200ارب روپے سے پاکستان میں بجلی کی ٹرانسمیشن لائن بچھانے والی چینی کمپنی نے کام روک دیا کیونکہ۔۔۔ پاکستانیوں کے لئے انتہائی تشویشناک خبر آگئی

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) دہائیوں سے لوڈ شیڈنگ کے عذاب میں مبتلا پاکستانیوں کے لیے ایک اور انتہائی تشویشناک خبر آ گئی ہے کہ 2ارب ڈالر(تقریباً2کھرب روپے) کی لاگت سے پاکستان میں بجلی کی ٹرانسمیشن لائن بچھانے والی چینی کمپنی نے کام روک دیا ہے جس سے بجلی کی کمیابی کا مسئلہ سنگین ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ڈیلی ڈان کی رپورٹ کے مطابق یہ کمپنی لاہور سے مٹیاری تک 660کے وی ہائی وولٹیج ڈائریکٹ کرنٹ ٹرانسمیشن لائن بچھا رہی تھی۔ اس کے کام روکنے کی کئی وجوہات ہیں جن میں سے ایک کمپنی کے حکومت پاکستان کے ساتھ گردشی فنڈز کے حجم پر اختلافات ہیں۔

رپورٹ کے مطابق لاہور تا مٹیاری ٹرانسمیشن لائن پاک چائنہ اقتصادی راہداری منصوبے کا حصہ ہے اور پاکستان کا پہلا ڈائریکٹ کرنٹ کا منصوبہ ہے۔ یہ لائن 4ہزار میگا واٹ بجلی کی ترسیل کی صلاحیت رکھتی ہے۔پاک چائنہ اقتصادی راہداری کے تحت فیصل آباد تا پورٹ قاسم بھی ایک ایسی ہی ٹرانسمیشن لائن بچھائی جانی تھی تاہم حکومت نے فیصلہ کیا کہ پہلی لائن کی تکمیل تک وہ اس کمپنی کے ساتھ اگلی ٹرانسمیشن لائن کا معاہدہ نہیں کرے گی۔ذرائع کے مطابق کام روکے جانے کی بڑی وجوہات میں سے ایک پاورپلانٹ کی تعمیر میں تاخیر بھی ہے۔