اللہ جڑکاٹ کے رکھ دیتا ہے

جدید سیاست کا ایک انداز یہ بھی ہے کہ تمام تجزیات اورمنصوبہ بندی سے اس کائنات کے مالک اورفاعلِ حقیقی کودوررکھا جائے. اس کا نام صرف برکت کے لئے لیا جائے یا پھرلوگوں کواس بات کو یقین دلانے کے لیے کہ ہم خدائے بزرگ وبرترپریقین و ایمان رکھتے ہیں. سوشلزم اورکمیونزم تویادِ ماضی ہوگئے کہ ان کے ماننے والے منافقت نہیں کرتے تھے. خدائے بزرگ وبرتراورآسمانی مذاہب کونہیں مانتے تھے تواس بات کا واضح‌ اعلان کرتے تھے. جدید جمہوری نظام کی منافقتیں ان میں موجود نہ تھیں کہ تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآن حکیم سے کریں اورپھراس کے بعد ہروہ کام کریں جو اس کتابِ ہدایت کے خلاف ہو. مغرب سے مستعاراس سیاسی نظام کا خمیرچونکہ سیکولرنظریات سے اٹھا ہے اوراس کی جڑوں میں دوتصورات انتہائی گہرائی کے ساتھ شامل ہیں، ایک یہ کہ ریاست کا مذہب کے ساتھ کوئی تعلق نہیں‌ اوردوسرایہ کہ یہ دنیا سائنسی نظام کی پابند ہے. یہاں ہرعمل کا ایک ردعمل ہوتا ہے اورواقعے، سانحے، المیے یہاں تک کہ ایجاد کی بھی کوئی نہ کوئی وجہ ضرورہوتی ہے. یہ دنیا علت ومعلول (cause and effect) کا کھیل ہے اورعلت و معلول میں کسی آفاقی ہستی، کسی بالاترنظام یہاں تک کہ خدائے بزرگ وبرترکی دخل دراندازی شامل نہیں‌ ہوسکتی. اس تصورنے سیاست میں بھی ایک محدود “خدائی”‌ کے تصورکوذہنوں میں‌ راسخ کروایا. ہرریاست مطلق العنان (sovereign) ہوتی ہےاوراس کا سربراہ حکام اعلیٰ کے منصب پرفائزہوتا ہے. اس کے مطلق العنان سربراہ کی طاقت کا سرچشمہ “عوام” ہوتے ہیں. عوام جسے چاہیں اس “محدود”‌ خدائی کے منصب پرفائز کردیں اورجسے چاہیں اتاردیں. ان ریاستوں کے محدود خداؤں میں بھی کوئی چھوٹا اورکوئی بڑا اورکوئی سب سے بڑا ہوتا ہے. آج کے اس علت ومعلول کے دورمیں ریاستوں کا سب سے بڑا”محدودخدا” فی الحال امریکہ ہے، اس سے پہلے دو تھے روس اورامریکہ، اس سے پہلے جرمنی اورانگلینڈ، روم اورایران وغیرہ وغیرہ. یہ زمیں پرفساد پھیلاتے تھے، آپس میں‌ جنگیں لڑتے تھے. اب ایک ہی طاقت ہے، وہ جہاں چاہے جنگ کے شعلے پھیلا دے اورجہاں چاہے امن کے پھول کھلا دے، جسے چاہے اپنی خدائی میں‌ شریک کرکے محدود اقتدارعطا کردے اورجس سے چاہے چھین لے. یہ ہے آج کے سیاسی نظام کے تجزیات، تجربات، پیش بندی اورمنصوبہ بندیوں کا بنیادی خاکہ. اسی بنیاد پرہرسیاسی پارٹی کی منصوبہ بندی مکمل ہوتی ہے اورہرتجزیہ نگارکا تجزیہ نوک پلک سنوارکرسامنے آتا ہے. اس سارے تجزیے اورمنصوبہ بندی میں اللہ تبارک وتعالیٰ کا کوئی عمل دخل نہیں. اس کا نام صرف برکت کے لیے بسم اللہ کے طورپرلکھا جاتا ہے یا آئین کی دفعات میں درج کیا جاتا ہے. یہی پاکستان کی ہرسیاسی پارٹی بشمول مذہبی سیاسی پارٹیوں کی عملی صورت حال ہے. ہرکوئی معروضی صورتحال کے حوالے سے منصوبہ بندی کرتا ہے . فتح وشکست کے لیے اپنے بدترین دشمنوں سے اتحاد بناتا ہے. اپنی نظریاتی سیاست کوپسِ پشت ڈال کرزمینی حقائق کوسامنے رکھتے ہوئے امیدوارمیدان میں لاتا ہے اوراس کے بعد وزارت، سفارت اورنظامت جیسے عہدوں کے لیئے اصولوں پرسمجھوتا