جسٹس آصف سعید کھوسہ کی حدیبیہ پیپر ملز کیس کی اپیل کی سماعت سے معذرت ، بینچ ٹوٹ گیا

اسلام آباد ( آن لائن ) سپریم کورٹ کے جج جسٹس آصف سعید کھوسہ نے حدیبیہ پیپر ملز کیس سننے سے معذرت کرلی جس کے بعد اپیل سننے والا بینچ ٹوٹ گیا ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ حدیبیہ پیپر ملز کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ کے سربراہ تھے، انہوں نے اپیل واپس چیف جسٹس آف پاکستان کو بھجوادی اور نیا بینچ تشکیل دینے کی درخواست بھی کی ہے۔

حدیبیہ پیپر ملز کیس پر نیب کی اپیل کی سماعت شروع ہوئی تو بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ نیب کی طرف سے عدالت میں کون آیا ہے، جس پر نیب پراسیکیوٹر کو روسٹرم پر بلایا گیا ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ رجسٹرار نے شاید غلطی سے یہ کیس اس بینچ کے سامنے لگادیا ہے ، رجسٹرار آفس نے شاید میرا 20 اپریل کا فیصلہ نہیں پڑھا۔پاناما کیس میں چیئرمین نیب کو بھی بلایا جبکہ فریقین کے وکلا نے اپنے اپنے دلائل دیے، پاناما کے فیصلے میں حدیبیہ پیر ملز کیس کا بھی ایک حد تک فیصلہ دے چکا ہوں ، باقی ججز کے فیصلوں سے متعلق کچھ نہیں کہوں گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے اپنے 20 اپریل کے فیصلے میں حدیبیہ کیس سے متعلق 14 پیراگراف لکھے تھے ، وہ اسحاق ڈار کی حد تک بھی پہلے ہی فیصلہ دے چکے ہیں کیونکہ اسحاق ڈار حدیبیہ پیپر ملزم کیس میں پہلے ملزم تھے پھر وعدہ معاف گواہ بن گئے، انہوں نے اپنے فیصلے میں اسحاق ڈار کے خلاف نیب کو بھی کارروائی کا کہا۔

جسٹس آصف کھوسہ نے کیس کی سماعت سے معذرت کرلی جس پر نیب پراسیکیوٹر نے استدعا کی کہ وہ کیس میں اگلے ہفتے کی تاریخ دے دیں جس پر جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ یہ استحقاق چیف جسٹس کا ہے۔ انہوں نے حدیبیہ پیپر ملز کیس میں نیب اپیل کا معاملہ واپس چیف جسٹس کو بھجوادیا اور نیا بینچ تشکیل دینے کی درخواست کردی۔

واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ سے 2014 میں حدیبیہ پیپر ملز کیس دوبارہ کھولنے کی درخواست مسترد ہونے کے بعد نیب نے مقدمے کو دوبارہ کھولنے کے لیے 20 ستمبر کو سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی جسے چیف جسٹس نے منظور کرتے ہوئے 10 نومبر کو جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس دوست محمد پر مشتمل تین رکنی بینچ تشکیل دیا تھا۔
خیال رہے کہ حدیبیہ پیپر ملز کیس واحد مقدمہ ہے جس میں پورے شریف خاندان کا نام شامل ہے، نیب کی درخواست میں نواز شریف، شہباز شریف، حمزہ شہباز، شمیم اختر اور صاحبہ شہباز کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