ہندوستان کو ہندو راشٹریہ بنانے کی تحریک میں تیزی…تحریر : محمد شاہد محمود

مودی حکومت کے دور اقتدار میں تعلیمی نظام کو بھگوا رنگ میں رنگنے کیلئے تیزی سے کام جاری ہے۔ اسی مقصد کے پیش نظر وزیر تعلیم سمرتی ایرانی کو بے دخل کر دیا گیا اور ان کی جگہ نئے وزیر تعلیم پرکاش جاوڈ یکر نے تعلیمی پالیسی کی تشکیل کیلئے سنگھ پریوار کے نام نہاد علمی مفکرین سے سفارشات تیار کروائی ہیں کہ پرائمری و ہائی سکول کی سطح پر سنگھ پریوار کے نظریات کی تعلیم کیسے دی جا سکتی ہے۔ نئی تعلیمی پالیسی کی حب الوطنی کی تعریف وضع کرنا اور ہریانہ، راجستھان، مدھیہ پردیش میں تعلیمی نصاب کے بھگوا کرن کو سامنے رکھا جا رہا ہے۔ ہریانہ کے وزیراعلیٰ نے تعلیمی نصاب میں تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی نصاب میں آر ایس ایس کے متعدد رہنمائوں شیاما پرساد مکھرجی، ویر ساورکر، اودھے شنکر کے ساتھ ساتھ گاولکر کے نظریات اور بنچ آف تھاٹ کے اسباق شامل کئے گئے ہیں۔راجستھان کی بی جے پی زیر قیادت ریاستی حکومت کے اعلان کے مطابق اول تا بارہویں جماعت کی تمام نصابی کتابوں کی تشکیل نو کر چکی ہے تاکہ تعلیم کے ذریعہ بھارتی وچاردھارا سنسکرتی کی تعلیم دی جائے تاکہ تعلیمی اداروں کا بھی شدھی کرن ہو سکے۔ الغرض ہریانہ، راجستھان، گجرات اور مدھیہ پردیش کے پورے تعلیمی نصاب کے بھگوا کرن اور ان کے نفاذ کو دیکھیں تو اس کے نکات کچھ اس طرح ہیں۔

1۔ تہذیب کو بھارتی وچار دھارا کا رنگ دینا
2۔ ودیشی حملہ آوروں اور حکمرانوں کی تہذیب و عقائد کا شدھی کرن
3۔ مغل حکمرانوں کے عقائد کیخلاف نفرت پھیلانا
4۔ ہریانہ، مدھیہ پردیش اور راجستھان کی آٹھویں جماعت کی نصابی کتاب کے باب نمبر 13 میں صاف صاف لکھا ہے کہ اورنگزیب ہندوئوں سے نفرت کرتا تھا۔
5۔ مغل حکمرانوں نے مندر توڑ کر مسجدیں بنوائیں۔
6۔ ساتویں اور آٹھویں جماعت کی نصابی کتب کے اسی باب 13 تا 15 میں محمود غزنوی اور علائو الدین خلجی کے مندر توڑنے کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔
7۔ اس تعلیمی نصاب میں جگہ جگہ مغل حکمرانوں کیلئے ”ودیشی آکرمن کاری” یعنی غیرملکی حملہ آور کے جملے استعمال کئے گئے ہیں۔