کرتا ہے. آپ کسی سیاسی پارٹی کے سربراہ یا لیڈرکوگفتگو کے لیے بلائیں اوراسے آئندہ حالات وواقعات اورسیاسی منظرنامے پرسوال کریں تووہ آپ کوتمام زمینی حقائق کے مطابق کسی عالمی تجزیہ نگارکی طرح تجزیہ کرکے دکھا دے گا. اس سارے تجزیے میں انشاء‌اللہ کا لفظ توضروربولے گا لیکن کہیں بھی یہ تصورنہیں ملے گا کہ اللہ اس کی پلاننگ تباہ بھی کرسکتا ہے، یا اس کی پلاننگ توبہت ہی کمزور ہے لیکن اس کا بھروسہ اللہ کی ذات پرہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ چھوٹے گروہ کوبڑے گروہ پرغالب کردے گا. کئی دہائیاں گزرگئیں میں نے کبھی یہ لفظ کسی مذہبی سیاسی جماعت کے سربراہ کے منہ سے بھی نہیں‌ سنا کہ ہم صرف اللہ کے بھروسے پرمیدان میں نکلے ہیں بلکہ ان کے تبصرے بھی عام سیاسی جماعتوں کی طرح معروضی حالات اورزمینی حقائق پرمبنی ہوتے ہیں. ان کے ہاں بھی اسمبلی کی رکنیت، وزارت اورعہدہ جدوجہد کی آخری منزل ہوتی ہے جس کو وہ کمال ہوشیاری سے دین کے نفاذ کا راستہ قراردیتے ہیں لیکن گزشتہ پچاس سال سے وہ صرف اورصرف جمہوریت کی بقا کی جدوجہد میں مصروف ہیں. پاکستان کی سیاست میں اللہ کے حقِ حکمرانی بلکہ اللہ کے تصورِ مالکِ کائنات کوعملی طورپرخارج ہوئے مدت ہوگئی. بلکہ اس کی جگہ عالمی اسٹیبلشمنٹ اورپاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے لے لی ہے. ان دونوں کی بادشاہت کا چرچا ہے. ایک سے لڑو، دوسرے کوراضی کرو، یا دونوں‌ کوبیک وقت راضی کروتواقتدارتمہارا. لیکن وہ جو اس کائنات کا فرمانروا ہے وہ اپنے فیصلے صادررکتا ہے اورتمام دلائل براہین سے بتاتا ہے کہ دیکھو یہ میں ہوں‌ “جودنوں کوانسانوں‌ کے درمیان بدلتا رہتا ہے (آل عمران :140). جب تمام دنیاوی اسباب کسی کے حق میں جاچکے ہوں، وہ اپنی طاقت پراندھا غرورکرنے لگے توپھراللہ یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ دیکھو قضا وقدرکیا ہے.

ذرا ایک نظرپیچھے ہٹ کردیکھئے. عمران خان کا دھرنا جب اے پی ایس کے سانحے کے بعد اختتام پذیرہوا، راحیل شریف کی مدت ملازمت میں‌عدم توسیع، نئے آرمی چیف کا اپنی مرضی ومنشا سے تقرر، ڈان لیکس پرحکومتی فتح کے بعد پاکستان کی ہرسیاسی قوت اورتجزیہ نگارکی زبان پرصرف اورصرف ایک ہی تجزیہ تھا کہ نوازشریف سے اگلے پچاس سالوں میں بھی اقتدارنہیں چھینا جا سکتا. تمام انتظامی مشینری اس کے تابع ہے، فوج مطیع ہے، عدلیہ میں اسے پسند کرنے والے موجود ہیں اورمقابل سیاسی قوتیں دم ٹوڑ چکی ہیں، اب شاہد مہاتیرمحمد اورطیب اردوان کی طرح پاکستان کا مستقبل نوازشریف سے ہی وابستہ ہے. یہی وہ زمانہ تھا جب نوازشریف نے اپنی سیاست پرکامل اعتماد کرتے ہوئےہراس تصورسے ٹکرانے کی ٹھانی جس سے پاکستان کے اسلامی تشخص کی جھلک ملتی تھی. وزارت قانون کے افسران بتاتے ہیں کہ کس طرح ایک “سائنسی جمہوری سیکولرنما عالم دین” سے بالواسطہ اوربلا واسطہ مشورے سے قادیانیوں کوقومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے غیرمحسوس طریقے سے قوانین تبدیل کرنے کے سفرکا آغازکیا گیا. جرات رندانہ کا ثبوت دیتے ہوئے، ہزاروں پھانسی کے سزایافتہ قیدیوں میں سے خصوصی طورپرممتاز قادری کوچنا گیا. ایوان صدرکے افسران بتاتے ہیں اورخود صدرصاحب نے بھی نون لیگی وزراء کے ایک وفد کوبتایا کہ ان پربہت دباؤ ہے، ہردوسرے دن وزیراعظم ہاؤس سے فون آتا ہے کہ ممتاز قادری کی فائل کیوں نہیں نکال رہے. طاقت کا نشہ اپنے عروج پر، مخالفین کوللکارنے کا لہجہ اپنی توانائی میں . یہی “محدودخدا” ہونے کا تصورتھا جس کی چکاچوند نے حسین نوازکوٹی وی پروگرام میں اپنے فلیٹ ظاہرکرنے پرمائل کیا. نوازشریف کوپہلے ٹیلی ویژن اورپھرپارلیمنٹ سے خطاب کرکے اپنی جائدادیں تسلیم کرنے پرمجبورکیا. سپریم کورٹ کوپانامہ کی انکوائری کے لئے خط لکھنے جیسے پراعتماد فیصلے پرعملدرامد کروایا. کسے خبرتھی کہ اس کائنات کا مالک اپنے تئیں “عقل کل” سمجھنے والے نواز شریف کے ان اقدامات پرہنس رہا ہوگا. اس لئے کہ اللہ نے تونعمتوں کے باب میں ایک اصول طے کردیا تھا اورچودہ سوسال پہلے قرآنِ حکیم نے بتا دیا تھا. “پھرجب انہوں نے اس نصیحت کوجوانہیں کی گئی تھی، بھلا دیا توہم نے ہرطرح کی خوشحالیوں کے دروازے ان پرکھول دیئے، یہاں تک کہ جب وہ ان نعمتوں میں جوانہیں عطا کی گئی تھیں خوب مگن ہوگئے تواچانک ہم نے انہیں پکڑلیا اوراب ان کا یہ حال ہے کہ وہ ہرخیرسے مایوس ہوگئے. اس طرح ان لوگوں کی جڑیں کاٹ کررکھ دی گئی جنہوں نے ظلم کیا تھا اورتعریف ہے اللہ رب العالمین کی (کہ اس نے ان کی جڑکاٹ دی)”. (الانعام :44-45). خوشحالیوں کے دروازے کیا کھلے ایک عام سی فیکٹری سے وزیر، وزیراعلیٰ اورتین دفعہ وزیرِ اعظم اورپھروہ ان عطا کی گئی نعمتوں میں مگن ہوگئے اوراب سوال کرتے پھرتے ہیں کہ میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا، مجھے کیوں نکالا. انہیں کس نے کہا کہ وہ ملک چھوڑ دیں، لیکن وہ پتہ نہیں کس کومخاطب کرکے کہتے ہیں کہ “میں ملک کیوں چھوڑدوں”. انہیں آج بھی اپنی سیاسی قوت پراعتماد اوریقین کا عالم یہ ہے کہ اللہ جس جرم پرلعنت بھیجتا ہے، یعنی جھوٹ، اس کے مجرم کوبھی پارٹی کا سربراہ بنانے کا قانون منظورکرواکراللہ کے احکامات کا تمسخراڑاتے ہیں. نواز شریف کومکمل طورپریقین ہے کہ ان کا کردارپاکستان کی سیاست میں‌ ختم ہوچکا ہے، ان کے خاندان میں سے بھی کوئی ایسا اب نہیں رہا کہ جس کے سامنے پہاڑجیسے مقدمات نہ ہوں اوروہ عالمی سیاست کے “محدودخداؤں” اورمقامی سیاست کے ناخداؤں کی مدد سے وہ اس پورے نظام کوالٹا دیں گے. نہ حکومت رہے گی اورنہ عدالت، لوگ ایک نئی جنگ میں‌ پڑجائیں گے، جس کے اندرسے ان کا وجود نکھرکرسامنے آئے گا. انہیں اندازہ نہیں ہے کہ اہلِ نظرگزشتہ چارسالوں سے یہ وارننگ دے رہے تھے کہ باز آجاؤورنہ تمہاری جڑکاٹ دی جائے گی. میں نے اہل نظرکے کہنے پرکئی دفعہ اسی آیت کی وارننگ کوکالموں‌ میں بارباردہرایا. لیکن شاید کسی نے بھی نہیں سننا تھا. لگتا ہے جڑکاٹنے کے فیصلے اب ہراس مغرورکے لیے صادرہوچکے ہیں جواس ملک میں خود کوسیاست کاناخدا سمجھتا ہے. قضا وقدران سب کی جڑ کانے کا فیصلہ کرچکی ہےکہ اس مملکتِ‌ خدادا پاکستان نے اب اسے دورمیں داخل ہونا ہے جہاں امتِ مسلمہ کی سیادت اس کے ہاتھ میں ہوگی.