اللہ پاکستان سے یہ کام لینا چاہتا ہے

راقم نے بار ہا دنیا کا نقشہ ملاحظہ کیا ہے ۔نقشے میں پاکستان اور بھارت کے حجم میں وہی فرق ہے جو شیر اور ہاتھی میں ہوتا ہے اور شیر تو پھر شیرہی ہوتا ہے۔ بڑے بڑے صنعت کار ہیں ۔دنیا میں جنھوں نے بڑی بڑی صناعی کی ہیں لیکن جو صناعی ربّ کریم کرتا ہے اس کا کوئی ثانی نہیں۔ پاکستان کا بننا ایک خدائی فیصلہ ہے ۔یہ صناعی میرے رب نے کی ہے۔ پاکستان بنا کر اللہ تعالیٰ نے کفار اور مسلمانوں کو چھانٹ دیا ہے۔ ہے نا حیرت کی بات ۔

آپ دوبارہ دنیا کے نقشے پر نظر ثانی کریں۔ آپ دیکھتے ہیں ۔ مغرب میں سارے مسلم ممالک ہیں اورمشرق میں سارے غیر مسلم ممالک سوائے بنگلہ دیش کے ۔فرض کریں، اگر پاکستان کا وجود نہ ہوتا (نعوذ اللہ ) تو بھارت ڈائریکٹ افغانستان اور ایران کو ٹچ کرتا جو میرے رب کو منظور نہیں تھا ۔اکیلا شیر (پاکستان) یہود و ہنود کے آگے سینہ تانے کھڑا ہے۔بھارت ،پاکستان اور ایران ایک ہی ساحلی پٹی پر واقع ہیں یہی پٹی ایران سے آگے نکل کے اوپر کی طرف Uکی شکل میں ٹرن کرتی ہوئی پاکستان کے بالکل سامنے آکر پانی کی ایک وسیع خلیج بناتی ہے۔ اس پٹی پر صرف اسلامی ممالک ہی واقع ہیں جن کو خلیجی ممالک کہتے ہیں جب کہ بھارت کے حصے میں اسی ساحلی پٹی کا حصہ ہونے کے باوجودکھلا سمندر آتا ہے ۔کوئی بھی مسلمان ملک بھارت کو ٹچ نہیں کرتا۔کیا یہ میرے رب کی صناعی نہیں؟اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔ آپ لوگ بھی اپنے ایمان حاضر ناظر رکھ کہ مشاہدہ کریں میرے کچھ مشاہدات بھی ملاحظہ کریں۔ یہود و ہنود میں حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے ۔

یہودی اور سود خور بنیا ضرب المثل ہیں ۔
،یہودی اور ہندودونوں ہی اپنی مکاری اورسازش کیلئے بھی مشہور ہیں ۔ہندوؤ ں میں برہمن خود کو اعلیٰ سمجھتے ہیں اور باقی انسانوں بشمول ہندوؤں تک کو رذیل حتیٰ کہ جانوروں سے بھی بدتر سمجھتے ہیں اور ان کو چھونا تک حرام سمجھتے ہیں یہی حال یہودیوں کا ہے اور جو خود کو اعلیٰ اور برگزیدہ سمجھتے ہیں اور باقی انسانوں کو “گوئم” یعنی انسان اور جانور کی درمیانی مخلوق قرار دیتے ہیں ۔ یہاں کچھ لوگوں کا یہ دعویٰ بھی سچ ہی لگتا ہے کہ ہندوؤں میں برہمن دراصل مصر سے آئے ہوئے یہودی ہیں۔ وہ اس کیلئے مختلف دلائل دیتے ہیں ۔آپ نوٹ کیجئے کہ آج تک برہمنوں کو “مصر جی” بھی کہا جاتا ہے ۔یہودی مسجد اقصیٰ کو شہید کر کے ہیکل سلیمانی کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں جبکہ یہودی بابری مسجد کو شہید کر کے رام مندر بنانا چاہتے ہیں۔ہندوؤں نے کشمیر پر ناجائز قبضہ جما رکھا ہے جبکہ یہودیوں نے فلسطین پر ناجائز قبضہ جما رکھا ہے ۔اہل یہود نے گائے کا بچھڑا بنایا تھا اور اس کے آگے جھک گئے تھے ۔ہندو گائے کو مقدس سمجھتے ہیں اور اس کے آگے جھکتے ہیں ۔
پاکستان کے معاملے میں ان کی مماثلت اور بھی حیرت انگیز ہو جاتی ہے ۔یہودی گریٹر اسرائیل بنانا چاہتے ہیں اور پاکستان کو سب سے بڑی رکاوٹ خیال کرتے ہیں ۔جبکہ ہندو اکھنڈ بھارت بنانا چاہتے ہیں اور پاکستان کوہی اس میں بڑی رکاوٹ خیال کرتے ہیں ۔کچھ لوگ پاکستان کو مدینہ کے بعد دوسری اسلامی نظریاتی ریاست قرار دیتے ہیں۔ اگریہ درست مان لیا جائے تب معاملہ مزید دلچسپ ہو جاتا ہے مدینے کو ایک طرف یہودیوں سے خطرہ تھا اور دوسری طرف مکہ کے مشرکوں سے ۔پاکستان کو بھی ایک طرف یہودیوں سے خطرہ ہے یعنی اسرائیل کی ریاست سے اور دوسری طرف ہندوؤں سے جو کہ مشرکین کی سب سے بڑی ریاست ہے اس وقت۔مدینے کے خلاف بھی مشرکین اور یہودیوں کا اتحاد ہوا تھا جبکہ پاکستان کے خلاف بھی یہودیوں اور ہندوؤں (مشرکین) کا اتحاد ہے جس سے ہم واقف ہیں ۔اب اگر ہم اس معاملے میں غزوہ ہند کی مشہورحدیث شامل کرتے ہیں تو پاکستان بیک وقت ہندو(مشرکین) اور یہودیوں سے جنگ درپیش ہو گی اور جس طرح مدینے کی ریاست نے ان دونوں طاقتوں پر غلبہ پالینے کے بعد آدھی دنیا پر غلبہ پالیا تھا اسی طرح جب اللہ پاکستان کے ہاتھوں انڈیا اور اسرائیل کا خاتمہ فرمائے گا تو اسلام کو دنیا پر غالب ہونے سے کوئی طاقت نہیں روک سکے گی۔اور یاد رکھیے غزوہ ہند والی حدیث پاکستان کے علاوہ کوئی اور اسلامی ملک پورا نہیں اُترتا کیونکہ پاکستان دنیا کے 56اسلامی ممالک میں واحد ملک ہے جس کی بیک وقت انڈیا اور اسرائیل دونوں سے دشمنی ہے ۔باقی اسلامی ملکوں کا معاملہ ایسا نہیں ہے ۔پاکستان کو ہی اللہ نے بہادر پاک فوج نہایت اعلیٰ نیوکلیئر مزائل پروگرام اور جذبہ جہاد سے سرشار مجاہدین کی بہت بڑی قوت سے لیس کر رکھا ہے ۔
مجھے تو اس ساری صورت حال میں بہت سی باتیں عجیب اور دلچسپ لگتی ہیں آپ کا کیا خیال ہے ؟؟؟ شائد اللہ ہم سے کو ئی خاص کام لینے والا ہے۔