عالمی عدالت میں پاکستان کو اب تک کی سب سے بڑی کامیابی مل گئی، 80 ارب روپے بچ گئے کیونکہ۔۔۔

اسلام آباد ( آن لائن)پاکستان کو انٹرنیشنل سنٹر فار سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس (آئی سی ایس آئی ڈی) سے کرائے کے بجلی گھر فراہم کرنے والی ترک کمپنی کارکے کے 800 ملین ڈالر (تقریباً 80 ارب روپے ) کے دعویٰ پر حکم امتناع حاصل ہوگیا ہے۔
ایکسپریس ٹربیون کے مطابق رواں سال اگست میں آئی سی ای آئی ڈی نے ہرجانے کے دعویٰ کے کیس میں ترک کمپنی کارکے کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے پاکستان کو مذکورہ کمپنی کو 800 ملین ڈالر ادا کرنے کا پابند بنایا تھا۔اٹارنی جنرل آف پاکستان اشتر اوصاف نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پاکستان نے جرمانہ ختم کرنے کیلئے اپیل دائر کی ہے جس کی بنا پر حکم امتناع جاری کیا گیا ہے، حکم امتناع کے باعث پاکستان ہرجانے یا سود کی رقم دینے کا پابند نہیں رہا۔

آئی سی ایس آئی ڈی کی جانب سے کارکے کمپنی کے حق میں دیے گئے فیصلے کے مطابق پاکستان بجلی پیدا کرنے والی کمپنی کا نقصان پورا کرنے کیلئے نہ صرف 80 ارب روپے کی رقم ادا کرے گا بلکہ ہر مہینے اس رقم پر تقریباً 60 کروڑ روپے سود بھی ادا کرے گا۔
واضح رہے کہ پیپلز پارٹی کے دور میں پاکستان نے بجلی کے بحران کے خاتمے کیلئے ترک کمپنی کارکے سے 560 ملین ڈالر کا معاہدہ کیا تھا جس کے تحت کمپنی نے بحری جہاز پر لگے پاور پلانٹ کے ذریعے پاکستان کو 5 سال تک بجلی فراہم کرنی تھی۔ اس معاہدے کے خلاف مخدوم فیصل صالح حیات اور خواجہ آصف نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، اس درخواست پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے معاہدہ منسوخ کردیا تھا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کارکے کمپنی نے 2013 میں آئی سی ایس آئی ڈی سے رجوع کیا تھا ۔