حاملہ ما ں فو ت ہو گئی تھی مگر بچہ قبر میں کھیل رہا تھا

حضرت سیدنا زید بن اسلم رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:میرے والد نے بتایا کہ ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ لوگو ں کے درمیان جلوہ فرما تھے. کہ اچانک ہمارے قریب سے ایک شخص گزرا جس نے اپنے بچے کو کندھوں پر بٹھا رکھا تھا .

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جب ان باپ بیٹے کو دیکھا تو فرمایا :”جتنی مشابہت ان دونوں میں پائی جارہی ہے میں نے آج تک ایسی مشابہت اور کسی میں نہیں دیکھی .”یہ سن کر اس شخص نے عرض کی : ”اے امیر المؤمنین رضی اللہ تعالٰی عنہ!میرے اس بچے کا واقعہ بہت عجیب وغریب ہے، اس کی ماں کے فوت ہونے کے بعد اس کی ولادت ہوئی ہے. ” یہ سن کر آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا :” پورا واقعہ بیان کرو.” وہ شخص عرض کرنے لگا: ”اے امیر المؤمنین رضی اللہ تعالٰی عنہ !میں جہاد کے لئے جانے لگا تو اس کی والدہ حاملہ تھی،میں نے جاتےوقت دعا کی :”اےاللہ عزوجل! میری زوجہ کے پیٹ میں جو حمل ہے میں اُسے تیرے حوالے کرتا ہوں، تُوہی اس کی حفاظت فرمانا. ”یہ دعاکر کے میں جہاد کے لئے روانہ ہوا جب جہاد سے واپس آیا تو مجھے بتایا گیا کہ میری زوجہ کا انتقال ہوگیا ہے ،مجھے بہت افسوس ہوا .ایک رات میں نے اپنے چچازاد بھائی سے کہا :”مجھے میری بیوی کی قبر پر لے چلو.”چنا نچہ ہم جنت البقیع میں پہنچے اور اس نے میری بیوی کی قبر کی نشاندہی کی. جب ہم وہاں پہنچے تو دیکھا کہ قبر سے روشنی کی کرنیں باہر آرہی ہیں. میں نے اپنے چچازاد بھائی سے کہا :” یہ رو شنی کیسی ہے؟”اس نے جواب دیا:

”اس قبر سے ہر رات اسی طر ح روشنی ظاہر ہوتی ہے ،نہ جانے اس میں کیا راز ہے؟’‘ جب میں نے یہ سنا تو ارادہ کیا کہ میں ضرور اس قبر کو کھود کر دیکھوں گا .” چنانچہ میں نے پھاؤڑا منگوایا ابھی قبر کھود نے کا ارادہ ہی کیا تھا کہ قبر خود بخود کھل گئی. جب میں نے اس میں جھانکا تو اللہ عزوجل کی قدرت کا کرشمہ نظر آیا کہ یہ میرا بچہ اپنی ماں کی گود میں بیٹھا کھیل رہا تھاجب میں قبر میں اُتر ا تو کسی ندا دینے والے نے ندادی :”تُو نے جو امانت اللہ عزوجل کے پا س رکھی تھی وہ تجھے واپس کی جاتی ہے ، جا! اپنے بچے کو لے جا، اگر تُو اس کی ماں کو بھی اللہ عزوجل کے سپرد کر جاتا تو اسے بھی صحیح وسلامت پاتا .”پس میں نے اپنے بچے کو اٹھایا اور قبر سے باہر نکالا جیسے ہی میں قبر سے باہر نکلا قبر پہلے کی طرح دوبارہ بند ہو گئی . . .(صحابی رسول صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم و رضی اللہ تعالٰی عنہ نےاپنا بیٹا اللہ عزوجل کے سپرد کیا تواللہ عزوجل نے اسے قبر میں بھی زندہ رکھا.