این ٹی ایس ٹیسٹ دوبارہ لینے سے متعلق وزیراعلیٰ سندھ کا نوٹیفیکشن کالعدم قرار

سندھ ہائیکورٹ نے میڈیکل کالجوں میں داخلے کیلئے لیے جانے والے نیشنل ٹیسٹنگ سروس (این ٹی ایس) کے امتحانات کے نتائج برقرار رکھنے کا حکم سناتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ کا دوبارہ امتحان لینے سے متعلق نوٹیفیکشن کالعدم قرار دے دیا۔
واضح رہے کہ رواں برس اکتوبر میں میڈیکل یونیورسٹیوں میں داخلے کے لیے ہونے والے این ٹی ایس ٹیسٹ سے قبل پرچہ آؤٹ ہونے کی رپورٹس سامنے آئی تھیں، جس پر سندھ حکومت نے تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے این ٹی ایس ٹیسٹ کو منسوخ کردیا تھا اور وزیراعلیٰ سندھ نے دوبارہ امتحان لینے سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کردیا تھا۔
رواں برس سندھ میں پہلی بار بیک وقت 5 شہروں کراچی، حیدرآباد، سکھر، نوابشاہ اور لاڑکانہ میں داخلہ ٹیسٹ لیے گئے تھے جس میں صوبے بھر سے 21 ہزار سے زائد طلبا و طالبات نے شرکت کی تھی۔
ٹیسٹ کی منسوخی کے اعلان کے بعد میڈیکل کے طلبہ نے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا، جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ انہوں نے این ٹی ایس ٹیسٹ میرٹ پر دیا تھا، لہذا پیپر منسوخ کرنا غیر قانونی ہے۔
مزید جانئے: این ٹی ایس کو نئے ٹیسٹ لینے سے روک دیا گیا
جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں سندھ ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے آج مذکورہ درخواستوں پر سماعت کی۔
سماعت کے بعد سندھ ہائیکورٹ نے درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے این ٹی ایس ٹیسٹ کے نتائج کو برقرار رکھنے کا حکم سنایا جبکہ دوبارہ امتحان لینے سے متعلق نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیا گیا۔
سندھ ہائیکورٹ نے عدالتی حکم پر عملدرآمد کے لیے 10 دن کی مہلت دیتے ہوئے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگر کوئی فریق چاہے تو سپریم کورٹ سے رجوع کرسکتا ہے۔
سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے پر این ٹی ایس کے طلبہ نے خوشی کا اظہار کیا۔
دوسری جانب سیکریٹری ہیلتھ فضل اللہ پیچوہو نے بھی اسے اچھا فیصلہ قرار دیا اور کہا کہ آئندہ کا لائحہ عمل اجلاس کے بعد طے کیا جائے گا کہ فیصلے کے خلاف اپیل کرنا ہے یا نہیں۔