پنجاب حکومت کے پاس آلودگی کا ڈیٹا نہ ہونے کے برابر

ایئر مانیٹرنگ سٹیشنز اور کامپیکٹ ایئر پوائنٹرز مطلوبہ نتائج نہ دے سکے۔ لاہور میں سٹیشن اور 6 شہروں میں لیبارٹریاں بند ہو گئیں۔
پاکستان میں فضائی آلودگی کا تناسب روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ اب اس نے خطرناک سموگ کی صورت اختیار کر لی ہے۔ ذرائع کے مطابق محکمہ تحفظ ماحول پنجاب نے فضائی آلودگی کیا مانیٹرنگ کرنے والے آلات پر گزشتہ 10 برسوں میں دو ارب 13 کروڑ روپے خرچ کر ڈالے ہیں۔
صورتحال یہ ہے کہ لاہور کے ٹاؤن ہال پر لگا جدید ترین جاپانی ائر کوالٹی مانیٹرنگ سٹیشن بھی اب ناکارہ ہو چکا ہے کیونکہ تکنیکی طور پر اس سے کوئی ڈیٹا نہیں مل رہا۔ اسی قسم کا ٹاؤن شپ میں بھی لگا سسٹم اب بند ہے۔
اس کے بعد فضائی آلودگی کی جانچ کیلئے لگائے کامپیکٹ ائر پوائنٹر بھی اب کاٹھ کباڑ بن گئے ہیں۔ اب صوبے بھر کے مختلف شہروں میں لگے 6 یونٹس پر انحصار کیا جا رہا ہے، جن کا ڈیٹا بھی مستند خیال نہیں کیا جا رہا۔
محکمہ تحفظ ماحول پنجاب کا کہنا ہے کہ ڈیٹا ہو گا فضائی آلودگی کے بارے میں پالیسی بنائی جا سکے گی۔ اس کے لئے جدید بنیادوں پر ڈیٹا کا حصول یقینی بنایا جائے گا۔