امریکا نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرلیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیت المقدس (یروشلم) کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کی ہدایات جاری کردیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ‘کچھ امریکی صدور نے کہا کہ ان میں سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے کی ہمت نہیں لیکن بیت المقدس کو دارالحکومت تسلیم کرنے کا وقت آگیا ہے’۔
امریکی صدر نے اپنے متنازع فیصلے کے اعلان کے دوران کہا کہ یقین دلاتا ہوں کہ علاقے میں امن وسلامتی کے لیے کاوشیں جاری رہیں گی۔
انھوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کا مستقبل روشن اور شاندار ہے اور امن کے لیے مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کو متحد ہونا پڑے گا۔
فیصلے سے قبل فلسطینی حکام کے علاوہ ترکی، پاکستان، ایرانی سمیت مسلم دنیا کی جانب سے امریکا کے ممکنہ متنازع فیصلے کو مسترد کرنے کا اعلان کیا تھا۔
پاکستان کے وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ‘امریکا کی جانب سے اس طرح کے اقدام سے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کی صریح خلاف ورزی ہوگی’۔
بیت المقدس کے حوالے سے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی سفارت خانے کی منتقلی کا فیصلہ ‘مقدس شہر القدس الشریف کی قانونی اور تاریخی حیثیت کو تبدیل کردے گا’۔
امریکی متنازع ممکنہ فیصلے کے حوالے سے وزیراعظم ہاؤس کا کہنا تھا کہ ‘اس اقدام سے مسئلے پر دہائیوں سے موجود عالمی اتفاق رائے کو نقصان پہنچائے گا اور خطے میں پائیدار امن کے کسی بھی عمل کو ختم کرنے سمیت خطے کی سلامتی کو بھی زک پہنچائے گا’۔