لہٰذا مذکورہ نکات سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ہندوستان کو ہندو راشٹریہ بنانے کی تحریک طلباء میں پیدا کی جا رہی ہے۔ ایسا ہندو راشٹر جس میں برہمنوں، اعلیٰ ہندو طبقات کو بالادستی حاصل ہو اور باقی طبقات دوسرے درجے کے شہری کی حیثیت سے ان کی بالادستی کو قبول کر لیں۔ تعلیمی اداروں میں یوگا کے ساتھ ساتھ بھگوت گیتا کی تعلیم، سوریہ نمسکار اور ہفتے کے آخری دن، بال سبھا اور بال پرارتھنا کو بھی لازمی قرار دیا گیا ہے جس میں مخصوص منتر پڑھائے جاتے ہیں، کھانے کے وقفے میں ‘بھوجن منتراس’ کا چاپ اور ہر ضلع کے آر ایس ایس کے تربیتی کیمپوں میں بھی یوگا کیمپ منعقد کئے جاتے ہیں۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق ہندوستان بھر کے پسماندہ طبقوں کے بچوں اور خصوصی طور پر دور دراز کے غریب مسلم طلباء کو ان میں شریک کروایا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ بھارت کے مختلف علاقوں میں آر ایس ایس کے نرسری ادارے ششو مندر، سیوا بھارتی کا قیام اور اسے ریاستوں و حکومتوں سے باقاعدہ منظور دلوائی گئی ہے۔ ان نرسری و پرائمری ششو مندروں میں آر ایس ایس کے پرچارکوں کی بطور اساتذہ بھرتی کی جا رہی ہے۔ آر ایس ایس کی تعلیمی تنظیم ”ودیا بھارتی” اور ”بھارتی جن سیوا سنتھان”، بھارتیہ شکشا سنتھان کور یہ پروجیکٹ دیا گیا ہے کہ ملک بھر میں پانچ ہزار سے زائد ایسے تعلیمی ادارے قائم کرے۔ سنگھ پریوار کی تعلیمی تنظیموں کو ہدف دیا گیا ہے کہ پورے بھارت میں اکالی دل اور ودیا دل جیسے تعلیمی اداروں کا قیام عمل میں لائیں۔ واضح رہے کہ ودیا بھارتی کے تحت ہندوستان میں 43ہزار کے لگ بھگ ایسے فرقہ پرست ادارے پہلے ہی ہندوتوا کی تعلیم دینے میں سرگرم ہیں۔ ان تعلیمی اداروں میں طلباء کو چاہے وہ مسلم ہو یا ہندو انہیں کٹر ہندو اور آر ایس ایس کے نظریات پڑھائے جارہے ہیں۔

علاوہ ازیں بھارت کے تمام شہروں، دیہاتوں کے سرکاری تعلیمی اداروں میں بالاگو کولم کلاسز( بچوں کے مکتب) کے تحت گوگل درشن قائم کئے گئے ہیں۔ جس کا بنیادی مقصد طلباء کو آر ایس ایس سے قریب کرنا ہے تاکہ طلباء پراجین سنسکرتی رسم و رواج، ہندو دھرم کے عقائد کے بارے میں جان لیں۔ ملک گیر سطح پر بالاگو کولم کلاسز این جی اوز کے تحت چلائی جارہی ہیں۔ منصوبے کے مطابق بی جے پی حکومتوں والی ریاستوں میں محکمہ تعلیم کے تعاون سے پرائمری تا ہائی سکولوں میں اسے شروع کیا گیا اور دیگر ریاستوں میں بھی متعلقہ ریاستی محکمہ تعلیم کے تعاون سے آگے بڑھایا جارہا ہے۔

گھنائونے منصوبے کے مطابق ابتدائی مرحلے کے طور پر دارالحکومت دہلی کے تعلیمی اداروں میں 900 کے لگ بھگ ”گوگل درشن” کا قیام عمل میں لایا گیا ہے اور ان کے تخت سوریہ نمسکار’وندے ماترم اور گیتا کا پاٹ پڑھایا جارہا ہے۔ ہندو ریتی رسم و رواج سے جوڑ کر دیگر طبقوں کا ”شدھی کرن” بھی کیا جا رہا ہے۔ ہندی’ مراٹھی و علاقائی زبانوں کے ساتھ انگریزی کے طلباء کی بھی گوگل درشن پروگرام میں شرکت لازمی قرار دی گئی ہے۔ اس ضمن میں اساتذہ کی ذہنی تربیت کے لئے بھی مختلف پروگراموں کا انعقاد عمل میں لایا گیا ہے۔ دہلی میں جاری گوگل درشن کے اساتذہ سے لے کر انتظام آر ایس ایس پرچارک اور سنگھ کے تربیت یافتہ استاد کر رہے ہیں۔ گوگل درشن میں تحریک طلباء کے لئے تعلیمی پیکیج اور تعلیمی اسکالر شپ کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ تعلیم کے بھگواکرن کے تحت طالب علموں کو نامور مندروں کا مطالعاتی دورہ بھی کروایا جاتا ہے۔ ہندو دھرم کی تحقیقات اور روحانی و مذہبی اعلیٰ شخصیات کے بارے میں بھی پڑھایا جاتا ہے۔ سنسکرت زبان کے ساتھ مذہبی گرنتھ بھی طلباء کو یاد کروائے جاتے ہیں۔ یوگا کو جدید ورزش سے جوڑتے ہوئے انہیں مذہبی عبا دات کی تعلیم دی جارہی ہے۔

