ساحر لودھی کی چھوٹی سی بچی کیساتھ ایسی شرمناک حرکت کہ پورا پاکستان چیخ اٹھا، ہر کوئی شرم سے پانی پانی ہو گیا، جان کر آپ بھی غصے سے آگ بگولہ ہو جائیں گے

کراچی ( آن لائن) پاکستانی مارننگ شو انتہائی بیکار اور صرف وقت کا ضیاع ثابت ہوئے ہیں کیونکہ جہاں کچھ اچھا دیکھنے کو ملنا چاہئے وہاں صرف مرد اور خواتین ڈانس کرتی نظر آتی ہیں اور ایسی گفتگو بھی سنائی دیتی ہے جو غیر اخلاقی ہونے کیساتھ ساتھ بے شرمی سے بھی بھرپور ہوتی ہے۔

مارننگ شوز کے میزبان ناصرف کیمروں کے ساتھ بیٹھ کر لوگوں کیخلاف عجیب و غریب باتیں کرتے ہیں بلکہ اپنے پروگرام میں مختلف مشہور شخصیات کو بلا کر انتہائی عجیب و غریب اور گھٹیا سوالات بھی پوچھتے ہیں تاکہ ان کا پروگرام زیادہ سے زیادہ ریٹنگ حاصل کر سکے۔

پاکستانی اداکار اور میزبان ساحر لودھی نے تو اس معاملے میں تمام حدیں ہی پار کر دی ہیں اور اپنے پروگرام میں نوعمر بچیوں اور بچوں کیساتھ ایسی شرمناک حرکتیں کر رہے ہیں کہ پورا پاکستان چیخنے پر مجبور ہو گیا ہے۔

ساحر لودھی آج کل ”آپ کا ساحر ڈانس کمپی ٹیشن سیزن 2“ کی میزبانی کر رہے ہیں جس میں نوعمر لڑکیوں اور لڑکوں کے درمیان ڈانس کا مقابلہ کروایا جاتا ہے۔ شرمناک بات یہ ہے کہ اس مقابلے میں بھارتی گانوں پر ڈانس کروایا جا رہا ہے اور وہ بھی آئٹم نمبرز پر، جن کے الفاظ بے شرمی سے بھرپور ہوتے ہیں۔

اور اس مقابلے کیلئے منتخب کئے جانے والے گانوں کو لے کر ہی پورے پاکستان میں ہلچل برپا ہے اور ہر کوئی شدید تنقید کر رہا ہے۔ مثال کے طور پر ایک چھوٹی بچی کو بھارتی آئٹم سانگ ”چکنی چمیلی“ پر ڈانس کرنے کی ویڈیو منظرعام پر آئی تو پھر ایک اور گھٹیا گانے پر لڑکے اور لڑکی کو اکٹھے ڈانس کرتے دکھایا گیا۔
۔۔۔ویڈیو دیکھیں۔۔۔

ان ویڈیوز نے جہاں پورے پاکستان کے لوگوں کو غم و غصے میں مبتلا کر دیا ہے وہیں ایسے پروگرامز کو بند کرنے اور ان کیخلاف کارروائی کی آوازیں بھی بلند ہو رہی ہیں اور عوام کے کیا تاثرات ہیں؟ نیچے دئیے گئے چند کمنٹس دیکھ کر آپ بخوبی سمجھ جائیں گے۔

ساحر لودھی بے غیرت، سب ریٹنگ کا کمال ہے۔ ریٹنگ کیلئے کچھ بھی کرو۔ ماں باپ کی بھی غلطی ہے کیوں اپنے بچوں کو ایسی باتیں سکھاتے ہیں؟ قیامت کی نشانیاں ہیں، اللہ سب کو ہدایت دے۔

ایک اور صارف نے لکھا ”گزشتہ رات مجھے چند بچیوں کا ڈانس دیکھنے کا موقع ملا۔۔۔ ان کا ڈانس بہت ہی فحش تھا۔ توبہ۔ میں سوچنے پر مجبور ہو گئی کہ والدین اپنے بچوں کو اس طرح کے ڈانس کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں۔۔۔ میرا مطلب کہ کیا وہ پاگل ہو گئے ہیں یا یہ کیا ہے۔“

ایک اور صارف آپ بیتی سناتے ہوئے لکھا ”ایسا ہی ہے وہ۔۔۔ میں خود کیا ہوں اس کے شو میں غلطی سے، مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو گئی تھی۔ دیکھ لیا تھا کہ کس طرح بے عزت کر کے یہ لوگ چیزیں دیتے ہیں۔ رمضان میں تو یہ سب اپنی جان پہچانے والوں کو چیزیں دے رہے تھے۔“

ایک اور صارف کا کہنا تھا ”جہالت اپنے عروج پر۔۔۔ ان میں سے بہت سی بچیاں بعد میں اپنے خواب پورے کریں گی۔ یہ بچیاں ساحر لودھی کو نہیں بلکہ اپنے والدین کی نمائندگی کر رہی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ انہیں اس پر فخر ہو لیکن میرے خیال سے۔۔۔“

ایک صارف کا کہنا تھا ”بہت ہی شرمناک ۔۔۔ ان گھٹیا مارننگ شوز اور ساحر لودھی کو شرم آنی چاہئے۔ اور اپنے بچوں کو اس طرح کا ڈانس کرنے پر حوصلہ افزائی کرنے والے والدین کو زوردار طمانچہ رسید کرنے کی ضرورت ہے۔“

ایک صارف نے لکھا ”ساحر لودھی کی غلطی ہے یا اس لڑکی کے والدین کی؟ بھارتی ثقافت کو فروغ دے رہے ہیں۔“

ایک اور صارف نے ساحر لودھی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا ”ساحر لودھی عذاب کا غقدار بن رہا ہے دوسروں کی بیٹیوں کو نچا کر۔۔۔ اپنی بیٹی کو بھی نچائے پھر پتا چلے۔“

ایک اور صارف کا کہنا تھا ”اس کا پروگرام دیکھنا بہت ہی شرم کی بات ہے۔ یہ صبح سویرے لوگوں پر برا اثر ڈال رہے ہیں اور لوگوں کو دکھا رہے ہیں کہ فحش گانوں پر کیسے ڈانس کرنا ہے۔“