افغان باشندے آخر ہمیں بُرا کیوں سمجھتے ہیں؟ زاہد حسین

پاکستان دشمنی کا احساس صرف افغان حکومت تک ہی محدود نہیں بلکہ اِس سے بھی زیادہ پریشان کُن بات تو یہ ہے کہ افغان عوام بھی پاکستان کے حوالے سے شدید مخالفانہ جذبات رکھتے ہیں۔ جہاں گزشتہ کچھ برسوں کے دوران اِس غصے میں اضافہ ہوا ہے وہاں کابل میں لوگوں کی اکثریت پاکستان کو ہی اپنی تمام تر تکلیفوں کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔

ایسے احساسات خاص طور پر افغان معاشرے کے شہری اور پڑھے لکھے حلقوں میں واضح محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ بہت ہی کم ایسے لوگ ہیں جو پاکستان کو مثبت نظر سے دیکھتے ہیں۔

اِن ساری باتوں کا اندازہ مجھے گزشتہ ہفتے کابل کی ایک نجی یونیورسٹی میں طلبہ سے گفتگو کرکے ہوا۔ تعلیم وہ واحد شعبہ ہے جس نے ملک میں گزشتہ دہائی کے دوران بدترین سیاسی عدم استحکام اور پھیلتی بغاوت کے باوجود سب سے زیادہ ترقی کی ہے۔ سینکڑوں بلکہ ہزاروں طلبہ شہر کی ایک درجن سے زائد یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ہیں، جو کہ زوال پذیر افغان طالبان حکومت کے بعد سے ہونے والی سب سے بڑی تبدیلی ہے۔

سیمینار میں جن طلبہ سے گفتگو ہوئی اُن میں سے زیادہ تر طلبہ نے پاکستان کے بارے ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا کہ پاکستان کسی ولن کی طرح افغانستان کے کئی مسائل کا ذمہ دار ہے۔ حاضرین میں زیادہ تر ایسے لوگ بیٹھے تھے جو یا تو پاکستان میں پیدا ہوئے تھے یا پھر جن کے والدین دہائیوں تک وہاں پناہ گزین رہے تھے۔ کئی افراد نے پاکستان کے بارے میں شکایت کی کہ پاکستان اُن باغیوں کی حمایت کرتا ہے جو ہزاروں افغان باشندوں کی موت کے ذمہ دار ہیں۔ پاکستان پر عدم اعتمادی کا احساس واضح طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے۔ افغانستان کے دارالحکومت میں کسی ایسے شخص کو ڈھونڈنا بہت ہی مشکل ہے جو پاکستان کے حق میں بولنے کے لیے تیار ہو۔

ستم ظریفی کا عالم دیکھیے کہ افغان حکومت کی کابینہ اور اعلیٰ افسران میں ایسے افراد شامل ہیں جن کی زندگیوں کا ایک بڑا حصہ پاکستان میں گزرا اور یہاں کی مہمان نوازی سے مستفید بھی ہوئے۔ مخالفانہ جذبات صرف کسی خاص نسلی گروہ تک ہی محدود نہیں، بلکہ سبھی میں پائے جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ سابق طالبان افسران جو اب کابل میں رہائش پذیر ہیں وہ بھی اُس ملک کے لیے یعنی پاکستان کے لیے کچھ خاص ہمدردی نہیں رکھتے جو کسی وقت میں اُن کا سرپرست ہوا کرتا تھا۔ تاہم افغانستان کے دیگر حصوں میں عوامی جذبات کے بارے میں کچھ وثوق سے نہیں کہا جاسکتا۔

یقیناً، ہمارے سویلین اور فوجی قیادت کے لیے یہی ٹھیک رہے گا کہ وہ افغانستان میں بڑھتے پاکستان مخالف جذبات کو رد کرتے ہوئے اُنہیں محض ’حریف قوتوں‘ کی چال قرار دیں، لیکن یہ تردید ہمارا تاثر بہتر کرنے میں کچھ خاص مددگار ثابت نہیں ہوگی۔ یہ بات بھی ٹھیک ہے کہ اِس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان کو بدنام کرنے اور سرحد پار جنگ زدہ ملک میں ہونے والی تمام تر تباہیوں کے لیے پاکستان کو بَلی کا بکرا بنانے کی منظم مہم چلائی جاتی رہی ہیں، لیکن آپ کو ہماری اِن کمزور پالیسیوں اور رویے کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے جو افغانستان کے اندر عوامی مخالفت کو مزید بڑھکانے کا باعث بن رہے ہیں۔

پاکستان کی بڑھتی ہوئی تنہائی کی ایک بڑی وجہ ہماری افغان پالیسی بھی ہے، جو کہ سیکیورٹی نکتہ نظر کو برتر جبکہ سفارتی نکتہ نظر کو ثانوی حیثیت دیتے ہوئے ترتیب دی گئی ہے۔ قابلِ فہم طور پر، خطے میں چار دہائیوں سے جاری لڑائی اور اُس میں پاکستان کی بطور فرنٹ لائن ریاست کی حیثیت نے سیکیورٹی ایجنسیوں کا کردار بڑھا دیا ہے۔ لیکن پالیسی سازی اور اُس پر عمل درآمد کا تمام تر کام صرف سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ پر ہی نہیں چھوڑ دینا چاہیے۔

