این ٹی ایس کو نئے ٹیسٹ لینے سے روک دیا گیا

سندھ ہائی کورٹ نے نیشنل ٹیسٹنگ سروس(این ٹی ایس) کو اعلیٰ تعلیمی اداروں اور سرکاری ملازمتوں کے لیے امیدواروں سے ٹیسٹ لینے سے روکنے کا حکم دے دیا۔
سندھ ہائی کورٹ میں میڈیکل یونیورسٹیز میں داخلے کے لیے این ٹی ایس ٹیسٹ کا پرچہ آؤٹ ہونے کے معاملے پر درخواست کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران عدالت نے این ٹی ایس کے نئے ٹیسٹ لینے سے روکنے کا حکم جاری کردیا ہے۔
عدالت کا کہنا ہے کہ جب تک کیس کا فیصلہ نہیں ہوجاتا حکومت این ٹی ایس کے ٹیسٹ کے لیے نئی تاریخ کا اعلان نہ کرے۔ این ٹی ایس کے خلاف دائردرخواست میں کہا گیا تھاکہ پرچہ شروع ہونے سے قبل آؤٹ ہوچکا تھا لہٰذا این ٹی ایس کے ادارے کو حتمی نتیجہ جاری کرنے سے روکا جائے۔
دوسری جانب وکیل این ٹی ایس کا کہنا ہے کہ کسی بھی طالب علم کی طرف سے این ٹی ایس کا پرچہ آوٹ ہونے کی شکایت موصول نہیں ہوئی، این ٹی ایس کو سیاستدانوں کی جانب سے متنازعہ بنایا جارہا ہے۔ این ٹی ایس اتھارٹی نے معاملے کی تحقیقات کی تھیں تاہم کسی کی غفلت سامنے نہیں آئی ہے۔
فریقین نے این ٹی ایس ٹیسٹ کے معاملے پر تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنے پرمزید مہلت مانگ لی ہے۔ سیکرٹری صحت کا کہنا ہے کہ دسمبر کے پہلے ہفتے تک تحقیقات مکمل کرلی جائیں گی۔ کیس کی مزید سماعت 29 نومبر تک ملتوی کردی گئی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے این ٹی ایس پرمہنگی فیسوں، پرچہ آؤٹ کرنے، کرپشن اور طلبہ کے مفادات کو نقصان پہنچانے کے کیسیز شامل ہیں۔