پنجاب حکومت نے سانحہ ماڈل ٹاؤن رپورٹ جاری کردی

لاہور ( آن لائن) سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے حوالے سے جسٹس باقر نجفی رپورٹ پنجاب حکومت نے جاری کردی ہے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شہبازشریف کا حلفیہ بیان ہے کہ 17 جون کی صبح واقعہ کا ٹی وی سے پتہ چلا ،فائرنگ کس کے حکم سے ہوئی پولیس افسر بتانے کیلئے تیار نہیں،فائرنگ احکامات پر خاموشی سے پولیس تعاون کا اندازہ لگایا جاسکتاہے،صاف نظر آتاہے کہ تمام اہلکار ٹریبونل سے تعاون نہ کرنے پر متفق ہیں،پولیس کی خاموشی سے لگتاہے کہ ان کو ہر صورت کسی کے حکم کی تعمیل کرنا تھی۔

رپورٹ میں کہا گیاہے کہ رانا ثناءاللہ کی سربراہی میں اجلاس منعقد ہوا جس میں چیف سیکرٹری ، وزیر اعلیٰ کے سیکرٹری ، سیکرٹری داخلہ اور کمشنر لاہور سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ، اس اجلاس میں طاہرالقادری کے 23جون 2014کو راولپنڈی تا لاہور لانگ مارچ کے حوالے سے غور کیا ، اجلاس کے دوران رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ طاہر القادری کو مقاصد حاصل کرنے نہیں دیں گے، سانحہ ماڈل ٹاﺅن آپریشن کے فیصلے پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی رائے نہیں لی گئی ۔

جسٹس باقرنجفی کی رپورٹ 132 صفحات پرمشتمل ہے اور کمیشن نے ازخود تفتیش کی نہ کسی پرذمہ داری ڈالی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماڈل ٹاﺅن آپریشن کے فیصلے پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی رائے نہیں لی گئی، قانون کے مطابق کمیشن کوپولیس کے ذریعے تفتیش کرانے کاختیارحاصل تھامگر اس کے باوجود ٹربیونل کوکیس کی تہہ تک جانے کے لئے مکمل اختیارات نہیں دیئے گئے۔ پولیس افسران نے دانستہ طور پرٹربیونل سے معلومات چھپائیں،جبکہ پنجاب حکومت نے پولیس کوکمیشن کی رپورٹ مستردکرنے سے منع کیا۔ حقائق چھپانے پرپولیس کارویہ سچائی کودفن کرنے کے مترادف ہے۔دوران تحقیقات راناثنااللہ، ڈاکٹرتوقیراورشہبازشریف کے فون کاڈیٹاآئی ایس آئی نے د یا۔ اسپیشل برانچ،آئی بی اورآئی ایس آئی نے الگ الگ رپورٹ کمیشن کودی ۔ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے حوالے سے تحقیقات کے لئے ٹربیونل اپنے رجسٹرارسمیت منہاج القرآن گیااور 45 منٹ تک ڈیٹاکامعائنہ کیا۔

سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے حوالے سے جسٹس باقر نجفی نے اپنی رپورٹ میں آئی ایس آئی کی رپورٹ کو بھی شامل کیا ہے، آئی ایس آئی کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائش گاہ کے باہر لگے ہوئے بیرئیرز ہٹانے کے لئے آپریشن17جون2014ءکو رات ایک بجکر30منٹ شروع کیا گیا ۔ پولیس کی اس کوشش کو عوامی تحریک کے کارکنان کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ،پی آئی ٹی کے کارکنان نے پولیس پر پتھروں اور اینٹوں سے حملہ کیا۔ اس مزاحمت کے خلاف پنجاب پولیس کے ایک سب انسپکٹر میں اپنی پسٹل سے تین ہوائی فائر کئے ۔ ہوائی فائر کے بعد عوامی تحریک کے کارکنوں میں بھگدڑ مچ گئی ، صبح9بجکر20منٹ پر پولیس کی بھاری نفری نے طاہر القادری کے گھر کی جانب پیشقدمی شروع کردی ، لیکن اس پیشقدمی کے سامنے پی اے ٹی کے کارکنوں نے سخت مزاحمت دکھائی۔اسی دوران جب پولیس ڈاکٹر قادری کے گھر کے مرکزی دروازے تک پہنچی تو خواتین کارکنان ان کے خلاف ڈٹ گئیں اور شدید مزاحمت کی۔بعد ازاں دن11بجے پولیس نے ایلیٹ فورس کی مدد بھی حاصل کرلی ۔ آئی ایس آئی کی رپورٹ کے مطابق وہ طاہرالقادری کے گھرکی چھت سے گارڈزکی فائرنگ پروثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتے،پولیس فائرنگ سے 10 لوگ ہلاک،70 زخمی ہوئے جبکہ50 کو فائر لگے۔دن1بجکر 15منٹ پر ایس ایس پی آپریشنز نے ٹیلی فون پر آپریشن مکمل ہونے کی خبردی جبکہ پولیس کے اس آپریشن کے دوران علاقے میں موجود دکانوں اور دیگر املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

رپورٹ میں آئی ایس آئی کی رپورٹ کو بھی شامل کیا گیا ہے، رپورٹ کے مطابق ماڈل ٹاﺅن آپریشن کے دوران جب آئی ایس آئی کے سب انسپکٹر کو صورت حال کی سنگینی کا انداز ہ ہو اتو اس نے فوری طور پر وزیر اعلیٰ پنجاب کے سیکرٹری ڈاکٹر توقیر شاہ کو ٹیلی فون کیا، آئی ایس آئی کے سب انسپکٹر کی جانب سے اطلاع کے جواب میں ڈاکٹر توقیر کا کہنا تھا کہ وہ کچھ نہیں جانتے ، ان کی آج طبیعت خراب ہے اور وہ اپنے دفتر بھی نہیں جارہے۔

سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے حوالے سے جسٹس باقر نجفی کمیشن کے سامنے انٹیلی جنس بیورو نے بھی اپنی رپورٹ جمع کرائی ہے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 17جون2014ءکو صبح ساڑھے 9بجے پولیس نے عوامی تحریک کے سیکرٹریٹ کے سامنے لگے ہوئے بیرئرز ہٹانے کے لئے ایک اور کوشش کی ، جس کے دوران انہوں نے آنسو گیس کا استعمال کیا، پولیس نے عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری کے گھر کی جانب پیش قدمی شروع کردی اور جو ں ہی پولیس گھر کے مرکزی دروازے پر پہنچی ، اسی دوران گھر کی پہلی منزل کی بالکونی سے پولیس پر براہ راست فائرنگ کی گئی جس کی وجہ سے 2پولیس اہلکار زخمی ہوگئے ، اسی دوران آپریشن میں حصہ لینے والے پولیس کے جوانوں میں خبر مشہور ہوگئی کہ زخمی پولیس اہلکار جاں بحق ہوگئے ہیں۔

انٹیلی جنس بیورو(آئی بی) کی رپورٹ کے مطابق طاہر القادری کی رہائش گاہ کی جانب پولیس کی پیشقدمی جاری رہی، اس پیش قدمی کے دوران عوامی تحریک ، تحریک منہاج القرآن کے کارکنوں اور ہمدردوں نے پولیس اہلکاروں کو پتھر مارنا شروع کردئیے۔ اس کے ردعمل میں پولیس نے مظاہرین اور مزاحمت کاروں پر فائرنگ کی جس کی وجہ سے کئی افراد زخمی ہوئے ۔ پولیس نے مرد و خواتین سمیت پی اے ٹی کے متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا ، اس آپریشن کے دوران عوامی تحریک کے10کارکن جاں بحق ہوئے جبکہ 29 پولیس اہلکاروں اورکارکنان سمیت 96افرادزخمی ہوئے جبکہ عوامی تحریک کے45 کارکنان گولی لگنے سے زخمی ہوئے۔