” جب میں پڑھتا تھا تو قاری صاحب میرے ساتھ زیادتی کرتے تھے، اس لیے میں نے ان بچوں کے ساتھ زیادتی کی اور پھر۔۔۔“ مدرسے کے استاد کا ایسا انکشاف کہ ہرشہری کانپ اٹھے

فیصل آباد( آن لائن ) چند روز قبل فیصل آباد میں مدرسے میں ہلاکت کے بعد بالائی منزل سے نیچے بچے کی لاش پھینک دی گئی تھی اور اب اس قتل کا مرکزی ملزم رضوان بھی پکڑاگیا جو کوئی اور نہیں بلکہ اسی بچے کا قاری تھا ۔ دوران حراست نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ایسے انکشافات کیے کہ آپ بھی کانپ اٹھیں گے ، ملزم نے انکشاف کیا کہ اسے بھی اپنے دو قاری بدفعلی کا نشانہ بناچکے ہیں، وہ حفظ قرآن کے بعد اب اسی مدرسے میں معلم کی خدمات سرانجام دے رہا ہے ، ایک بچے کو اس سے پہلے بھی بدفعلی کے بعد قتل کرچکا ہے لیکن پکڑے نہ جانے پر چھ ماہ بعد ایک مرتبہ پھر وہی شرمناک حرکت کی ، رات دس بجے سوئے ہوئے بچے کو اٹھایا، چھت پر لے جا کر بدفعلی کی اور قتل کرکے نیچے گلی میں پھینک دیا۔

ملزم نے بتایاکہ” پانچ چھ ماہ پہلے آٹھ سالہ بچے کو لے کر گیا تھا، باہر چیز کھلائی اور رات کو دس بجے کالونی میں لے گیا تھا، پہلی گلی میں پلاٹ کے اندر زیادتی کی اورگلادبا کر قتل کردیا، سامنے فیکٹری سے بورا لے کر اس کے اندر ڈالا اور کچرے کے ڈھیرپر پھینک دیا، آدھی لاش بورے کے اندر اور آدھی باہر تھی ، پھینک کر مدرسے میں آگیا۔۔۔حالیہ واردات میں سوئے ہوئے تھے اور پھر لڑکے کوا ٹھا کر چھت پر لے گیا اوربدفعلی کے بعد گھر بتانے کے ڈر سے مارڈالا، تین چار سال سے اس مدرسے میں ہوں ، میں نے صرف دو لڑکوں کے ساتھ بدفعلی کی لیکن قاری صاحب ہمارے ساتھ کرتے رہے ، قاری عمران اور قاری اسلم دونوں ایسے تھے ، اب ایک یہیں ہے اور ایک ملتان شفٹ ہوگئے، جان سے مارے جانے کے ڈر کی وجہ سے میں خاموش رہا، عمران صاحب نے دو دفعہ اور قاری اسلم نے چھ دفعہ بدفعلی کی “۔