گوگل درشن میں تمام مذہب کے طلباء کی شرکت کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ان کلاسز میں پورانا، اشلوک، سنسکرت، کہانیاں، ہندو لڑائیاں اور بیرونی اقوام کی ہندوستان پر یلغار اور تسلط جیسے عنوانات بھی پڑھائے جا رہے ہیں۔ سکول کے بچوں میں ہندو اقدار کو پروان چڑھانے اور تاریخ سے واقف کروانے کے لئے آر ایس ایس نے وسیع پیمانہ پر منصوبہ بندی کی ہے۔ منصوبہ کے مطابق پانچ ہزار سے زائد مکتب قائم کئے گئے ہیں۔ آر ایس ایس نے بی جے پی کی سرپرستی میں 18 سال سے کم عمر طالب علموں میں ہندو انتہا پسندی، قومیت کے علاوہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ان کی ذہن سازی کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔ دراصل بالاگو کولم کا آغاز سب سے پہلے 1975ء میںکیرالہ میں ہوا تھا۔ 1981ء میں اس کا باضابطہ رجسٹریشن کروایا گیا تھا۔ اس کی تجدید کرتے ہوئے سرگرمیوں کو بڑے پیمانے پر فروغ دینے کے لئے پرچارکوں، گروئوں اور پنڈتوں کو احکامات دئیے گئے ہیں۔ یہ کام تاریخ اور لسانیات کے اساتذہ کے سپرد کیا گیا ہے۔ بچوں کو ہندو طریقۂ زندگی اور ہندو نظام حیات سکھانے کے ساتھ ساتھ ہندو توا کی سربلندی اور مسلمانوں کے خلاف من گھڑت تاریخی واقعات پڑھائے جاتے ہیں۔ ممودی سرکار کے آتے ہی بھارت کے سکولوں کا بھگوا کرن کا مذموم سلسلہ ہی شروع نہیں ہوا بلکہ تعلیمی نصاب میں تبدیلی کا عمل بھی باقاعدہ پلاننگ کے تحت جاری ہے اور اسی منصوبے کے مطابق دہلی کے تعلیمی اداروں میں ممبر سازی کی مہم چلائی جا رہی ہے۔

طالب علموں سمیت اساتذہ پر بی جے پی کی رکنیت قبول کرنے کے لئے دبائو ڈالا جا رہا ہے وگرنہ اساتذہ کی تنخواہیں روک دی جائیں گی۔ اساتذہ اور طلباء کو ”واٹس ایپ” پر پیغام ارسال کیا گیا تھا اور انہیں ممبر شپ کے لئے ایک ٹول فری نمبر بھی دیا گیا تھا۔ دریں اثناء روز بروز بھارت کے تعلیمی اداروں میں مخصوص سوچ اور فکر کو لاگو کرنے کی کوششیں بڑھ رہی ہیں، کہیں مسلمان طلباء و طالبات کو نماز ادا کرنے سے روکا جاتا ہے تو کہیں انہیں حجاب استعمال کرنے اور داڑھی رکھنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ یہ مکمل طور پر امتیاز سلوک ہے اور اس کا چلن مودی حکومت میں عام ہوتا جا رہا ہے۔ یہاں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو تعلیمی اداروں میں داخلے سے روکا جا رہا ہے۔ یہ رویہ بھارتی آئین اور دستور کے منافی ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ حکومتیں بھی اس سلسلے میں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ ریاستی حکومتیں تعلیمی اداروں کی خودمختاری کے حوالے دیتے ہوئے خود کو بری الذمہ قرار دینے کی کوششں کر رہی ہیں۔

