریف کی جانب سے مقتدر ادارے پر تنقید میں شدت لانے کے فیصلے کو مسلم لیگ ن کی جانب سے ایبٹ آباد، شیخوپورہ اور ملتان میں منعقد جلسوں میں آزمایا جائے گا۔

حالیہ دنوں میں تجزیہ کاروں نے خبر دار کیا ہے کہ اگر ملک میں مزید بے یقینی کی صورتحال پیدا کرنے کیلئے کوئی اقدام کیا تو اس سے الیکشن تاخیر کا شکار ہو سکتے ہیں.جس سے ٹیکنو کریٹ حکومت کی راہ ہموار ہو جائے گی اور اقتدار انہیں ٹرانسفر کر دیا جائے گا۔ اس نقطہ نظر کی حمایت کرنے والوں کی بنیاد پاکستان کی مایوس کن معاشی صورتحال اور وزیر خزانہ اسحق ڈار کا لندن میں مزید قیام کا فیصلہ ہے۔اس کے علاوہ اٖفغانستان اور بھارت کے ساتھ کشیدہ تعلقات بھی پاکستانی فیصلہ سازوں کیلئے ایک چیلنج کی صورتحال پیدا کرتے ہیں۔ ایسے میں فعال حکومت کے بجائے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے ذہن پر نواز شریف کی واپسی کیسے ہوگی سوار ہے۔دوسری طرف سابق صدر پرویز مشرف کی قیادت میں 23 جماعتوں پر مشتمل پاکستان عوامی اتحاد تشکیل دیا گیا ہے۔ پاکستان عوامی تحریک اور مجلس وحدت المسلمین نے دھرنے کے دوران اپنی تنظیمی صلاحیت کا بھرپور مظاہر ہ کیا ہے اور ان کے کارکنوں نے بھی دباؤ پیدا کرنے کی صلاحیت منوائی ہے۔ اگرچہ یہ اتحادا بھی بڑے انتخابی کھلاڑی کے طور پر نہیں ابھرا لیکن آنے والے دنوں میں ایک اہم کھلاڑی ثابت ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ اتحاد میں شامل ایک جماعت کے رہنما کا کہنا ہے کہ اگر نواز شریف نے حالات کو خراب کرنے کی کوشش کی تو پھر ہم میدان میں ہونگے، آنے والے دنوں میں یہ فیصلہ ہو گا کہ پاکستان کی سیاست کو کہاں جانا ہے۔