گرم انڈے ۔۔۔غریب بچہ ۔۔۔ جنید صفدر اور مکافات عمل ۔۔۔۔پڑھیے ایک آئینہ دکھا دینے والی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) تازہ ترین خبر یہ ہے کہ نااہل وزیر اعظم میاں نواز شریف کو پاکستان کا عدالتی نظام غلط اور غیر منصفانہ نظر آنے لگا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کے عدالتی نظام میں اصلاح کی جائے ۔۔۔۔ مسلم لیگ (ن) کے ایک باغی کارکن ملک الطاف حسین اعوان اپنی ایک خصوصی تحریر میں میاں نواز شریف کو مخاطب کرکے پوچھتے ہیں ۔۔۔۔۔میاں صاحب : تمھارے چالیس سالہ چھ بچوں اور دو بیویوں والے ببلو کی کرسی پر آرام سے بیٹھے ھوئے تصویر سامنے آئی

تو تمھارے بین نہیں رک رھے تھے۔ لاہور کی گلیوں میں گرم انڈے بیچنے والے اس بچے کو ایک وقت کی روٹی کے لئے جس ماں نے آدھی آدھی رات تک اپنی ممتا سے دور رکھا کبھی اس ماں کا درد محسوس کرنے کی کوشش کی یقیناً نہیں ورنہ تم ایک رات سکون سے نہیں سکتے ۔ حکمرانو ایسے کمسن بچوں سے ان کا بچپن چھیننے پر کبھی تمیھں کچھ شرم محسوس ھوتی ھے ؟ جب ماڈل ٹاون جیسے ظلم کی ایف آئی آر تک درج کرانے کے لئے مدعیان کو مہینوں دھرنا دے کر اور آرمی چیف کے سامنے فریاد کرنی پڑے تو یہ نظام بالکل ٹھیک ۔ جب قوم کے بچوں سے دو وقت کی روٹی تک چھین کے تمھارے جیسوں نے آٹھ آٹھ سو کروڑ کے گھر بنا لئے ھوں تب یہ نظام تمھیں سب سے ذیآدہ بہتر محسوس ھو ۔ جب تم اور زرداری جیسوں کو یہ نظام این آر او دے دے تب تمھیں ھر طرف انصاف ھی انصاف نظر آئے ۔ جب اسحآق ڈار جیسے نوسرباز کے بیان حلفی کے باوجود نیب تمھیں سلیوٹ کرے تو تمھیں یہ ادارے آنصاف کے لئے ھر دم کوشاں نظر آئیں۔ مگر یک دم تمھیں صرف عدالت میں پروٹوکول کے

ساتھ پیش ھوتے ھی اس نظام کو ٹھیک کرنا یاد آ جائے تو میاں صاحب دال میں کچھ کالا تو ہے ۔۔۔کوئی تم سے پوچھے کہ پچھلے پینتیس سال سے تم نے اس نظام کو ٹھیک کرنے کی کتنی کوشش کی؟ سچ تویہ ھے کہ تم نے ھی اس نظام کو گندا کیا ۔ میاں صاحب یہ مکافات عمل ھے ۔ تم نے اس ملک کے عوام کو اپنا خاندانی غلام بنانے کے لئے جس نظام کا تہس نہس کیا آج خود اسی گڑھے میں اپنے خاندان سمیت گر گئے ھو۔ اسے قدرت کا انتقام کہتے ھیں ۔ تم اسے اب کیا ٹھیک کرو گے ۔ کرنے والے خود ھی کر لیں گے۔ حکمرانو تمھارے چالیس سالہ چھ بچوں اور دو بیویوں والے ببلو کی کرسی پر آرام سے بیٹھے ھوئے تصویر لوگوں نے دیکھ لی تو تمھارے بین نہیں رک رھے تھے۔ اس بچے کو ایک وقت کی روٹی کے لئے جس ماں نے آدھی آدھی رات تک اپنی ممتا سے دور رکھا کبھی اس ماں کا درد محسوس کرنے کی کوشش کی یقیناً نہیں ورنہ تم ایک رات سکون سے نہیں سکتے ۔ حکمرانو ایسے کمسن بچوں سے ان کا بچپن چھننے پر کبھی تمیھں کچھ شرم محسوس ھوتی ھے ؟