تعلیمی اداروں کو خودمختاری کے نام پر مذہبی عقائد میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور نہ ہی اس بات کی اجازت دی جا سکتی ہے کہ وہ آئین اور دستور کی خلاف ورزیاں کریں۔ اس طرح کے جو اعتراضات ہو رہے ہیں وہ دراصل ایک مخصوص اور فرقہ پرستانہ سوچ کا نتیجہ ہیں۔ اسی سوچ کو تعلیمی اداروں میں عام کرنے کے لئے سنگھ پریوار اور اس کی تنظیمیں کوشش کر رہی ہیں اور اب کوشش میں شدت پیدا ہو گئی ہے یہ ہندو فرقہ پرست تنظیمیں چاہتی ہیں کہ تعلیمی اداروں میں بھی فرقہ پرستی کا ماحول پیدا ہو اور یہاں بھی طلباء کے گروپوں کے مابین امتیاز پر مبنی سلوک کرتے ہوئے انہیں ایک دوسرے سے دورکر دیا جائے۔ ان تنظیموں کو اندازہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔ یہاں طلباء برادری میں ابھی ذات پات کا رنگ غالب نہیں آیا اور یہی حقیقت ان انتہا پسند تنظیموں کو ہضم نہیں ہو رہی۔ وہ چاہتی ہیں کہ اس صورتحال کو بدلا جا سکے تاکہ انہیں اپنے عزائم اور منصوبوں کو پورا کرنے کا موقع مل سکے اور اس کیلئے وہ کسی بھی موقع کو گنوانے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ بھارتی دستور میں ہر شہری کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی کا لباس زیب تن کرے، ہر مذہب کے ماننے والوں کو اپنا مذہبی تشخص برقرار رکھنے کی بھی آزادی دی گئی ہے۔

اس کے باوجود تعلیمی ادارورں پر بھگوا رنگ چڑھتا جا رہا ہے جو ایک خطرناک رجحان ہے۔ آج بھارتی تعلیمی ادارورں میں متعصب ذہنیت کی وجہ سے ایسے قوانین بنائے جا رہے ہیں جن کے نتیجہ میں دستور ہند کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ دستور میں جو گنجائش دی گئی ہے اور جو آزادی اور اجازت ہے اس کو ختم کیا جا رہا ہے۔ ریاستی حکومتیں خود بھی ایسی کوششوں کی اپنی خاموشی سے حوصلہ افزائی کر رہی ہیں۔ سنگھ پریوار میں تعلیمی نظام میں تبدیلی کیلئے ایک کمیشن شکشا نیتی آیوگ کے نام سے بنایا ہے۔ اس غیرسرکاری کمیشن کا کام موجودہ تعلیمی نظام کا جائزہ لینے کے بعد حکومت کور اپنی تجاویز پیش کرنا ہے۔ اس کمیشن کا سربراہ دیناناتھ بترا کو بنایا گیا ہے جو سنگھ پریوار کا سب سے بڑا پرچارک ہے۔

بترا تاریخ کے نام پر سادھو، سنتوں کے قصے اور افسانے سنانے میں ماہر ہے۔ وہ سنگھ کا ہی نصاب تعلیم کا نفاذ چاہتے ہیں، بترا کی ذہنیت سمجھنے کیلئے ہندوستان ٹائمز میں شائع یہ بیان ہی کافی ہے کہ”ہندوستان میں انسانوں کے ذریعے کئی تبدیلیاں آئی ہیں لیکن اب جو تبدیلیاں آ رہی ہیں وہ بہت خطرناک ہیں۔ ایک بھیانک اندرونی دشمن جو وطن پرست ہونے کا دعویدار ہے وہ بترا ہے”۔ آر ایس ایس کے سربراہ گوالکر نے اقلیتوں کو سب سے بڑا مسئلہ بتایا تھا اور اب ایسی کتب میں انہی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسی طرح آزادی کی جنگ کو اس طرح پیش کیا جا رہا ہے گویا وہ مسلمانوں کے خلاف جنگ تھی۔ برصغیر کی تقسیم کا ذمہ دار مسلمانوں کو بتایا گیا ہے۔ اسی طرح گاندھی کے قتل میں سنگھ کے کسی کردار کا ذکر تک نہیں ہے اور ویداس، اپنشید اور قدیم ہندوستانی تاریخ کو آٹھویں، نویں اور دسویں کے نصاب میں شامل کیا جا رہا ہے اور تاریخ سے لیکر جغرافیہ، سائنس تک میں تبدیلی کی مذموم کوشش کی جا رہی ہے۔