درحقیقت لڑائی کے وقتوں میں تو سفارت کاری کو ہی سب سے زیادہ کردار ادا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہماری خارجہ پالیسی کو مشکلات کا سامنا اِس لیے رہا ہے کیونکہ اِس کی سمت صرف اور صرف قومی سلامتی کے تناظر میں متعین کی جاتی رہی ہے، اِس سمت کو خطے میں تیزی سے بدلتی جغرافیائی و سیاسی صورتحال کی روشنی میں ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ بلاشبہ، ماضی کے ساز و سامان اور نئی گریٹ گیم کا مرکز بنے ہوئے افغانستان کے ساتھ ہمارے پالیسی سازوں کے لیے اِس پیچیدہ راستے پر اترنا آسان نہیں۔

لیکن پرانے طرزِ عمل پر قائم رہنے سے شاید چیلنجز نمٹنے میں مدد نہ ملے۔ کابل میں چاہے کسی کی بھی حکومت قائم ہو، ہمیں اُس کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے اور اُس کی خود مختاری کا احترام کرنا چاہیے۔ ماضی میں ’دوستانہ‘ پختون اکثریتی حکومت کے ساتھ ہماری چاہت کی وجہ سے پاکستان مخالف جذبات کو کافی ہوا ملی ہے۔

افغانستان میں ہندوستان کی بڑھتی ہوئی موجودگی کے حوالے سے ہماری سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے خدشات قابل فہم ہیں لیکن اِس مسئلے کو اِس حد تک نہ طول دیا جائے کہ ہمارا پورا فیصلہ سازی کا عمل ہی اِس کی لپیٹ میں آجائے. افغانستان میں ہندوستان کی موجودگی محدود کرنے پر ہمارا زور دینا افغان باشندوں کو سب سے زیادہ پریشان کرتا ہے. وہ اِس عمل کو اُن کے داخلی معاملات میں دخل اندازی کے طور پر دیکھتے ہیں۔

بلاشبہ پاکستانی عسکریت پسند گروہوں کو سرحد پار فراہم ہونے والی پناہ گاہیں اور اُن گروہوں کے ساتھ مبینہ ہندوستانی کنیکشن اسلام آباد اور کابل کے درمیان تناؤ کی ایک بڑی وجہ بن چکی ہے، لیکن پاکستانی حدود میں کام کرنے والے افغان باغی گروہوں کے حوالے سے الزامات بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔

طالبان باغیوں کو حاصل پاکستان کی مبینہ حمایت پر نہ صرف سرکاری اجلاسوں میں بلکہ عوام کی جانب سے بھی سوال اٹھایا جاتا ہے۔ نوجوان نسل، طالبان باغیوں کے اُبھار کو تعلیم کے میدان میں حاصل ہونے والی ترقی کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق زیادہ تر یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم لڑکیوں کی تعداد لڑکوں سے تجاوز کرچکی ہے اور وہ اِس رجحان کو جاری و ساری رکھنا چاہتے ہیں۔

ہمیں نہ صرف کابل حکومت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی ضرورت ہے بلکہ ساتھ افغان باشندوں کے ساتھ دوریاں بھی مٹانے کی ضرورت ہے۔ اپنی جغرافیائی اور ثقافتی قربت سے ہم اُن کی عوامی خیر خواہی جیتنے، اور مخالفانہ جذبات کے خاتمے کے لیے اُن کے ساتھ معاشی اور تجارتی تعلقات مضبوط بنانے میں ناکام ہوئے ہیں۔ افغان پالیسی میں نہ صرف جغرافیائی سیاست بلکہ جغرافیائی اقتصادیات بھی انتہائی اہم ہونی چاہیے۔

افغان مہاجرین کو واپس بھیجنے اور سرحد پار سفر پر پابندیاں عائد کرنے جیسے حالیہ پاکستانی اقدامات سے مخالفانہ جذبات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ کئی لوگ ویزا کے لیے لمبی قطاروں اور طبی علاج کے لیے پشاور جانے میں پیش آنے والی دشواریوں کے بارے میں شکایات کرتے ہیں۔

لیکن اب ایسے کئی لوگ ہندوستان کی پرواز بھر رہے ہیں۔ ہندوستان علاج کی غرض سے آنے والے افراد کو سبسڈی کے ساتھ ہوائی سفر کرنے کی سہولت بھی فراہم کررہا ہے، لیکن دوسری طرف ہم نے بارڈر مینجمنٹ کے بہانے عائد کی جانے والی غیر ضروری سفری پابندیوں کے باعث ہم نے افغان باشندوں کو خود سے دور کردیا ہے۔ اِس اقدام سے تجارت بھی متاثر ہوئی ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستانی برآمدکاروں کو زبردست نقصان کا سامنا ہے۔

اگرچہ پاکستان افغانستان کا سب سے بڑا تجارتی ساتھی رہا ہے، لیکن ایران اور وسطی ایشیاء کی افغان منڈیوں تک رسائی سے جلد ہی یہ صورتحال بدل سکتی ہے۔ رواں سال ایک ماہ سے زائد عرصے تک بارڈر کو بند رکھنے کے اقدام سے افغانستان کے ساتھ ہماری برآمدات کو ناقابل تلافی دھچکا پہنچا ہے جوکہ 2014ء میں 2 ارب ڈالر سے 5 ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھی۔

اِس قسم کے تنگ نظر اور جلد بازی میں اُٹھائے گئے اقدامات کے سبب افغانستان سے وابستہ ہمارے مفادات کو بڑی حد تک متاثر کیا ہے۔ لہٰذا افغان نوجوان ہمارے بارے میں جو محسوس کرتے ہیں وہ حیرانی کا باعث نہیں۔